کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے

Published On September 10, 2024
تصوف کے حوالے سے چند فکری مغالطے

تصوف کے حوالے سے چند فکری مغالطے

احمد بن الیاس گزشتہ کافی عرصے سے ایک بات مسلسل مشاہدے میں آرہی ہے۔ دو بظاہر متضاد طبقات یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ تصوف مرکزی دھارے کے اسلام سے علیحدہ مسلم مذہبی روایت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ان دونوں طبقات کے محرکات الگ ہیں۔ ایک طبقہ ایسا تاثر دے کر تصوف کی نفی و مذمت...

غامدی صاحب اور خانقاہ

غامدی صاحب اور خانقاہ

ڈاکٹر زاہد  مغل غامدی صاحب کے ادارے "المورد" کے تحت "خانقاہ" قائم ہوئی ہے جسے لے کر ان پر نقد ہورہا ہے کہ ساری عمر جس تصوف پر نقد کرتے رہے آخر میں اسی کے ادارے کو لے لیا۔ اس بابت پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ ان کا تصاد نہیں ہے، اپنے تئیں وہ ہمارے اھل حدیث حضرات، مولانا...

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب

حسن بن علی تقسیم میراث كى بعض صورتوں میں بالاتفاق یہ صورتحال پیش آتی ہے کہ جب ورثاء کے حصے  ان کے مجموعى مفروض نصیب سے بڑھ جاتے ہیں تو ایسی صورتحال تزاحم کی صورتحال ہے يعنى ایسے میں تمام ورثاء کو اپنے مقررہ حصے دینا ممکن نہیں رہتا. جیسے ایک عورت نے اپنے پیچھے شوہر ماں...

تقابل علوم و عقائد: غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

تقابل علوم و عقائد: غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

عمران شاہد بھنڈر بظاہر تو یہ بات بہت عجیب سی لگتی ہے کہ علوم و عقائد کے درمیان کوئی تقابل کیا جائے، اور پھر اس تقابل کے دوران چند غلط نتائج نکال کر اپنے عقائد کو فاتح قرار دے دیا جائے۔ مستزاد یہ کہ اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ مذہب کا اصل موضوع ’موت‘ اور موت کے بعد...

غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

اپنی کتاب ' میزان ' میں لکھتے ہیں کہ ''یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جو قراء تیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں، یا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں، وہ سب اسی فتنۂ...

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب لکھتے ہیں "مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک...

سید خالد جامعی

ہمارے محترم دوست جناب سمیع اللہ سعدی صاحب نے تکفیر کے مسئلے پر غامدی صاحب کا ایک مضمون کل ارسال فرمایا اور ہمارا نقطہ نظر جاننے کی خواہش ظاہر کی. اس کا تفصیلی جواب زیرتحریر ہے. ان کی خواہش کی تعمیل تکمیل میں ایک مختصر تحریر میرے محترم غامدی صاحب کے غور و خوض کے لیے حاضر خدمت ہے. اس تحریر میں مشرکین اور کفار کے خلاف غامدی صاحب کے فتوے ان کی دو کتابوں مقامات اور البیان سے جمع کردیے گئے ہیں. امید ہے سعدی صاحب اسے ان کی خدمت میں ارسال کردیں گے، اور ان سے صرف یہ پوچھ لیں گے کہ حضرت والا آپ تو سب کو کافر و مشرک کہتے ہیں لیکن امت کے علماء کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کسی کو کافر و مشرک نہیں کہہ سکتے۔
اول ۔ غیر مسلموں کو کفار و مشرک کہا جاسکتا ہے: غامدی، البیان، لاہور، المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء، ص۲۹۲، مقامات، طبع سوم، لاہور المورد، جولائی ۲۰۱۴ء،ص ۱۹۶
دوم ۔ مسلمان پابند ہیں کہ سرزمین حرم کو باطل کی آلودگی سے پاک رکھیں اور یہاں کسی مشرک و کافر کو رہنے کی اجازت نہ دی جائے: غامدی، البیان ،جلد دوم ،لاہور، المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء، ص ۲۹۲،غامدی، مقامات ،۲۰۱۴ء،ص۱۹۶، محولہ بالا
سوم ۔ سر زمین حرم، جزیرۃ العرب میں کسی کافر مشرک کو رہنے بسنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، یہ احکام توحید کے اسی مرکز سے متعلق ہیں: غامدی، مقامات،۲۰۱۴ء، ص ۱۹۶،محولہ بالا
چہارم ۔ سرزمین حرم میں کافر و مشرک صرف عارضی طور پر رہ سکتے ہیں، کسی کافر و مشرک کو مستقل طور پر رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: غامدی ،البیان،جلد دوم، ص ۲۹۲، محولہ بالا
پنجم ۔ قانون اتمام حجت کے تحت فلسطین اور کنعان کا علاقہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے خاص کر دیا ہے چنانچہ بنی اسرائیل کو اسی بنا پر حکم دیا گیا کہ اپنی میراث کے اس علاقے کو اس کے باشندوں سے خالی کرا لیں، اس میں کسی فرد مشرک کو زندہ نہ چھوڑیں اور نہ اس کی سرحدوں سے متصل کسی علاقے میں کافروں اور مشرکوں کی کوئی حکومت قائم رہنے دیں، استثناء کے باب ۲۰ میں یہ حکم پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے. سلیمان ؑ نے ملکہ سباء کو اسی کے تحت تسلیم و انقیاد کے لیے مجبور کیا تھا : غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء، ص ۱۹۵،۱۹۶، محولہ بالا
ششم ۔  اسی فیصلے (قانون اتمام حجت) کی ایک فرع یہ ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کا علاقہ بنی اسمعٰیل کے لیے خاص کر دیا ہے تاکہ دنیا کی سب قومیں ان کے ساتھ (بنی اسرائیل کے ساتھ) اس کی معیت کا مشاہدہ کریں اور ہدایت پائیں: غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۹۵،محولہ بالا
ہفتم ۔  قانون اتمام حجت اور تورات کے استثناء کے باب ۲۰ کے تحت فتح مکہ کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں مشرکین کے تمام معابد اسی کے تحت ختم کیے گئے۔ موطا کی حدیث جزیرہ نمائے عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے. (موطا،رقم،۲۶۰۷) کی ہدایت بھی اسی کے تحت ہے: غامدی،مقامات،۲۰۱۴ء،ص ۱۹۶، محولہ بالا
ہشتم ۔  سرزمین عرب میں قانون اتمام حجت اور تورات استثناء کے باب ۲۰ کے تحت نہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے کوئی معبد تعمیر کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی کافر و مشرک کو رہنے بسنے کی اجازت دی جاسکتی ہے: غامدی، مقامات،۲۰۱۴ء، ص ۱۹۶، محولہ بالا
نہم ۔  اسلام کے سوا تمام دین منکرین کے دین ہیں، تمام منکرین کافر و مشرک ہیں: غامدی، البیان، جلددوم، ص ۲۹۲، محولہ بالا
دہم ۔  اسلام کے سوا تمام مذاہب عالم باطل کی آلودگی ہیں لہٰذا سرزمین حرم میں اسلام کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہ جائے. یہ مرکز باطل کی ہر آلودگی سے پاک رہے. مسلمان پابند ہیں کہ سرزمین حرم کی یہ حیثیت قیامت تک برقرار رکھیں اور کسی کافر و مشرک کو یہاں مستقل رہنے کی اجازت نہ دی جائے : غامدی، البیان، جلد دوم، ص ۲۹۲، محولہ بالا
ظاہر ہے جب تک کسی کو کافر و مشرک قرار نہیں دیا جائے اسے جزیرۃ العرب اور سرزمین حرم سے باہر نہیں نکالا جاسکتا تو کیا کافر و مشرک کو اب جزیرۃ العرب اور سرزمین حرم میں مستقل رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے؟

بشکریہ دلیل

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…