۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

Published On March 14, 2025
شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

مولانا محبوب احمد سرگودھا   پہلی تحریر میں عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء" کے بارے میں غامدی صاحب کے نظریہ کا تجزیہ پیش کیا گیا، اس تحریر میں  اُن کے نزول الی الارض کے بارے میں غامدی صاحب کا نظریہ پیش خدمت ہے:۔  اولاً غامدی صاحب کی عبارت ملاحظہ کی جائے ، اپنی...

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

غامدی صاحب اور ’چند احکام‘ کا مغالطہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کا معروف موقف ہے کہ حکومت و سیاست سے متعلق شریعت نے بس چند احکام ہی دیے ہیں۔ بسا اوقات سورۃ الحج کی آیت 41 کا حوالہ دے کر ان چند احکام کو ’بس چار احکام‘ تک محدود کردیتے ہیں: نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے...

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب

علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب “فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی میں” سے دو صفحات کا عکس دیا گیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ متکلمین ذات باری کے وجود پر دلائل قائم کرتے ہیں لیکن قرآن اس پر دلیل نہیں دیتا، قرآن کی نظر میں یہ مسئلہ ایسا اہم ہے ہی نہیں کہ اس پر دلائل دئیے جائیں اس لئے کہ قرآن کے مخاطبین بشمول مشرکین مکہ خدا کو مانتے تھے نیز خدا کو ماننا تو فطری ہے۔ یہاں آپ اس کے بدیہی بلکہ ابدہ البدیہیات ہونے کا دعوی فرمارہے ہیں۔ قابل غور بات یہاں یہ ہے کہ جو قرآنی آیت انہوں نے یہاں پیش کی ہے اس کا ان کی شہ سرخی کے دعوے سے کوئی تعلق نہیں۔ خود ان کے اپنے دعوے کے بقول اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ مشرکین مکہ خدا کو مانتے تھے۔ خدا کو ماننا ابدہ البدیہیات ہے، اس کے لئے انہوں نے کوئی عقلی و نقلی دلیل پیش نہیں کی۔ اس کے بعد آگے جاکر مولانا اصلاحی صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ توحید کو ماننا فطری ہے، لیکن اس کے بہرحال انہوں نے اپنے تئیں قرآن سے دو دلائل بھی پیش کئے ہیں (نجانے یہ دلائل کیوں پیش کردئیے کیونکہ جو فطری تھا اس پر دلیل کی کیا ضرورت؟)۔ ان دونوں دلائل نیز “مشرکین خدا کو مانتے تھے” کے لئے جو آیات اور ان پر جو تبصرہ انہوں نے پیش کیا ہے اسے پڑھنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ ذات باری کے وجود کے بھی دلائل ہیں جو قرآن نے دئیے ہیں لیکن انہوں نے انہیں اس موضوع سے اپنی “شہ سرخی کے زور پر” خارج کردیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے مضمون “خدا پر ایمان” میں خود جناب غامدی صاحب نے بھی وجود باری پر دلیل قائم کر رکھی ہے جسکی ساخت یہ ہے:
– انسان مخلوق ہے
– مخلوق کے لئے خالق ہوتا ہے
ان کی دلیل کی صحت ایک طرف، اگر اسے متکلمین کی لگی بندھی اصطلاح میں ڈھال دیا جائے تو یہ یوں ہے:
– انسان حادث ہے
– حادث کے لئے محدث ہوتا ہے
اب اس کا کیا کیا جائے کہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے نزدیک تو متکلمین کے برخلاف قرآن اس موضوع پر دلائل ہی قائم نہیں کرتا لیکن غامدی صاحب دلیل قائم کررہے ہیں اور وہ بھی متکلمین کے طرز پر! غامدی صاحب نے اس عزم کا اظہار بھی فرمایا ہے کہ وہ الحاد کے مقدمے پر مفصل تبصرہ کریں گے۔ اگر اس کاوش میں وہ وجود باری پر قرآن سے دلیل لائے تو ان کے استاد محترم کے بقول یہ قرآن پر ایسی بات کہنا ہوگی جو قرآن میں ہے ہی نہیں کیونکہ قرآن نے تو اس موضوع پر دلائل ہی نہیں دئیے، بلکہ یہ مسئلہ ایسا ہے ہی نہیں کہ قرآن اس پر دلیل دے۔ چنانچہ اگر اصلاحی صاحب کی بات درست ہے تو غامدی صاحب کی جانب سے ایسے دلائل پیش کرنا گویا قرآن کو غور سے نہ پڑھنے کا نتیجہ ہوگا۔ پھر “فطری استدلال فطری استدلال” کہنے والوں سے یہ سوال ہے کہ اس صفحے پر مذکور آیت میں جو استدلال ہے، اس کے تام ہونے کے لئے کوئی قضیہ یا مقدمہ مفروض ہونا علمی شرط ہے یا نہیں؟ کیا وہ قضیہ بھی یہاں آیت میں لکھا ہوا ہے یا ایک متکلم کی طرح آپ اسے واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں؟ اور اگر آپ کی جانب سے اس وضاحت کے بعد بھی وہ قرآن کا فطری بیان ہی رہا تو متکلمین کی کاوش کے بعد وہ قرآن سے باہر اور غیر فطری کیسے ہوجاتا ہے؟
الغرض یہ ہے وہ خطابی گفتگو جو “قرآن کے فطری انداز” کے نام پر علم کلام کو لتاڑنے کے لئے کی جاتی ہے۔ قرآن کے بارے میں چونکہ مسلمانوں میں عقیدت پائی جاتی ہے تو علم کلام کے ناقدین اس عقیدت کو علم کلام کو لتاڑنے کے لئے خوب کیش کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…