سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

Published On February 10, 2026
علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ  : قسط دوم

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ : قسط دوم

مفتی منیب الرحم علامہ غامدی نے کہا: ''میں نے بارہا عرض کیا : جامع مسجد ریاست کے کنٹرول میں ہونی چاہیے ،دنیا بھر میں ریاست کے کنٹرول میں ہوتی ہے ،ملائشیا میں ریاست کے کنٹرول میں ہے ،عرب ممالک میں ریاست کے کنٹرول میں ہے ،ہمارے ملک میں نہیں ہے ، ریاست یہ اِقدام نہیں...

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ  : قسط اول

علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ : قسط اول

مفتی منیب الرحمن ۔13مارچ کومیں نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میںمختصر بات کی ،اُس کے بعد علامہ جاوید احمد غامدی کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا ۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بیانیہ جدید دور کی اصطلاح ہے ۔اصولی طور پر کسی ملک وقوم کا دستور ہی اُس کا اجتماعی...

اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

تنویر قیصر شاہد اسرائیل کی وحشت اور دہشت کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی ملک، عالمی ادارے یا قانون کو ماننے پر تیار نہیں۔ فلسطین کی ایک چھوٹی سی پٹّی ، غزہ، میں محصور فلسطینیوں کے خلاف صیہونی اسرائیلی افواج کو بروئے کار آئے ہُوئے آج ایک مہینہ اور تین دن ہو چکے ہیں۔ اِس...

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی تلخیص : زید حسن غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ " حقوق العباد" معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔" ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا " میں عموم ہے ۔ البتہ" ان اللہ لا یغفر  ان یشرک...

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے موسیقی، میوزک ، انٹرٹینمنٹ  کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ ارشاد فرمایا :  یہ سب حلال ہیں ۔ اور اپنے بیانیے کا مقدمہ اس طرح باندھا کہ "مختلف چیزوں کو حرام کہنا اور اسکے ذریعے سے استبداد پادریوں...

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن ایک سوال کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے لئے جمعہ کا کیا حکم ہے ؟ غامدی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا اس پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں ۔ غامدی صاحب نے تین باتیں کیں جو درج ذیل ہیں ۔ اول ۔ " جمعہ ریاست پر فرض ہے "۔ اگر اس سے انکی...

محمد حسنین اشرف

اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے:
“حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی میں سے ایک چیز۔ اسی طرح کا معاملہ اگر آپ دیکھیے تو بگ بینگ کے نظریے کا ہے۔ یہی صورتحال بعض اٗن نظریات کی ہے جو اس پچھلے زمانے میں بہت زیر بحث ہیں۔ مثال کے طور پر اس دنیا میں جو مسائل موجود ہیں خاص طور طبیعات کے علم میں اس کو ایک سے زیادہ دنیاوں کے تصور سے حل کرلیا جائے یا خصوصی نظریہ اضافیت کے زیل میں یہ بحث کہ کیا ہم ایک بلاک یونیورس میں رہ رہے ہیں، یہ سب عقلی امکانات ہیں، چنانچہ ان کو بھی اگر آپ دیکھیے تو یہ بنائے استدلال بنتے ہیں، ان کو لوگ پیش کرتے ہیں (۔۔۔)۔”
۱۔ یہ نہایت نامناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی علم میں رائج اصطلاحات کو کسی غیر معروف اصطلاح سے بدل دیں اور اس اصطلاح کو اچھے طریقے سے ڈویلوپ کیے بغیر بیان بھی کردیں۔ یعنی عقلی امکان سے یہاں کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد
Abductive reasoning
ہے؟ یہ اصطلاح کہاں سے مستعار لی گئی ہے؟
۲۔ اسی طرح اس اصطلاح کے ذیل میں آپ مختلف ابحاث کو ایک جگہ باندھ دیں۔ مثلا یہ کہ بگ بینگ، نظریہ ارتقا، ملٹی ورس اور بلاک یونیورس یہ سب عقلی امکانات ہیں۔ اس سے آپ اس بحث کو جس تنوع سے بیان ہونا چاہیے اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کیا نظریہ ارتقا (اس کو ظن میں غالب اور ضعف کی بائنری قائم کرکے معاملہ نہیں حل کیا جاسکتا) اور ملٹی ورس ایک ہی نوعیت کی شے ہے؟ پھر نظریہ ارتقا میں چیزیں اپنے ثبوت کے اعتبار سے منقسم ہیں۔ اس سب کو عقلی امکان کی اصطلاح سے اور اس پر بہت سے عقلی امکانات کے درمیان باندھ کر بیان کرنا کیونکر مفید ہے؟
۳۔ سائنس میں سائنسی طریقہ کار (یاد رہے سائنس میں ایک سائنسی طریقہ کار نہیں ہے بلکہ متعدد طریقہ کار ہیں اور ہر طریقہ کار میں مزید چیزیں ہیں سو ان کو گھٹاتے گھٹاتے کسی ایک اصطلاح میں بند کردینا مناسب نہیں ہے) کس طریقے سے چیزوں کو طے کرتے ہیں اس کے لیے عقلی امکان کی اصطلاح کس قدر مفید ہے اس پر گفتگو نہایت ضروری ہے بصورت دیگر خلط مبحث پیدا ہوتا ہے۔
۴۔ اسی طرح بحث کو گھٹاتے گھٹاتے آپ کیٹیگریز کو
Collapse
نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر سامنے والے کا مقدمہ درست بیان نہیں ہو پاتا۔ مثلا اگر میں یہ کہوں کہ غامدی صاحب کی تمام ترابحاث تو ہیں ہی “یقین محض” ہیں سو میں نے ایک بہت بڑی کیٹیگری کے ذیل میں غامدی صاحب کے سسٹم کو
Collapse
کروا دیا ہے۔ اب یہ نئی تیار کردہ کیٹیگری اتنی بڑی ہے کہ غامدی صاحب جو بھی بات کریں گے وہ باآسانی “یقین محض” کے ذیل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ اس سے غامدی صاحب کے طرز استدلال کا تنوع جس حق سے بیان کیے جانے کا متقاضی ہے وہ پورا نہیں ہو پاتا۔
۵۔ اس نوعیت کی اصطلاحات اور خاص طور پر وہ جو ان مضامین یا ان سے متعلق مضامین میں رائج اصطلاحات نہ ہوں۔ اٗن کا استعمال سامع و قاری کے لیے مزید مشکل یہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اسے ٹیسٹ نہیں کرسکتے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ کس قدر درست ہے!

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.