غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 62)

Published On April 3, 2024
علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط اول

مولانا محبوب احمد سرگودھا   پہلی تحریر میں عیسی علیہ السلام کے رفع الی السماء" کے بارے میں غامدی صاحب کے نظریہ کا تجزیہ پیش کیا گیا، اس تحریر میں  اُن کے نزول الی الارض کے بارے میں غامدی صاحب کا نظریہ پیش خدمت ہے:۔  اولاً غامدی صاحب کی عبارت ملاحظہ کی جائے ، اپنی...

مولانا واصل واسطی

جناب غامدی نے جیساکہ ہم نے اس کی طرف پہلے بارہا اشارات کیے ہیں ۔انہوں نے چند سالوں سے ایک نیا مسئلہ  ،، سنتِ ابراہیمی ،، یا ،، ملتِ ابراہیمی ،، کا کھڑاکیا ہے ۔ اس نئے دین میں صرف 26 سنن ہیں۔ مگر یہ سنن قران کی طرح قطعیت کے ساتھ ثابت ہیں ۔ دونوں کے درمیان فرق صرف تواترِ قولی اورتواترِعملی کا ہے ۔ اس کا ماخذ جناب نے بظاہرتو سورتِ نحل کی آیت بنائی ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ،، ثم اوحینا الیک ان اتبع ملة ابراھیم حنیفا وماکان من المشرکین ( النحل 123) پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ اسی ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو بالکل یکسو تھا  اور مشرکوں میں سے نہ تھا ،، اس آیت میں جناب غامدی نے اپنی عادت کے مطابق بدترین تحریف کی ہے۔ جس کی پوری حقیقت تو ہم میزان کی ،، سنت ،، کے مبحث میں اس پرتنقید کے دوران واضح کریں گے ، ان شاءاللہ ۔ مگر ادھر صرف اتنی بات سمجھ لینے کی ہے کہ جناب غامدی نے اس آیت کو میزان میں (1) عقائدی اورعلمی مباحث سے ہٹا کرصرف عمل میں اتباع تک محدود کیا ہے  (2)اور پھر عمل میں بھی صرف 26 اعمال تک محدود کیا ہے  (3) پھران 26 اعمال کے متعلق جناب نے تواتر اوراجماع کا دعوی بھی کیا ہے  (4) اور پھر جواعمال جناب کو پسند نہیں تھے   ان کو حیلوں اور بہانوں کے ساتھ سنن کی اس فہرست سے خارج بھی کردیا ہے ۔ قران کی تفسیر میں تو جناب نے اس آیت کو اگرچہ عقیدہ اور عمل دونوں کے لیے بظاہر عام رکھا ہے مگر اس کی تشریح میں بھی وہی میزان والی بات دہرائی ہے اور لکھا ہے کہ ،، یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ دین کاجو حصہ اس وقت سنت کہلاتا ہے  وہ اسی حکم کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ لہذا اسی طرح واجب الاطاعت ہے   جس طرح قران کی دوسری ہدایات واجب الاطاعت ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی تجدید اور اصلاح اوراس میں بعض اضافوں کے ساتھ اس کے جواحکام مسلمانوں کے اجماع اورتواتر سے منتقل ہوئے ہیں وہ یہ ہیں ( البیان ج3 ص 57) احباب اس درج عبارت سے پریشان نہ ہوں ۔اگر وہ  ،، سنت ،، اور ،، واجب الاطاعت ،، الفاظ کو ایک جگہ پر ایک ہی عمل کےلیے دیکھتے ہیں  کیونکہ یہ پرانے ،، مولویانہ دین ،، کی بات نہیں ہو رہی  جس سے آپ کے کان آشنا تھے ۔ یہ جناب غامدی کے ،، نئے مذہب ،، اور ،، نئے دین ،، کی بات ہو رہی ہے جس میں ایک فعل کے سنت ہونےاوراور اس کے فرض اورواجب الاطاعت ہونے میں کوئی منافات موجود نہیں ہے ۔یہ بات جو ابھی اوپر درج ہوگئی ہے درحقیقت جناب غامدی نے حافظ محب کی کتاب سے لی ہے۔ حافظ جی نے پہلے سورہِ نحل کی یہ آیت ( 123) نقل کر کے ملتِ ابراہیمی کی بات کی ہے۔ پھر اس کی روشنی میں ان اکثر عملی احکام کا ذکرکیاہے جن کو جناب غامدی نے بھی نقل کیا ہے ۔حافظ محب لکھتے ہیں کہ ،، یہ آیت خیال کرنے اور یادرکھنے کی ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی نماز میں قیام ورکوع وسجودسب( کچھ )تھا   اوربہ این ترتیب تھا  کہ پہلے قیام پھر رکوع پھر سجود ۔ہماری نماز میں بھی وہی سلسلہ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہماری نماز وہی ابراہیمی نماز ہے ۔ جبھی تو خدانے فرمایا ،،ثم اوحینا الیک ان اتبع ملة ابراھیم حنیفا ( النحل 123) ،، پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ ملتِ ابراہیم کی پیروی کرو جو خدا کی طرف یکسو ہو رہے تھے ،، ملت کے لفظ میں ساری ابراہیمی شریعت آگئی ہے ۔ اس لیے اسلام ناسخ سب ملتوں کانہیں بلکہ مصدق سب ملتوں کا ہے ۔ منجملہ اوراحکام ملت ابراہیمی کے نماز اور وقتِ نماز ، اورطرزِ نماز ہے ۔صابی لوگوں کے ہاں بھی وہی پائی جاتی ہے   جو اپنے کو ابراہیمی المشرب کہتے تھے ۔جس کا بیان اگے آئے گا ( شرعة الحق ص 254) اور دیگر احکام کے متعلق بھی ایسی باتیں حافظ جی نے لکھی ہیں ۔ احباب اختصارکے پیشِ نظر صرف زکات کے متعلق دیکھ لیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ،، جس طرح صلوة ملتِ ابراہیمی میں تھی اسی طرح زکوة بھی تھی ۔ توجس طرح صلوة ہم پرفرض ہوئی اسی طرح زکوة بھی فرض ہوئی ۔صلوةمصطح قوم فرض ہوئی۔ زکوة بھی مصطلح قوم فرض ہوئی ۔ قوم صلوةکو جانتی تھی ، تو زکوة کو بھی جانتی تھی ۔جس طرح قوم نے غلغلہ بلند نہ کیا کہ ماالصلوة ؟ اسی طرح قوم نے یہ صدا بلند نہ کی کہ ماالزکوة ؟ زکوة کی فرضیت بھی قطعی ہے ظنیات پرمبنی نہیں ہے ( شرعةالحق ص 271) جناب غامدی نےبعینہ یہی عبارت نقل کی ہے۔ اب اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ جس آیت سے جناب غامدی نے ان سنن کے لیے استدلال کیا ہے ۔اس آیت کا تعلق فی الاصل عقیدہ سے ہے ۔اس آیت کا آخری حصہ ،، وماکان من المشرکین ،،( النحل 123) اس بات پر قطعی دلیل ہے ۔  اور مفسرین نے بھی یہی بات لکھی ہےجس کو ہم اگے ذکر کریں گے ۔ پھر دوسری آیات بھی ماسبق انبیاء کرام علیھم السلام کے اتباع اور اقتدا کے متعلق قران میں وارد ہیں۔ان سے بھی جناب نے صرفِ نظر کیاہے ۔ وجہ اس کی غالبا یہ ہے کہ اس آیت سے عقیدے میں اتباع کی بات معلوم اور مفہوم ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالی نے بہت سارے انبیاء کرام کے ذکر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے ،، اولئک الذین آتینھم الکتب والحکم والنبوة ، فان یکفر بھا ھولاء فقد وکلنا بھا قوما لیسوا بھا بکفرین ۔ اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ قل لااسئلکم علیہ اجرا ان ھو الا ذکری للعالمین ۔( الانعام 90) ،، یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اورنبوت عطاکی تھی ، اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ،تو (پروانہیں ) ہم نے کچھ اورلوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جواس سے منکر نہیں ہیں ۔ اے محمد!  وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایتِ یافتہ تھے ، انہی کے راستے پر چلو ، اورکہہ دوکہ میں ( دعوت کے) کام پرتم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، یہ توایک نصیحت ہے دنیا والوں کےلیے ،، ۔ان آیات سے متصل پہلےاٹھارہ (18) انبیاءکرام علیھم السلام کا ذکر کیا ہے اور پھرفرمایاہے کہ ، ان کے راستے پر چلو ،اب یہ بات تو طے ہے کہ ان سب اٹھارہ (18) انبیاء کرام  کی تابعداری شریعت اور منہاج میں تو نہیں ہوسکتی کہ وہ سب الگ الگ تھے ۔ جیساکہ قران میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے  ،، ولکل جعلنا منکم شرعة ومنھاجا (المائدہ 48) یعنی ،، تم میں سے ہرایک کےلیے ہم نے الگ الگ شریعت اورمنہاجِ عمل مقرر کیا ہے ،، تو اس آیت سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے کہ عقیدہ میں تو کوئی اختلاف انبیاء کرام علیھم السلام کے درمیان نہیں ہوتا ۔ اس لیے اسب کا اقتدا بیک وقت اگر ممکن ہے تو وہ صرف عقیدہ میں ممکن ہے ۔ سورہِ نحل کی مذکورہ بالاآیت کو غوروفکر کےلیے ساتھ ملائیں گے تب بھی یہی نتیجہ نکلے گا   کہ مرادِالہی ان آیات میں اتباع اور اقتدا فی العقیدہ ہی ہے ۔سورہِ نحل کی درجِ بالا آیت کے متعلق اب چند مفسرین کے اقوال دیکھتے ہیں ۔ کچھ لوگوں نے درجِ بالا آیت سے استدلال کرکے کہاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کوئی شریعت لےکر نہیں آئے تھے ۔ وہ فقط ابراہیم علیہ السلام کے متبع تھے ۔ امام رازی نے اس پر یوں رد ونقدکیا ہے کہ ،، قال قوم ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان علی شریعة ابراھیم علیہ السلام ولیس لہ شرع ھو بہ منفرد ، بل المقصود من بعثہ علیہ السلام احیاء شرع ابراھیم علیہ السلام وعول فی اثبات مذھبہ علی ھذہ الایة ، وھذا القول ضعیف لانہ تعالی وصف ابراھیم علیہ السلام فی ھذہ الایة بانہ ماکان من المشرکین فلما قال (اتبع ملةابراھیم )کان المراد ذالک ، فان قیل ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم انما نفی الشرک واثبت التوحید بناء علی الدلائل القطعیة واذا کان کذالک لم یکن متابعالہ فیمتنع حمل قولہ ( ان اتبع) علی ھذاالمعنی فوجب حملہ علی الشرائع التی یصح حصول المتابعة فیھا قلنا یحتمل ان یکون المرادالامر بمتابعتہ فی کیفیة الدعوة الی التوحید وھوان یدعوالیہ بطریق الرفق والسھولة وایراد الدلائل مرة بعد اخری بانواع کثیرة علی ماھو الطریقة المالوفة فی القران ( الکبیر ج7 ص 258)  ہمارے نزدیک امام رازی کی عبارت میں موجود دوسرے سوال کے بے شمار جوابات ہو سکتے ہیں مگر ہم چند ذکر کرتے ہیں  (1) عقیدہ کے لیے دلائل قاطعہ ہمیشہ ضروری نہیں ہوتے جیساکہ بعض منطق زدہ لوگوں کا قول ہے۔ اس کے لیے مشاہدہِ ملکوت السموات والارض بھی کافی وشافی ہوتا ہے   جیساکہ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاہدہ کرایا گیا (2) دوسرا جواب یہ ہے کہ کسی بات اور مسئلے کے لیے دلائل اوربراہین کو تلاش کرنے سے یقین اورعزم بالجزم کا پیدا ہونا محلِ نظرہے کیونکہ دلیل کو تلاش کرنے کی بنیاد ہی شک پر ہے ۔ تودلائل کے انبار کے ساتھ دل شکوک کا آماجگاہ بھی بن جاتا ہے ۔ اسی لیے جناب غزالی وغیرہ نے صراحت کی ہے کہ سب سے زیادہ ضعیف ایمان متکلمین کاہوتا ہے  (3) تیسراجواب یہ ہے کہ کسی بات پردلائل کے ساتھ یقین کرنا الگ مسئلہ ہے ۔ مگر اس کے منافی اشیاء سے بچنا بالکل الگ مسئلہ ہے ۔ جیسے ڈاکٹر ہوتے  ہیں کہ ان کو صحت کے بچانے کے متعلق قطعی یقین ہوتا ہے مگر تمام منافئ صحت اشیاء سے بچنا اس کے لیے تب ممکن ہوگا جب اسے تمام اشیاء کے متعلق یہ علم حاصل ہوجائے کہ وہ مفیدِ صحت ہے یامضرِ صحت ہے ۔اسی طرح عقائد کے جزئیات اورفروع یا پھرعقائد پراثرانداز ہونے والے اعمال اور لوگوں کی صحبتوں کے متعلق دوسرے انبیاء کرام سے استفادہ کرنے کا انہیں حکم ہواہے(4) چوتھا جواب یہ ہے کہ اقوام تو بہت ساری گذری ہیں ۔ہر قوم کی الگ الگ نفسیات ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ دعوتِ توحید کی تخصیص وتعمیم اورترتیب وتدریج  کے متعلق ان کودیگر انبیاءکرام علیہم السلام کے اتباع واقتدا کا حکم ہواہے  لہذا یہ کوئی قوی اشکال نہیں ہے۔ ذباب الفکر قسم کے لوگ عنکبوت کے اس جال میں پھنس سکتے ہیں لطیف الفکر اصحاب نہیں۔ بات بہرحال ثابت ہوگئی ہے کہ اس آیت کا تعلق سیاق وسباق کی روشنی میں عقیدہ سے ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…