سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

Published On February 10, 2026
علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

علمِ کلام کی ضرورت و معنویت اور جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے پر تبصرہ

مشرف بیگ اشرف جس طرح مسلمانوں کی تاریخ میں، قانون کے لیے فقہ، اور قانون کي نظری بنیادوں اور مسلمانوں کے ہاں رائج لسانی نظریات کے لیے اصول فقہ میدان رہا ہے، اسی طرح علمیات، وجودیات، الہیات، قضیہ عقل ونقل اور نظریہ اخلاق کی بحث کے لیے علم کلام میدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے...

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

نظریہ ارتقا اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف حالیہ ویڈیو میں غامدی صاحب نے نظریہ ارتقا پر بات کرتے ہوئے ایک بہت ہی صائب بات فرمائی کہ نظریہ ارتقا سائنس کا موضوع ہے اور اسے سائنس کا موضوع ہی رہنا چاہیے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اپنے بچوں کو سائنس کی تحلیل سکھانی چاہیے۔ یہ بات بھی صائب ہے...

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

تصوف پر جناب احمد جاوید صاحب اور جناب منظور الحسن صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب محترم جناب احمد جاوید صاحب نے تصوف سے متعلق حال ہی میں اس رائے کا اظہار فرمایا ہے کہ فقہ و کلام وغیرہ کی طرح یہ ایک انسانی کاوش و تعبیر ہے وغیرہ نیز اس کے نتیجے میں توحید و نبوت کے دینی تصورات پر ذد پڑی۔ ساتھ ہی آپ نے تصوف کی ضرورت کے بعض پہلووں پر...

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

تصوف پر جناب منظور الحسن صاحب کے ایک اعتراض کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب مکتب فراہی کے منتسبین اہل تصوف پر نت نئے الزامات عائد کرنے میں جری واقع ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب و جناب غامدی صاحب سے گزرتا ہوا اب ان کے شاگردوں میں بھی حلول کررہا ہے۔ جس غیر ذمہ داری سے مولانا اصلاحی و غامدی صاحبان اہل تصوف...

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

شریعت اور فقہ میں فرق نہیں ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب   کچھ دن قبل اس موضوع پرفیسبک پر مختصر پوسٹ کی تھی کہ یہ فرق غیرمنطقی، غیر اصولی اور غیر ضروری ہے۔ جسے آپ شریعت کہتے ہیں وہ آپ کا فہم شریعت ہی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب نے اپنے تئیں شریعت کو فقہ کے انبار...

۔”خدا کو ماننا فطری ہے”  مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

۔”خدا کو ماننا فطری ہے” مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی گفتگو پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب علم کلام کو لتاڑنے والے حضرات کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وجود باری پر یقین رکھنا بدیہیات میں سے ہے، لہذا متکلمین دلائل دے کر بے مصرف و غیر قرآنی کام کرتے ہیں۔ یہاں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب "فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن مجید کی روشنی...

محمد حسنین اشرف

اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے:
“حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی میں سے ایک چیز۔ اسی طرح کا معاملہ اگر آپ دیکھیے تو بگ بینگ کے نظریے کا ہے۔ یہی صورتحال بعض اٗن نظریات کی ہے جو اس پچھلے زمانے میں بہت زیر بحث ہیں۔ مثال کے طور پر اس دنیا میں جو مسائل موجود ہیں خاص طور طبیعات کے علم میں اس کو ایک سے زیادہ دنیاوں کے تصور سے حل کرلیا جائے یا خصوصی نظریہ اضافیت کے زیل میں یہ بحث کہ کیا ہم ایک بلاک یونیورس میں رہ رہے ہیں، یہ سب عقلی امکانات ہیں، چنانچہ ان کو بھی اگر آپ دیکھیے تو یہ بنائے استدلال بنتے ہیں، ان کو لوگ پیش کرتے ہیں (۔۔۔)۔”
۱۔ یہ نہایت نامناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی علم میں رائج اصطلاحات کو کسی غیر معروف اصطلاح سے بدل دیں اور اس اصطلاح کو اچھے طریقے سے ڈویلوپ کیے بغیر بیان بھی کردیں۔ یعنی عقلی امکان سے یہاں کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد
Abductive reasoning
ہے؟ یہ اصطلاح کہاں سے مستعار لی گئی ہے؟
۲۔ اسی طرح اس اصطلاح کے ذیل میں آپ مختلف ابحاث کو ایک جگہ باندھ دیں۔ مثلا یہ کہ بگ بینگ، نظریہ ارتقا، ملٹی ورس اور بلاک یونیورس یہ سب عقلی امکانات ہیں۔ اس سے آپ اس بحث کو جس تنوع سے بیان ہونا چاہیے اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کیا نظریہ ارتقا (اس کو ظن میں غالب اور ضعف کی بائنری قائم کرکے معاملہ نہیں حل کیا جاسکتا) اور ملٹی ورس ایک ہی نوعیت کی شے ہے؟ پھر نظریہ ارتقا میں چیزیں اپنے ثبوت کے اعتبار سے منقسم ہیں۔ اس سب کو عقلی امکان کی اصطلاح سے اور اس پر بہت سے عقلی امکانات کے درمیان باندھ کر بیان کرنا کیونکر مفید ہے؟
۳۔ سائنس میں سائنسی طریقہ کار (یاد رہے سائنس میں ایک سائنسی طریقہ کار نہیں ہے بلکہ متعدد طریقہ کار ہیں اور ہر طریقہ کار میں مزید چیزیں ہیں سو ان کو گھٹاتے گھٹاتے کسی ایک اصطلاح میں بند کردینا مناسب نہیں ہے) کس طریقے سے چیزوں کو طے کرتے ہیں اس کے لیے عقلی امکان کی اصطلاح کس قدر مفید ہے اس پر گفتگو نہایت ضروری ہے بصورت دیگر خلط مبحث پیدا ہوتا ہے۔
۴۔ اسی طرح بحث کو گھٹاتے گھٹاتے آپ کیٹیگریز کو
Collapse
نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر سامنے والے کا مقدمہ درست بیان نہیں ہو پاتا۔ مثلا اگر میں یہ کہوں کہ غامدی صاحب کی تمام ترابحاث تو ہیں ہی “یقین محض” ہیں سو میں نے ایک بہت بڑی کیٹیگری کے ذیل میں غامدی صاحب کے سسٹم کو
Collapse
کروا دیا ہے۔ اب یہ نئی تیار کردہ کیٹیگری اتنی بڑی ہے کہ غامدی صاحب جو بھی بات کریں گے وہ باآسانی “یقین محض” کے ذیل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ اس سے غامدی صاحب کے طرز استدلال کا تنوع جس حق سے بیان کیے جانے کا متقاضی ہے وہ پورا نہیں ہو پاتا۔
۵۔ اس نوعیت کی اصطلاحات اور خاص طور پر وہ جو ان مضامین یا ان سے متعلق مضامین میں رائج اصطلاحات نہ ہوں۔ اٗن کا استعمال سامع و قاری کے لیے مزید مشکل یہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اسے ٹیسٹ نہیں کرسکتے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ کس قدر درست ہے!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.