سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

Published On February 10, 2026
کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

محمد حسنین اشرف

اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے:
“حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی میں سے ایک چیز۔ اسی طرح کا معاملہ اگر آپ دیکھیے تو بگ بینگ کے نظریے کا ہے۔ یہی صورتحال بعض اٗن نظریات کی ہے جو اس پچھلے زمانے میں بہت زیر بحث ہیں۔ مثال کے طور پر اس دنیا میں جو مسائل موجود ہیں خاص طور طبیعات کے علم میں اس کو ایک سے زیادہ دنیاوں کے تصور سے حل کرلیا جائے یا خصوصی نظریہ اضافیت کے زیل میں یہ بحث کہ کیا ہم ایک بلاک یونیورس میں رہ رہے ہیں، یہ سب عقلی امکانات ہیں، چنانچہ ان کو بھی اگر آپ دیکھیے تو یہ بنائے استدلال بنتے ہیں، ان کو لوگ پیش کرتے ہیں (۔۔۔)۔”
۱۔ یہ نہایت نامناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی علم میں رائج اصطلاحات کو کسی غیر معروف اصطلاح سے بدل دیں اور اس اصطلاح کو اچھے طریقے سے ڈویلوپ کیے بغیر بیان بھی کردیں۔ یعنی عقلی امکان سے یہاں کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد
Abductive reasoning
ہے؟ یہ اصطلاح کہاں سے مستعار لی گئی ہے؟
۲۔ اسی طرح اس اصطلاح کے ذیل میں آپ مختلف ابحاث کو ایک جگہ باندھ دیں۔ مثلا یہ کہ بگ بینگ، نظریہ ارتقا، ملٹی ورس اور بلاک یونیورس یہ سب عقلی امکانات ہیں۔ اس سے آپ اس بحث کو جس تنوع سے بیان ہونا چاہیے اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کیا نظریہ ارتقا (اس کو ظن میں غالب اور ضعف کی بائنری قائم کرکے معاملہ نہیں حل کیا جاسکتا) اور ملٹی ورس ایک ہی نوعیت کی شے ہے؟ پھر نظریہ ارتقا میں چیزیں اپنے ثبوت کے اعتبار سے منقسم ہیں۔ اس سب کو عقلی امکان کی اصطلاح سے اور اس پر بہت سے عقلی امکانات کے درمیان باندھ کر بیان کرنا کیونکر مفید ہے؟
۳۔ سائنس میں سائنسی طریقہ کار (یاد رہے سائنس میں ایک سائنسی طریقہ کار نہیں ہے بلکہ متعدد طریقہ کار ہیں اور ہر طریقہ کار میں مزید چیزیں ہیں سو ان کو گھٹاتے گھٹاتے کسی ایک اصطلاح میں بند کردینا مناسب نہیں ہے) کس طریقے سے چیزوں کو طے کرتے ہیں اس کے لیے عقلی امکان کی اصطلاح کس قدر مفید ہے اس پر گفتگو نہایت ضروری ہے بصورت دیگر خلط مبحث پیدا ہوتا ہے۔
۴۔ اسی طرح بحث کو گھٹاتے گھٹاتے آپ کیٹیگریز کو
Collapse
نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر سامنے والے کا مقدمہ درست بیان نہیں ہو پاتا۔ مثلا اگر میں یہ کہوں کہ غامدی صاحب کی تمام ترابحاث تو ہیں ہی “یقین محض” ہیں سو میں نے ایک بہت بڑی کیٹیگری کے ذیل میں غامدی صاحب کے سسٹم کو
Collapse
کروا دیا ہے۔ اب یہ نئی تیار کردہ کیٹیگری اتنی بڑی ہے کہ غامدی صاحب جو بھی بات کریں گے وہ باآسانی “یقین محض” کے ذیل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ اس سے غامدی صاحب کے طرز استدلال کا تنوع جس حق سے بیان کیے جانے کا متقاضی ہے وہ پورا نہیں ہو پاتا۔
۵۔ اس نوعیت کی اصطلاحات اور خاص طور پر وہ جو ان مضامین یا ان سے متعلق مضامین میں رائج اصطلاحات نہ ہوں۔ اٗن کا استعمال سامع و قاری کے لیے مزید مشکل یہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اسے ٹیسٹ نہیں کرسکتے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ کس قدر درست ہے!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.