غامدی صاحب اور سائنس

Published On April 7, 2025
غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل  اس مضمون میں ہم جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا ایک مختصر مگر جامع تنقیدی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ غامدی صاحب کا نظریہ اخلاق درحقیقت اسلام کے بجائے مغربی ما بعد الطبیعیات پر مبنی ہے اور امت مسلمہ کو اعتزال قدیمہ کی راہوں پر ڈالنے کی مکمل...

غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر دور اور ہر قوم میں اپنے انبیا و رسل بھیجے اور ان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ۔اس وحی کے نزول کے دو طریقے ہیں  اول ۔  بعض اوقات یہ وحی لفظاً ہوتی ہے یعنی اس میں الفاظ بھی اللہ کے...

اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

ابو عمار زاہد الراشدی جناب جاوید احمد غامدی کا ایک حالیہ مضمون ان دنوں دینی حلقوں میں زیر بحث ہے جس میں انہوں نے بنیادی طور پر یہ تصور پیش کیا ہے کہ اسلام کا خطاب فرد سے ہے سوسائٹی سے نہیں ہے، اور اسلام کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے اس وقت عالم اسلام میں...

اسلام میں پردے کے احکام اور غامدی صاحب

اسلام میں پردے کے احکام اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی ساتویں صدی ہجری کے معروف مفسر قرآن امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاریؒ نے ’’تفسیر قرطبی‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے علمی حلقے میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی...

رجم کی شرعی حیثیت اور غامدی صاحب

رجم کی شرعی حیثیت اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی ہم محترم جاوید احمد غامدی صاحب کا یہ ارشاد گزشتہ کالم میں پیش کر چکے ہیں کہ سنت ان کے نزدیک دین ابراہیمیؑ کی کسی ایسی روایت کے تسلسل کا نام ہے جسے جناب نبی اکرمؐ نے بھی مناسب ترمیم و اضافہ کے ساتھ باقی رکھا ہو۔ ان کے اس ارشاد کی کسوٹی پر ہم رجم...

غامدی صاحب اور خبر واحد

غامدی صاحب اور خبر واحد

ابو عمار زاہد الراشدی علماء کے سیاسی کردار، کسی غیر سرکاری فورم کی طرف سے جہاد کے اعلان کی شرعی حیثیت، علماء کرام کے فتویٰ جاری کرنے کے آزادانہ استحقاق، اور زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی شرعی ممانعت کے حوالہ سے محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے بعض حالیہ ارشادات کے...

محمد حسنین اشرف

“حقائق کی وضاحت حقیقت نہیں ہوتی”

یہ بات نہایت اہم ہے کہ آپ کسی علم کے بارے میں عمومی رائے کیا قائم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی عمومی رائے آپ کو پھر اس کی تھیوریز وغیرہ سے متعلق رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے سائنس پر میٹا لیول گفتگو کو پہلے کرنا چاہیے پھر اس میدان میں اُترنا چاہیے۔ اس لیے کہ جب بھی کوئی نان اسپیشلسٹ یا عام آدمی، تکینکی سائنسی مضامین میں استعداد پیدا کئے بغیر بلکہ یہاں تک کہ سائنس کے ایک مضمون کے ایک موضوع کا ماہر جب اُسی مضمون کے دوسرے موضوع یا کسی دوسرے سائنسی مضمون کی طرف رجوع کرتا ہے تو عموما مشکل کا شکار ہوتا ہے۔ سو میری رائے یہ ہے کہ وہ لوگ جو میری طرح سائنسدان نہیں ہیں ان کے لیے بہترین میدان میٹا لیول گفتگوئیں ہیں اور وہیں سے وہ اس علم اور دوسرے علوم سے متعلق رائے قائم کرسکتے ہیں اور مذہبی لوگوں کو پہلے کارٹیزین ذہن سے نکلنا چاہیے اور پھر سائنسی علم کی طرف مراجعت کرنی چاہیے۔

خیر غامدی صاحب کے اس جملے کی طرف آتے ہیں (مکمل ویڈیو میں لنک میں لگا دوں گا)۔ بہت سادہ الفاظ میں غامدی صاحب کی سائنس سے متعلق یہ رائے بہت پرانی اور بہت نادرست ہے۔ جاوید صاحب چونکہ میرے والد کی جگہ پر ہیں اس لیے ان سے متعلق اتنا براہ راست جملہ لکھتے ہوئے مجھے بہت حیا آتی ہے لیکن بہرکیف، ہماری محبت کا اظہار یہی اختلاف ہے اور یہ اظہار ہم دم بہ دم کرتے رہیں گے۔

اس جملے کے پیچھے ایک مفروضہ ہے اور وہ مفروضہ نہ تو حقائق کے متعلق عمومی طور پر درست ہے اور نہ سائنسی حقائق سے متعلق درست ہے۔

پہلے اس بات کی وضاحت کرلیتے ہیں کہ حقائق اور حقائق کی توضیح سے کیا مراد ہوتا ہے۔ غامدی صاحب حقیقت یا فیکٹ کسی بھی ایسی شے کو کہیں گے جسے آپ ایک ڈیٹا پوائنٹ کہہ لیں۔ مثلا آپ صبح اُٹھے اور آپ نے دیکھا کہ سورج طلوع ہو رہا ہے۔ یہ ایک مشاہدہ، ایک ڈیٹا پوائنٹ اور ایک حقیقت ہے۔اب اس حقیقت کی توضیح اگلا مرحلہ ہے۔ توضیح میں پھر آپ اپنے اس مشاہدے سے متعلق مزید سوال کرتے اور ان کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سورج طلوع کیسے ہوتا ہے، یہ سورج پیلا کیوں ہے۔ یوں آپ کا ایک مشاہدہ اب محض مشاہدہ نہیں رہتا بلکہ علم کی صورت اختیار کرنے لگ جاتا ہے۔ یہ علم قابل “اعتماد” ہونے لگتا ہے جب آپ اپنے ان مفروضوں کو تجربات اور مشاہدات اور پھر پیشین گوئیوں جیسے مراحل سے گزار لیتے ہیں۔ اس لیے غامدی صاحب حقائق اور حقائق کی وضاحت میں فرق کر رہے ہیں۔ یہاں تک غامدی صاحب کی بات کچھ حد تک ٹھیک ہے کہ یہ سائنس کے دو حصے ہیں۔

اب غلطی کہاں لگ رہی ہے اسے دیکھتے ہیں۔

غامدی صاحب کی اس بات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقت چونکہ “خالی” مشاہدہ ہوتا ہے جبکہ نظریہ میں دوسری چیزیں یعنی میرے تعصبات، میری کمی و کجی (میری یعنی سائنسدان کی) شامل ہوجاتی ہے تو اس لیے وہ حقیقت یا فیکٹ کی نسبت قابل اعتماد نہیں ہے۔ یہ درست اس لیے نہیں ہے کہ سائنس میں کوئی بھی حقیقت یا فیکٹ جس مشقت سے قابل اعتماد بنتا ہے اور نظریہ جس مشقت سے قابل اعتماد بنتا ہے۔ دونوں میں اعتماد کے اعتبار سے کوئی تفریق نہیں برتی جاتی۔ ایک نظریہ جب قابل اعتماد بن جاتا ہے تو اس کو ہم ویسے ہی کھپاتے ہیں جیسے کوئی مشاہدہ قابل اعتماد بن جائے۔ اس میں دو چیزیں پیش نظر ہیں:

۔۱۔ اول تو یہ بات بہت اچھے سے یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی مشاہدہ “خالی” نہیں ہوتا، میں کبھی بھی مشاہدہ خلا میں نہیں کرتا بلکہ اس سے پہلے کچھ نہ کچھ کام ہوتا ہے جو میرے مشاہدے کو گائیڈ کرتا ہے۔ فرض کریں آپ رینڈم مشاہدے کرنا بھی شروع کردیں جب بھی وہ ایک مشاہدہ لایعنی شے ہے یا تو وہ مشاہدہ کوئی سوال پیدا کرے گا جس سے مزید مشاہدات کی جگہ پیدا ہوگی یا پھر اس مشاہدے سے متعلق کچھ مزید چیزیں دیکھی جائیں گی۔

اچھا آپ بلاوجہ کچھ سوچے سمجھے بغیر مشاہدہ شروع کردیں جب بھی وہ مشاہدہ لایعنی ہوگا۔ آپ ہر روز اٹھیے اور سورج کو مشرق سے نکلتا دیکھیے۔ دیکھتے جائیے۔ یہ مشاہدہ ایک لایعنی حرکت ہے اس سے علم بننے کا عمل نہیں ہوسکتا۔ اس مشاہدے کی اہمیت اس نظریے سے ہے، الف) جس نظریے کے لیے یہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے، ب) جس نظریے میں اس مشاہدے کو استعمال کیا جائے گا۔ ورنہ آپ روز اٹھ رہے ہیں اور سورج دیکھ رہے ہیں اور بس!

۔۲۔ ہم سائنس میں نظریات کو بہت طریقوں سے فیکٹ (یہ تقسیم نہایت عجیب ہے اور سائنسی علم کی نوعیت کو سمجھنے میں روکاٹ پیدا کرتی ہے) کی طرح ہی کھپاتے ہیں۔ مثلا مائیکرواسکوپ کے بارے میں سوچیے۔ مائیکرو اسکوپ محض چند مشاہدات کی بنیاد پر ایجاد نہیں کرلی گئی بلکہ اس کو ایجاد کرکے بنانے میں بہت سے سائنسی نظریات کارفرما ہیں۔ ہم جب آنکھ کے مشاہدے سے زیادہ مائیکرواسکوپ کے مشاہدے پر یقین کرتے ہیں تو ہم اصلا ان سائنسی نظریات پر یقین کر رہے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ ایجادات ممکن ہوسکی ہیں۔ اور پھر جب بھی کوئی آلہ جو کسی نظریے کی بنیاد پر بنا ہو اس سے ہم مشاہدہ کرتے ہیں، الف) خالی مشاہدہ نہیں کرتے یعنی خالی فیکٹ نہیں تلاش کرتے، ب) ہم اس نظریے کو فیکٹ یا حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

سو سائنس، حقائق (فیکٹس) اور نظریات (ان فیکٹس کی وضاحت) دونوں کے مل جُل کر کام کرنے سے بنتی ہے۔ اس لیے نظریہ یا تھیوری کو فیکٹس یا حقائق سے لڑوانا درست کام نہیں ہے۔ ایک مزید بات:۔

۔۳۔ فیکٹ کے بارے میں یہ بہت غلط فہمی ہے کہ وہ “خالی مشاہدہ” ہوتا ہے۔ اس کو یوں دیکھیے کہ کوئی بھی فیکٹ کب فیکٹ بنتا ہے؟ مثلا
میں اگر یہ مبنی بر حقیقت جملہ بولنا چاہتا ہوں کہ سورج ہر روز مشرق سے نکلتا ہے تو یہ فیکٹ یا حقیقت کتنے دن کے مشاہدے کے بعد بن جائے گی؟ اس لئے سائنسدان کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ اس کے کام کے لیے
evidence
کیا شے ہے اور اسے وہ کتنی مقدار میں درکار ہے۔ اسے فلسفہ سائنس میں
value judgement
کی مستقل ابحاث میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سو جس قدر مسائل کسی بھی نظریے میں ہوسکتے ہیں اسی قدر مسائل کسے مشاہدے یا فیکٹ میں ہوسکتے ہیں۔

مزید یہ کہ ماخ اور آئن اسٹائن کی آرا اس پر بہت دلچسپ بحث رہی ہے خود ماخ نے لفظ فیکٹ کو بہت
dissect
کیا ہے اور آئن اسٹائن کے ہاں بہت کام ہے جو ماخ سے مختلف ہے۔ اس لیے غامدی صاحب جس نظریہ سائنس کو لے کر نظریہ ارتقا کا تیاپانچہ کرتے ہیں اس سے شاذ ہی درست نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پرانا اور لوجیکل پازیٹیوسٹوں والا نظریہ ہے۔اس سے اب کچھ خیر برآمد نہیں کی جاسکتی اس لیے مجھے یہ بہتر محسوس ہوتا ہے کہ ہم سائنس سے متعلق اپنی میٹا لیول گفتگو کو پہلے بہتر کریں۔

باردگر، حقائق کی وضاحت بھی حقیقت ہوسکتی/ہوتی ہے جب وہ سائنسی طریقہ کار سے گزر کر اسٹیبلش ہوچکی ہو۔ جس طرح نیوٹن کے ہاں سیب کے زمین کی طرف گرنے کی حقیقت کی وضاحت یعنی گریویٹی ایک حقیقت ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.