کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

Published On November 7, 2024
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی

تلخیص : زید حسن

غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ” حقوق العباد” معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ” میں عموم ہے ۔ البتہ” ان اللہ لا یغفر  ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک ” آیت سے پتا چلتا ہے کہ شرک کے علاوہ خدا کچھ بھی معاف کر سکتا ہے ۔

بخاری کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے سو انسانوں کے قاتل کو خدا نے معاف فرما دیا ۔ اسی طرح حج کی بابت حدیث ہے ۔

قیامت میں خدا تصفیے اور عدل کی بنا پر فیصلہ فرمائے گا ۔ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ   بعض دفعہ انسان کا کوئی عمل خدا کو پسند آ جاتا ہے تو اس سے ہونے والی حقوق العباد کے متعلق کوتاہی کا بدلہ اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے ۔ قیامت میں دونوں صورتوں سے تصفیہ ممکن ہے ۔ ایک یہ ہے کہ ظالم سے مظلوم کو اسکی نیکیوں کے ذریعے بدلہ دلوایا جائے اگر اللہ نے اسے معاف نہیں کیا اور اس نے توبۃ النصوح نہیں کی ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی یا اللہ کو اسکا کوئی عمل پسند آگیا ہے تو اللہ مظلوم کو اپنے انعامات سے نواز کر خوش کرے گا ۔

مسند احمد کی حدیث ہے کہ ظالم اور مظلوم کھڑے ہوں گے ، اللہ مظلوم کو جنت کی نعمتیں دیکھائے گا اور کہے گا : یہ میں تجھے دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ تو اسے معاف کر دے ۔اور یہ اس وجہ سے ہو گا کیونکہ اللہ ظالم کو معاف کر چکا ہو گا ۔

لہذا غامدی صاحب نے جو عموم قائم کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔

ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک کو کلک کریں ۔

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…