محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف...
محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...
محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...
محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...
محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ ذیل میں غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور ان کے متند رات کا تفصیلی علمی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کی راے کے مندرجہ بالا بیان میں ایک بنیادی مقدمہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں ان کے موقف...
محمد عامر گردز عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی...
غامدی صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ” حقوق العباد” معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ” میں عموم ہے ۔ البتہ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک ” آیت سے پتا چلتا ہے کہ شرک کے علاوہ خدا کچھ بھی معاف کر سکتا ہے ۔
بخاری کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے سو انسانوں کے قاتل کو خدا نے معاف فرما دیا ۔ اسی طرح حج کی بابت حدیث ہے ۔
قیامت میں خدا تصفیے اور عدل کی بنا پر فیصلہ فرمائے گا ۔ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ انسان کا کوئی عمل خدا کو پسند آ جاتا ہے تو اس سے ہونے والی حقوق العباد کے متعلق کوتاہی کا بدلہ اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے ۔ قیامت میں دونوں صورتوں سے تصفیہ ممکن ہے ۔ ایک یہ ہے کہ ظالم سے مظلوم کو اسکی نیکیوں کے ذریعے بدلہ دلوایا جائے اگر اللہ نے اسے معاف نہیں کیا اور اس نے توبۃ النصوح نہیں کی ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی یا اللہ کو اسکا کوئی عمل پسند آگیا ہے تو اللہ مظلوم کو اپنے انعامات سے نواز کر خوش کرے گا ۔
مسند احمد کی حدیث ہے کہ ظالم اور مظلوم کھڑے ہوں گے ، اللہ مظلوم کو جنت کی نعمتیں دیکھائے گا اور کہے گا : یہ میں تجھے دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ تو اسے معاف کر دے ۔اور یہ اس وجہ سے ہو گا کیونکہ اللہ ظالم کو معاف کر چکا ہو گا ۔
لہذا غامدی صاحب نے جو عموم قائم کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔
All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!
We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!