۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

Published On March 14, 2025
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مولانا فراہی نے یہ تاویل اختیار کی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خواب سے اصل مقصود یہ تھا کہ وہ اپنے اکلوتے / پہلوٹھے بیٹے کو بیت اللہ کی خدمت کے لیے خاص کردیں۔ اس تاویل کے لیے ان کا بنیادی انحصار ان احکام پر ہے جوتورات میں ان لوگوں...

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب

علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب “فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی میں” سے دو صفحات کا عکس دیا گیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ متکلمین ذات باری کے وجود پر دلائل قائم کرتے ہیں لیکن قرآن اس پر دلیل نہیں دیتا، قرآن کی نظر میں یہ مسئلہ ایسا اہم ہے ہی نہیں کہ اس پر دلائل دئیے جائیں اس لئے کہ قرآن کے مخاطبین بشمول مشرکین مکہ خدا کو مانتے تھے نیز خدا کو ماننا تو فطری ہے۔ یہاں آپ اس کے بدیہی بلکہ ابدہ البدیہیات ہونے کا دعوی فرمارہے ہیں۔ قابل غور بات یہاں یہ ہے کہ جو قرآنی آیت انہوں نے یہاں پیش کی ہے اس کا ان کی شہ سرخی کے دعوے سے کوئی تعلق نہیں۔ خود ان کے اپنے دعوے کے بقول اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ مشرکین مکہ خدا کو مانتے تھے۔ خدا کو ماننا ابدہ البدیہیات ہے، اس کے لئے انہوں نے کوئی عقلی و نقلی دلیل پیش نہیں کی۔ اس کے بعد آگے جاکر مولانا اصلاحی صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ توحید کو ماننا فطری ہے، لیکن اس کے بہرحال انہوں نے اپنے تئیں قرآن سے دو دلائل بھی پیش کئے ہیں (نجانے یہ دلائل کیوں پیش کردئیے کیونکہ جو فطری تھا اس پر دلیل کی کیا ضرورت؟)۔ ان دونوں دلائل نیز “مشرکین خدا کو مانتے تھے” کے لئے جو آیات اور ان پر جو تبصرہ انہوں نے پیش کیا ہے اسے پڑھنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ ذات باری کے وجود کے بھی دلائل ہیں جو قرآن نے دئیے ہیں لیکن انہوں نے انہیں اس موضوع سے اپنی “شہ سرخی کے زور پر” خارج کردیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے مضمون “خدا پر ایمان” میں خود جناب غامدی صاحب نے بھی وجود باری پر دلیل قائم کر رکھی ہے جسکی ساخت یہ ہے:
– انسان مخلوق ہے
– مخلوق کے لئے خالق ہوتا ہے
ان کی دلیل کی صحت ایک طرف، اگر اسے متکلمین کی لگی بندھی اصطلاح میں ڈھال دیا جائے تو یہ یوں ہے:
– انسان حادث ہے
– حادث کے لئے محدث ہوتا ہے
اب اس کا کیا کیا جائے کہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے نزدیک تو متکلمین کے برخلاف قرآن اس موضوع پر دلائل ہی قائم نہیں کرتا لیکن غامدی صاحب دلیل قائم کررہے ہیں اور وہ بھی متکلمین کے طرز پر! غامدی صاحب نے اس عزم کا اظہار بھی فرمایا ہے کہ وہ الحاد کے مقدمے پر مفصل تبصرہ کریں گے۔ اگر اس کاوش میں وہ وجود باری پر قرآن سے دلیل لائے تو ان کے استاد محترم کے بقول یہ قرآن پر ایسی بات کہنا ہوگی جو قرآن میں ہے ہی نہیں کیونکہ قرآن نے تو اس موضوع پر دلائل ہی نہیں دئیے، بلکہ یہ مسئلہ ایسا ہے ہی نہیں کہ قرآن اس پر دلیل دے۔ چنانچہ اگر اصلاحی صاحب کی بات درست ہے تو غامدی صاحب کی جانب سے ایسے دلائل پیش کرنا گویا قرآن کو غور سے نہ پڑھنے کا نتیجہ ہوگا۔ پھر “فطری استدلال فطری استدلال” کہنے والوں سے یہ سوال ہے کہ اس صفحے پر مذکور آیت میں جو استدلال ہے، اس کے تام ہونے کے لئے کوئی قضیہ یا مقدمہ مفروض ہونا علمی شرط ہے یا نہیں؟ کیا وہ قضیہ بھی یہاں آیت میں لکھا ہوا ہے یا ایک متکلم کی طرح آپ اسے واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں؟ اور اگر آپ کی جانب سے اس وضاحت کے بعد بھی وہ قرآن کا فطری بیان ہی رہا تو متکلمین کی کاوش کے بعد وہ قرآن سے باہر اور غیر فطری کیسے ہوجاتا ہے؟
الغرض یہ ہے وہ خطابی گفتگو جو “قرآن کے فطری انداز” کے نام پر علم کلام کو لتاڑنے کے لئے کی جاتی ہے۔ قرآن کے بارے میں چونکہ مسلمانوں میں عقیدت پائی جاتی ہے تو علم کلام کے ناقدین اس عقیدت کو علم کلام کو لتاڑنے کے لئے خوب کیش کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.