ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

Published On March 14, 2025
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

سمیع اللہ سعدی

علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔
و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔
فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں لکھے ہؤئے ہر مسئلے کی جگالی نہ کی جائے ،کیونکہ عوام بہت سارے مسائل میں ملحوظ قیود و شرائط ، پس منظر اور موقع و محل سے واقف ہوئے بغیر اسے لیتے ہیں ،جس سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے ،تراویح سنت ہے یا نفل؟اگر سنت ہے تو سنیت کس درجہ کی؟نفل ہے تو مستقل نوافل میں ہے یا تہجد ہی کی ایک صورت ہے؟نوافل کے عمومی ضابطے سے ہٹ کر اسے مسجد میں ادا کرنا بہتر ہے یا انفرادی؟ باجماعت ادا کرنا افضل ہےیا فردا فردا؟یہ سارے مباحث محض علمی ہیں ،اس لیے دینی احکامات سے تساہل کے اس دور میں ان علمی مباحث کو عوام کے سامنے اس طرح سے بیان کرنا کہ رمضان جیسے مبارک مہینے میں جو چند لوگ مسجد کا رخ کرتے ہیں اور قرآن ذوق و شوق سے سنتے ہیں ،وہ بھی مسجد سے اعراض کرنے لگ جائیں ،کوئی “دینی خدمت” نہیں ،اس کے لیے تو نبوی داعیانہ اسلوب اختیار کرنا چاہیے
من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ کہ جو رمضان کی راتوں میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کرتے ہیں ۔
سچ کہا ہے کسی نے “یک من علم را دہ من عقل می باید کہ ایک من علم کے لیے دس من عقل کی ضرورت ہے ۔
افسوس غامدی صاحب پر نہیں کہ انہیں کتابوں میں پڑھی ہوئی چیزوں کی ہر صورت و ہر موقع پر جگالی کی عادت ہے ۔ دل ان “علماء”سے دکھی ہے جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے موطا امام محمد و طحاوی کے حوالے دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید “علم کا کوہ ہمالیہ سر کر لیا “۔
فقہ و فتوی سے مناسبت رکھنے والا شخص بھی اگر فقہاء کی دور بینی نظر انداز کر دے تو یقینا تفقہ کا ماتم کرنا چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…