سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

Published On October 27, 2025
طاقت کا کھیل ہے : ایسے ہی ہوتا ہے

طاقت کا کھیل ہے : ایسے ہی ہوتا ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد یہ غامدی صاحب اور ان کے متاثرین کے مرغوب جملے ہیں اور یہ بالکل ہی غلط ہیں، ہر لحاظ سے غلط ہیں اور یکسر غلط ہیں۔یہ بات مان لی جائے، تو نہ شریعت اور قانون کے تمام احکام معطل ہوجاتے ہیں اور ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ انسانوں کی صدیوں کی کوششیں...

خودکشی اور شہادت کا فرق

خودکشی اور شہادت کا فرق

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ایک تو فقہائے کرام اس لحاظ سے فرق کرتے ہیں کہ موت کس کے فعل سے واقع ہوئی ہے؟ اگر موت ایسے فعل سے واقع ہوئی ہے جس کی نسبت دشمن کی طرف ہوتی ہے (بفعل مضاف الی العدو)، تو یہ شہادت ہے؛ اور اگر یہ اسی شخص کے فعل سے واقع ہوئی ہے، تو اگر یہ فعل سہواً ہوا...

غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

غامدی صاحب کا الہ اور قرآن

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب اہل تصوف کی فکر کو خارج از اسلام دکھانے کے لئے یہ تاثر قائم کرواتے ہیں کہ توحید سے متعلق ان کے افکار قرآن میں مذکور نہیں۔ اپنے مضمون "اسلام اور تصوف" میں آپ الہ کا یہ مطلب لکھتے ہیں: " ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا...

غلامی : پہلے، اب اور آئندہ

غلامی : پہلے، اب اور آئندہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد رمضان کے مہینے میں سوشل میڈیا پر عموماًً مذہبی مسائل پر بحث چلتی ہے۔ بعض لوگ ایسے موقع کو مذہب پر اعتراض کےلیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ایک مرغوب موضوع غلامی ہے اور یہ عموماً مسلمانوں کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کےلیے یا تو ماضی کی...

قرآن کی تعلیم: فقہی روایت اور مکتب فراہی ( ایک مکالمہ)

قرآن کی تعلیم: فقہی روایت اور مکتب فراہی ( ایک مکالمہ)

ڈاکٹر زاہد مغل یہ مکالمہ چند امور کو واضح کرنے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ "م ف" سے مراد مکتب فراہی کے منتسب ہیں اور "ف ر" سے مراد فقہی روایت کے منتسب۔ م ف: مدارس میں براہ راست قرآن مجید کی تعلیم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہاں کلام، اصول فقہ، فقہ، حدیث، لغات وغیرہ...

غامدی صاحب اور سائنس

غامدی صاحب اور سائنس

محمد حسنین اشرف "حقائق کی وضاحت حقیقت نہیں ہوتی" یہ بات نہایت اہم ہے کہ آپ کسی علم کے بارے میں عمومی رائے کیا قائم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی عمومی رائے آپ کو پھر اس کی تھیوریز وغیرہ سے متعلق رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے سائنس پر میٹا لیول گفتگو کو پہلے کرنا...

جہانگیر حنیف

تفسیر قرطبی: یہ آیت [سورہ انعام، ١٤٥] دراصل جاہلیت کے ان باطل عقائد کے رد میں نازل ہوئی ہے، جن کے تحت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی جیسے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرا بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط روش کی تردید فرمائی اور اس کے بعد بہت سی چیزیں خود حرام قرار دیں، جیسے پالتو گدھے، خچر کا گوشت، ہر درندہ جو نوکیلے دانت رکھتا ہو، اور ہر وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرتا ہو۔

امام ابو عمر فرماتے ہیں: جو یہ گمان کرے کہ ’’صرف وہی اشیاء حرام ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں‘‘، تو اس کے قول کا لازم نتیجہ یہ ہوگا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام جان بوجھ کر نہ لیا جائے، وہ بھی حرام نہ رہے—حالانکہ یہ شریعت میں ممنوع ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، شراب کو بھی حلال سمجھنا پڑے گا، حالانکہ پوری امت مسلمہ اس کے حرام ہونے پر متفق ہے۔

چنانچہ انگور سے بنی شراب کے حرمت پر اجماعِ امت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی، اُس میں **سورۂ انعام** کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی حرمت نازل کی گئی—جو اس کے بعد قرآن کی دیگر آیات میں بیان ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وأن هذه الآية قصد بها الرد على الجاهلية في تحريم البحيرة والسائبة والوصيلة والحامي ، ثم بعد ذلك حرم أمورا كثيرة كالحمر الإنسية ولحوم البغال وغيرها ، وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . قال أبو عمر : ويلزم على قول من قال : ” لا محرم إلا ما فيها ” ألا يحرم ما لم يذكر اسم الله عليه عمدا، وتستحل الخمر المحرمة عند جماعة المسلمين . وفي إجماع المسلمين على تحريم خمر العنب دليل واضح على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وجد فيما أوحي إليه محرما غير ما في سورة ” الأنعام ” مما قد نزل بعدها من القرآن

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…