محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...
محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...
محمد حسنین اشرف دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...
محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...
محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...
غامدی صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ” حقوق العباد” معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ” میں عموم ہے ۔ البتہ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک ” آیت سے پتا چلتا ہے کہ شرک کے علاوہ خدا کچھ بھی معاف کر سکتا ہے ۔
بخاری کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے سو انسانوں کے قاتل کو خدا نے معاف فرما دیا ۔ اسی طرح حج کی بابت حدیث ہے ۔
قیامت میں خدا تصفیے اور عدل کی بنا پر فیصلہ فرمائے گا ۔ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ انسان کا کوئی عمل خدا کو پسند آ جاتا ہے تو اس سے ہونے والی حقوق العباد کے متعلق کوتاہی کا بدلہ اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے ۔ قیامت میں دونوں صورتوں سے تصفیہ ممکن ہے ۔ ایک یہ ہے کہ ظالم سے مظلوم کو اسکی نیکیوں کے ذریعے بدلہ دلوایا جائے اگر اللہ نے اسے معاف نہیں کیا اور اس نے توبۃ النصوح نہیں کی ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی یا اللہ کو اسکا کوئی عمل پسند آگیا ہے تو اللہ مظلوم کو اپنے انعامات سے نواز کر خوش کرے گا ۔
مسند احمد کی حدیث ہے کہ ظالم اور مظلوم کھڑے ہوں گے ، اللہ مظلوم کو جنت کی نعمتیں دیکھائے گا اور کہے گا : یہ میں تجھے دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ تو اسے معاف کر دے ۔اور یہ اس وجہ سے ہو گا کیونکہ اللہ ظالم کو معاف کر چکا ہو گا ۔
لہذا غامدی صاحب نے جو عموم قائم کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔
All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!
We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!