غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

Published On February 25, 2026
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

محمد حسنین اشرف

باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں:
“جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے (۔۔۔۔) بلکہ آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ میری چھٹی حس یہ کہتی ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ سب چیزیں وہی ہیں جن میں آپ باطنی حواس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ تو انہیں اسی تعبیر کے ذریعے متعارف کروانا چاہیے”۔
دوسری نشست میں غامدی صاحب کی گفتگو میں شاید یہ حصہ سب سے زیادہ کم ڈویلپڈ محسوس ہوا خاص طور یہ کمی اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ یہ حصہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس حصہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ غامدی صاحب ان حسیات کو ذرائع علم اور بنائے استدلال بنانے والے ہیں اور اخلاقیات سے لے کر بقیا تمام مذہبی مقدمات کو یہیں سے جنم لینا ہے اگر اس پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہوگی اور ان ذرائع علم اور بنا ہائے استدلال پر اعتماد قائم نہیں ہوگا تو بات سمجھنے میں مشکل ہوگی۔ غامدی صاحب ہی کی زبانی یہ اکثر سٗنا ہے:
خشت اول گر نهد معمار کج تا ثریا می‌رود دیوار کج
۱۔ “آپ اس کی جگہ کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں”
یہ کام غامدی صاحب کا ہے کہ وہ تجزیہ کرکے بتائیں کے ان کے لیے کونسی اصطلاح موزوں ہے، محض یہ کہہ دینا کہ آپ اس کے لیے کوئی دوسری تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک غالبا یہ بیان کرنا کم اہمیت کا حامل ہے کہ اس شے کی حقیقت کیا ہے جس کو ہم ذریعہ علم بنا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اصطلاحات محض نام نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے لیے شے کو جاننے کی ایک کوشش ہے، آنکھ محض ایک عضو کا نام نہیں ہے بلکہ لفظ آنکھ اور اس سے جڑا مشاہدہ اپنے آپ میں ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ظاہری حسیات محض ایک نام نہیں ہیں بلکہ علمیات میں ان پر مستقل کلام ہوتا ہے۔ جسے محض یہ کہہ نہیں گزرا جاسکتا ہے کہ لوگ اسے ظاہری حسیات کہتے ہیں آپ چاہیں تو کوئی اور تعبیر بھی اختیار کرسکتے ہیں۔
۲۔ “میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری حواس کے مقابلے میں یہی موزوں تعبیر ہے”
یہ جانے و بیان کیے بغیر کہ ظاہری حسیات اور باطنی حسیات میں کیا اقدار مشترک ہیں یہ جاننا ممکن نہیں ہے کہ ان کو ظاہری حواس کے مقابلے میں باطنی حواس کہنا کس قدر موزوں ہے۔ اسی طرح یہ حسیات جس شے تک ہمیں رسائی دیتی ہیں، اس شے کو یہ کس معنی میں حس کرتی ہیں اور کیا اسے حس کیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوالات نہایت اہم ہیں ان کے جواب دیے بغیر یہ واضح نہیں ہوسکتا آیا کہ ظاہری حسیات کے مقابلے یہ موزوں تعبیر ہے یا نہیں۔ مثلا میں کمزور اور مضبوط دونوں مثالیں لیتا ہوں:
الف (کمزور مثال): چھٹی حس
میری چھٹی حس کیسے کام کرتی ہے اور مجھے کس شے تک رسائی دیتی ہے یہ جانے بغیر محض لوگوں کے اس لفظ کو استعمال کرلینے سے وہ شے “حس” نہیں بن جاتی، کیا انسان بہت سی چیزوں سے متعلق دھوکے میں مبتلا نہیں ہوتا. کیا غامدی صاحب واقعی ہی سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لفظ چھٹی حس کو استعمال کرلینے کا مطلب چھٹی حس کا بہ طور حس وجود رکھنا بھی ہے؟
ب (مضبوط مثال): حاسہ اخلاقی
انسان اخلاقی کانٹینٹ تک رسائی رکھتا ہے لیکن وہ رسائی اسے کسی خاص حس جسے ہم حاسہ اخلاقی سے تعبیر کرتے کے ذریعے حاصل ہے اس کے لیے دو مقدمات ثابت کرنا ضروری ہے؛ ایک یہ وہ حس وجود رکھتی ہے اور دوسرا یہ کہ اخلاقیات یا اخلاقی کانٹینٹ جس شے سے اخذ کیا جا رہا ہے وہ وجود رکھتا ہے اور محض وجود کے دعوی پر یہ مقدمہ موقوف نہیں ہوگا بلکہ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ حس کی حقیقت کیا ہے اور جو شے وجود رکھتی ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟
۳۔ یہ فرق بہرحال قائم ہونا چاہیے کہ غامدی صاحب اس وقت لوگوں کے لسانی استعمالات کو بیان نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک علمیاتی گفتگو کر رہے ہیں اور جب کوئی شخص یہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا موضوع بحث وہ شے اور اس شے سے متعلق جانکاری بہم پہنچانا ہے نہ کہ یہ دیکھنا کہ لوگ فلاں شے کے لیے کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اٗن کا کام یہ تجزیہ کرکے بتانا ہے کہ یہ شے وجود رکھتی ہے، ہم اس شے تک اتنی رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور اس شے کی فلاں تحدیدات ہیں وغیرہ وغیرہ!
غامدی صاحب کی گفتگو سے یہ احساس نہایت پختہ ہوتا جاتا ہے کہ وہ محض زبان کے استعمال کو حقیقت تک رسائی کا حصہ سمجھتے ہیں یا کم از کم اسے اشارتی طور پر ضرور دیکھتے ہیں۔ اس تاثر کو یا ثابت ہونا چاہیے بہ طور حقیقت یا اس کو زائل ہونا چاہیے ورنہ یہ بہت
misleading
ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.