تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

Published On May 5, 2025
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

حسان بن علی

اور یہ واضح رہے کہ انکارِ حجیتِ حدیث کے حوالے سے غلام احمد پرویز، اسی طرح عبداللہ چکڑالوی کا درجہ ایک سا ہے کہ وہ اسے کسی طور دین میں حجت ماننے کے لیے تیار نہیں (غلام احمد پرویز حديث کو صرف سیرت کی باب میں قبول کرتے ہیں، دیکھیے کتاب مقام حدیث) اور اس سے کم تر درجہ اسلم جيراجپوری صاحب کا کہ وہ حدیث کو قرآن اور متواتر عمل (جسے چند مزید شرائط کے ساتھ غامدی صاحب سنت کا عنوان دیتے ہیں) کے دائرے میں (اور یہ دائرہ بھی وہ خود ہی تشکیل دیتے ہیں) قابل احتجاج سمجھتے ہیں لیکن حديث کی استقلالى حجيت کے منکر. یہی حال ہمارے غامدی صاحب کا ہے. اس سے کم تر مولانا امین احسن اصلاحی كا کہ وہ حدیث کی استقلالى حجیت کے قول کی طرف مائل ليكن اس معاملے میں ان کے منہج کا سقم ترتیب الأدلہ يعنى دلائل کی ترتیب کا ہے مثلا وه صرف مخصوص صورت میں ہی حدیث کے ذریعے قرآن کی تخصیص کے قائل ہیں (اور اپنے اس اصول کو انہوں نے مبادى تدبر حدیث میں خود ذکر کیا ہے) جیسے کہ وہ حدیث رجم کے ذریعے قرآن کی تخصیص کے قائل نہیں. اسى طرح وه سنت اور حدیث کو (باعتبار مصدر تشريع) الگ سے بیان کرتے ہیں*، جیسا کہ ان سے پہلے غلام قادیانی اور اس تقسيم کے درپردہ جو اشکال کار فرما ہے وہ عہد اول میں جمع حدیث (بمقابل قرآن) کے حوالے سے قلت التفات یا قلت اہتمام کا وقوع بیان کیا جاتا ہے!
* (بعض حضرات اس ضمن میں اس امر کو بنیاد بناتے ہیں کہ امام مالک بھی عمل اہل مدینہ کو اخبار احاد پر ترجیح دیتے تھے یا احناف کے نزدیک تواتر عملی کو اخبار احاد پر ترجیح دینے کا عمل تو اس پر یہ عرض ہے کہ یہ عمل تو عند تعارض الأدلة ہے نہ کہ اصل سے متعلق کیونکہ عند تعارض الأدلة اسی کو ترجیح حاصل ہے جو ثبوت کے لحاظ سے أقوی ہو. چنانچہ تواتر عملی کو خبر واحد پر ترجیح دی جائے گی، اسی طرح تواتر سندی کو خبر واحد پر. لیکن اگر ان کے درمیان تعارض نہیں تو جس طرح تواتر عملی سے کسى چیز کا مشروع ہونا يا سنت ہونا درست ٹھہرتا ہے، اسی طرح تواتر سندی اور خبر واحد سے بھی)
اسى طرح مولانا اصلاحى تواتر سندی کے قائل نہیں کہ ان کے مطابق خبر کا متواتر ہونا یہ ایسا اسم ہے جس کا کوئی مسمی نہیں چنانچہ وه سب احادیث کو احاد کی کیٹگری میں داخل کر کے سب کو مظنون ٹھہراتے ہیں، یہی حال مولانا حمید الدین فراہی کا ہے اور ان سے پہلے غلام قادیانی کا.
حاصل کلام یہ کہ غامدی صاحب کا اس معاملے میں موقف مستخفين حدیث کا ہے اور خاص اس معاملے وہ اسی جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں جس جگہ ان کے اسلاف کھڑے تھے. یعنی غامدی صاحب جب یہ بات کہتے ہیں کہ ان کے اور اسلاف کے موقف میں سر مو کوئی فرق نہیں تو جان لینا چاہیے کہ وہ کن اسلاف کی بات کر رہے ہیں. ذرا اسلم جيراجپوری صاحب کی یہ درجہ ذیل سطریں ملاحظہ کیجئے جو تشابهت قلوبهم کی مصداق ہیں
” یہ خیال اس وقت دل میں بمنزلہ تخم کے پڑ گیا جو برابر پرورش پاتا رہا. 1904 میں لاہور میں مجھ کو معلوم ہوا کہ مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی حدیث کے قائل نہیں ہیں. ان سے جا کر ملا. تین گھنٹے تک گفتگو رہی. جس کو انہوں نے اسی بحث میں ضائع کر دیا کہ رسول کا لفظ کلام مجید میں جہاں جہاں آیا ہے اس سے مراد قرآن ہے نہ کہ ایک مخصوص انسان. میں نے دیکھا کہ وہ حقیقت آشنا نہیں ہے انہوں نے سنت متواترہ یعنی عمل بالقرآن کا بھی انکار کر دیا تھا. اس وجہ سے سخت مشکل میں گرفتار تھے اور سوائے تاویلات ركیكہ کے عمل کے لیے کوئی راستہ نہیں پاتے تھے. پھر دوبارہ کبھی ان کی ملاقات کا موقع نہیں ملا.
جب قرآنی حقائق اللہ نے میرے دل پر کھولے اس وقت حدیث کی اصلی حیثیت بالکل واضح ہو گئی کہ وہ دینی تاریخ ہے خود اس کو دین سمجھنا صحیح نہیں اگر دین ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی طرح اس کو بھی لکھوا کر امت کو دیے جاتے. دین کے لیے قرآن کافی ہے جو کامل کتاب ہے اور جس میں دین مکمل کر دیا گیا ہے” (مقالات اسلم، صفحہ 35، 36)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…