غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 84)

Published On April 15, 2024
کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

مولانا واصل واسطی

تیسری وجہ اس بنیاد کے غلط ہونے کی یہ ہے   کہ جناب غامدی نے قران مجید کی جن آیات کو اس کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیاہے اس کو تسلیم کرنے کے بعد بھی انسان یہ سمجھتاہے   کہ اس کو جو  ہدایت   دی گئی ہے اور جو ” شعور ” عطا کیاگیا ہے وہ محض اجمالی ” معرفت اورشعور  ” ہے ۔تفصیل کا حصول اس سے قطعی ممکن نہیں ہے ۔ جناب غامدی نے سورہِ نحل کی آیت (90) یعنی” ان اللہ یامرکم بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی الخ” کواس باب میں اصل الاصول قراردیا ہے ۔ ہم نے اجمالی شعور کی بات کی ہے   تو ذرا اس کی ایک دو مثالیں ہو جائیں ۔ اب دیکھیں ان لوگوں کے نزدیک انسان کو یہ تصور حاصل ہے کہ   عدل بہت اچھی چیز ہے اور   ظلم  بہت برا ہے ۔ یہ فقط اجمالی تصور ہے ۔ ان کا تفصیلی تصور انسان کی بس میں نہیں ہے ۔ مگران لوگوں کو اس کا کچھ بھی خیال نہیں رہا ۔ عوام کے باب میں اس کو دیکھ لیں ۔ بیوی اور والدہ کے درمیان   عدل کو سمجھنا اور پھر اسے قائم رکھنا کیا ہرآدمی سمجھتا جانتا ہے؟ رعایا کے ساتھ   عدل   کیا ہر بادشاہ کے شعور میں روشن ہے ؟ سیدنا ابوبکرصدیق اور سیدنا عمرِ فاروق کے دور میں بدریوں کا عطایا میں حصہ دوسروں کے بالمقابل دوچند مقرر تھا ۔ ہمارے زمانے کے بعض مفکرین نے جس کو خلافِ   عدل سمجھ کر اعتراضات کیے ۔ ہمیں فی الحال ان اعتراضات کے صحت اور عدمِ صحت کے متعلق کچھ نہیں کہنا ہے ۔ صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ کام درست تھا   تو گویا عصرِحاضر کے بڑے مفکرین بھی عدل کے تفصیلی تصور کا ادراک نہیں رکھتے تھے ۔ اور اگر سید ناعمرفاروق وغیرہ کا یہ قانون درست نہیں تھا ( معاذاللہ ) تو پھر یہ ثابت ہوئی کہ دنیا کے بہترین قانون ساز لوگ بھی عدل کے تفصیلی تصور کا صحیح ادراک نہیں کرپائے تھے ۔ دونوں صورتوں میں ہماری بات ثابت ہوجاتی ہے ۔ پس جب  ان  کایہ حال ہے تو عام لوگوں  کے متعلق کیا خیال ہے ؟ عکرمہ تابعی کا قول ہے کہ سیدنا ابن عباس مجھے زنجیر سے باندھ کر سبق پڑھاتے تھے ۔ میں اس بات کی ترغیب کسی کونہیں دے رہا ۔ صرف ایک  ضرورت سے اس واقعہ کو پیش کر رہا ہوں ۔ اس کو یہ لوگ یقینا ظلم سے تعبیر کریں گے اس کا حاصل یہ ہوا کہ  ظلم کا تفصیلی تصور بھی عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہے ۔ مگر سیدناابن عباس نے اسے عدل   یا  احسان   سمجھ کر اسے انجام دیا ہے ۔ اسی طرح ایک آدمی کسی بچے کو اغوا کرلیتے ہیں   پھر پہلے اس کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے اس کے بعد اسے قتل کرتا ہے ۔ اس کے متعلق عام طور لوگوں کے ذہن میں یہی خیال آتا ہے  کہ اس بدفعل قاتل  کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوناچاہئے جواس نے بچے کے ساتھ کیا ہے ۔ مگر پوری دنیا میں عدل   کا یہ قانون کہیں بھی رائج نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کسی نے شخص بے شمار بچوں اور بچیوں سے یہ سلوک کیا ہو ۔ تو اس کے متعلق عام انسانوں کے کیا تصورات ہیں ۔ بندہ صرف اپنے علاقے اور شہرکےآٹھ دس معقول لوگوں سے پوچھ کر بھی معلوم کر سکتا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عام لوگ ان چیزوں کے تفصیلی تصور درست طور پر نہیں کرسکتے۔ اس طرح کے بے شمار مسائل ہیں۔ کیا عام عوام لوگ اس عطاکردہ ” شعور ” سے ان سب کو معلوم کرسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ۔اسی طرح مثلا  شکرگذاری ہے ۔سب لوگ اس کا اجمالی تصور کہتے ہیں ۔ مگر اس کا تفصیلی تصوران کے لیے بہت مشکل ہے ۔ عوام لوگ صدیوں سے علماء کی تقریریں اورخطبات سننے کے باوجود اب بھی اس   شکرگذاری   کے جامع تصور سے محروم ہیں ۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آئی ہے کہ اسلامی معاشروں میں جو لوگوں کے اندر ان معروفات اور منکرات کا کچھ نہ کچھ علم پایاجاتا ہے تو اس کا سبب وہ ” شعور ” نہیں ہے جو انہیں فطری طور پرعطا کیا گیا ہے بلکہ اس کی وجہ خطبوں ۔ تقریروں ۔ کتابوں ۔ اوربیانات کا ان کے کانوں اور ذہنوں پر مسلسل  توارد ہے ۔ جن سے شاید پوری امت میں کوئی علاقہ محروم رہا ہو ۔ ان میں سے بعض لوگوں کی معلومات کو دیکھ کر یہ مفکرین حضرات انسان کی فطری” شعور ” کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ یہ باتیں ہم نے صرف عملی مسائل کے متعلق لکھ دی ہیں تاکہ دوستوں کو اندازہ ہو کہ عملی دنیا میں بھی معروفات ومنکرات کے متعلق عام لوگوں کا تصورمحض اجمالی ہے ۔ (4) چوتھی وجہ اس بیان کے غلط ہونے  کی یہ ہے کہ معروفات ومنکرات صرف عملیات وافعال میں تو نہیں ہوتے علم وفکر میں بھی ہوتے ہیں ۔ قران مجید کی آیت ” کنتم خیرامةاخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتؤمنون باللہ “( آلِ عمران ۔ 110) یعنی ۔۔ تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے( نفع کےلیے ) نکالے گئے ہو ۔ تم نیکیوں کاحکم کرتے ہو برائیوں سے روکتے ہو ۔ اور اللہ تعالی پر پختہ ایمان رکہتے ہو ” اب جن لوگوں کے ہوش وحواس سلامت ہو ں   وہ اس آیت کو صرف اعمال وافعال تک کیسے محدود رکھ سکتے ہیں ؟ کیونکہ پوری امت کو صرف اعمال وافعال تک محدود رکھنے کا نتیجہ یہی ہوگا کہ عقاید وغیرہ ان کے دائرہ سے نکل جائیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ جناب غامدی نے بھی اس آیت کو علمی اورعملی دونوں قسم کے احکام کےلیے عام رکھاہے ۔ وہ لکھتے ہیں “سورہِ بقرہ میں اللہ تعالی نے بنی اسماعیل کو اسی بنا پر ۔۔ امتِ وسط ۔۔  قراردیا ہے جس کے ایک طرف خدا اوراس کارسول اوردوسری طرف ۔ الناس ۔ یعنی دنیا کے سب اقوام ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ جوشہادت رسول نے تم پردی ہے اب وہی شہادت باقی دنیا پر تمہیں دینا ہوگی ”  وکذالک جعلناکم امةوسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا “(البقرہ ۔ 143) یہی بات آلِ عمران میں اس طرح واضح فرمائی ہے” کنتم خیرامةاخرجت للناس ۔تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتؤمنون باللہ” ( آلّ عمران ۔ 110) تم وہ بہترین امت ہو جولوگوں ( پرحق کی شہادت ) کےلیے برپا کی گئی ہے ۔( اس لیے کہ ) تم (ایک دوسرے کو ) بھلائی کی تلقین کرتے ہوتے ۔ برائی سے روکتے ہو ۔ اوراللہ پرسچا ایمان رکہتے ہو ” (المیزان ص 548)  جب یہ بات متحقق ہوگئی ہے تو اب ہم کہتے ہیں  ایک ہے کسی فعل کواچھااورحسین یا پھربرا اورقبیح سمجھنا الگ مسئلہ ہے ۔ دوسرا ہےاس فعل کو صفتِ کمال اور صفتِ نقص سمجھنا یہ الگ مسئلہ ہے ۔  تیسرا ہےاس فعل اورعمل کو آخرت میں نافع اورضاریا پھر موجبِ ثواب وعذاب سمجھنا بالکل الگ مسئلہ ہے ۔ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معروف ومنکر کا پورا “شعور ” انسان کی فطرت کے اندر ودیعت کیا گیاہے ۔ ان سے ہم عرض کریں گے کہ جب عملی مسائل میں بھی اس کا”شعور ” اورتصور اجمال کی  حدتک ہے ۔ تو علمی اورفکری مسائل میں وہ ” شعور” صرف ایک  ڈگری پر ہی قائم ہوگا ۔ افعال کی تین صورتیں جو ہم اوپر بیان کی ہیں ۔ اس میں پہلے نمبر کے متعلق تو ممکن ہے کہ عام لوگ اس کو سمجھ لیں ۔ مگر دوسرے نمبر یعنی ان افعال کو باعثِ کمال ونقصان سمجھنا بڑی عمر میں اوربہت تجربات کے بعد ممکن ہوجاتا ہے ۔ اور تیسرے نمبر کاسمجھنا اس کے لیے قطعا ممکن نہیں ہے ۔ مثلا وہ کس طرح سمجھ سکتا ہے کہ پورا مہینہ بھوکا رہنے سے کیونکر ثواب مل جاتا ہے ؟ سعی بین الصفا والمروہ کا ثواب سے کیا تعلق ہے ؟ کعبہ کے طواف سے کس طرح ثواب حاصل ہوگا ؟ اسی طرح تخریب البلاد سے کیسے جنت مل جائے گا ؟ دن میں پانچ وقت اٹھنے بیٹھنے اورکھڑے رہنے سے کیاہوتاہے؟ ہم سب چیزوں کا استقصاء نہیں کرسکتے ۔ یہی مثالیں کافی ہوں گی   کہ علمی اور فکری مسائل میں” شعور ” صرف ایک ڈگری تک سفر کرسکتا  ہے ۔اس سے اگے کے درجات میں وہ لنگ درازگوش کی طرح ہے   جس کے وجود پر صرف نابینا قسم کے لوگ خوش ہو سکتے ہیں   جو اس کے عیوب  کو نہیں دیکھ پاتے ۔ (5) پانچویں وجہ اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ بہت سارے لوگ  بھلائیوں سے دور بھاگتے ہیں اور لوگوں کو بھی اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔ اور برائیوں سے محبت کرتے ہیں لوگوں کوبھی رغبت دلاتے ہیں ۔ اورخود بھی ان میں مشغول اورمبتلا رہتے ہیں ۔ اس کا جواب مولانا مودودی اور ان کے اتباع میں جناب غامدی نے یہ دیا ہے کہ یہ اصل میں جذبات وشہوات سے مغلوبیت کی بناپر ہوتاہے ۔ برائیوں سے ان لوگوں کو کوئی محبت نہیں ہوتی ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے ساتھ وہی افعال کیے جائے تو وہ چیخ وپکار کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ان افعال سے محبت نہیں کرتے بلکہ مجبورا ان میں مبتلا ہوگئے ہوتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں باتیں درحقیقت دلائل نہیں ہیں ۔ صرف تنبیہات ہیں ۔ اس کو اگر ہم دلیل مان لیں تو یہ ایسی دلیل ہے جیسے کوئی شخص کتے کو ” باشعور” ثابت کرنا چاہتا ہے تووہ اس کےلیے یہ دلیل فراہم کرے کہ جب آپ کتے کو لکڑی سے ماردیتے ہیں اور پھر لکڑی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں تو کتا لکڑی کوچھوڑ کرآپ کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتا ” باشعور ” ہے۔ اس لیے کہ وہ ضارب اورآلہِ ضرب میں فرق جانتا ہے ۔ اگر یہ دلیل ہے تو پھر ان حضرات کو چاہئے کہ کتے کو فلسفی مان لیں ۔ پہلی تنبیہ جوان لوگوں نے اوپر کی عبارت میں بیان کی ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ جذبات میلانات اورشہوات جس طرح انسانی اعمال وافعال کومتاثر کرتے ہیں   اسی انسان اذہان وقلوب کو بھی متاثر کرتے ہیں ۔ بلکہ دماغ وذہن کو وہ پہلے متاثرکرتے ہیں ۔ افعال واعمال بعد میں ان سے کرواتے ہیں ۔ مثلا جب ایک آدمی کوئی گناہ کرتا ہے ( یہاں محضِ گناہ گار کی بات ہے دین زیرِبحث نہیں ہے )۔ تو اس کے اس فعل میں بہت سارے احتمالات ہوتے ہیں ۔ (1)ایک احتمال یہ ہے کہ گناہ جانتا نہیں ہے (2) دوسرااحتمال یہ ہے کہ وہ سرے سے آخرت کا تصورنہیں رکھتا (3) تیسرااحتمال یہ ہے کہ وہ گناہ کی عاقبت کو آگ نہیں سمجھتا ۔(4) چوتھااحتمال یہ ہے کہ وہ گناہ کی عاقبت کو آگ تو سمجھتا ہے مگراسے کفار کے ساتھ مخصوص جانتا ہے (5) پانچواں احتمال یہ ہےکہ وہ آگ کوان کے ساتھ  تو مخصوص نہیں جانتا مگر اپنے کو نازبینِ الہی سمجھتاہے (6) چھٹااحتمال یہ ہے کہ وہ اپنے کو نازبین بھی نہیں سمجھتا مگر اس کاخیال ہے کہ میں آگ کوبرداشت کرسکونگا ۔(7) ساتواں احتمال یہ ہےکہ وہ سمجھتا کہ کوئی میری سفارش کرلے گا (8) اٹھواں احتمال یہ کہ کہتاہے کہ موت سے قبل توبہ کرلوں گا ۔ اس طرح کے بے شماردیگر احتمالات  اس میں موجود ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص ان مفکرین کی طرح بلا دلیل ایک وجہ کو ترجیح دیتا ہے تو وہ یاتو التباس کامرتکب ہے یا پھر تلبیس کرنے کا۔ گناہ اور برے افعال کے ارتکاب میں صرف جذبات ۔ میلانات اور خواہشات وغیرہ کو متعین سبب کے طور پر پیش کرنا ہمارے نزدیک ان دونوں چیزوں میں سےایک ہے ۔ بعض گناہوں کے اسباب یقینا یہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ مگر سب کےلیے ان اسباب کا تعین محتاج دلائل ہیں ۔ رہی دوسری بات تو وہ اس بات سے بھی زیادہ بودی اورناقص ہے کیونکہ تشدد اور سختی سے توانسان نیکیوں پربھی پرپشیمان ہو جاتا ہے ۔ تو کیا پھر اس کا مطلب ان مفکرین کے نزدیک یہ ہوگا کہ اصل چیز برائی ہے ؟ بات دراصل وہی ہے جو ہم نے ابتدا میں لکھی ہے کہ انسانی” شعور” میں نیکی وبدی کاتصوراگر چہ وہ عمل سے متعلق ہو محض اجمالی ہے ۔ اس تصور کو تقویت دینا ، اسے مزید روشن کرنا ، اور مقاماتِ التباس میں اس کی راہنمائی کرنا وغیرہ  شریعت کاکام ہے ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

فکرِ فراہی کا سقم

فکرِ فراہی کا سقم

ڈاکٹر خضر یسین مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عربی دانی کا انکار نہیں اور نہ...