حدیث کی نئی تعیین

Published On April 28, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

محمد دین جوہر

 

میں ایک دفعہ برہان احمد فاروقی مرحوم کا مضمون پڑھ رہا تھا جس کا عنوان تھا ”قرآن مجید تاریخ ہے“۔ اب محترم غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ بخاری شریف تاریخ کی کتاب ہے۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو محترم غامدی صاحب قرآن مجید کو بھی تاریخ (سرگزشت انذار) ہی قرار دیتے ہیں۔ ایسی آرا کثرت سے مل جاتی ہیں جن میں قرآن و حدیث کو ڈیفائن کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے۔ اس طرح کی آرا سامنے آنے کی وجہ یہ ہے ہمارے ہاں علوم کی تشکیل اور تعیین کے نظری اصولوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ محترم غامدی صاحب کی یہ رائے میزان میں بیان کردہ ان کے ”اصول و مبادی“ کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ اصول علمیاتی ہیں اور نہ ہرمینیاتی۔ گزشتہ دو سو سال میں سامنے آنے والے ہمارے تکفیری علوم اس طرح کی آرا سے بھرے پڑے ہیں۔

میں نے اوپر جن دو آرا کا ذکر کیا ہے وہ ”اسلام کیا ہے؟“ کا جواب دینے کی کوشش میں سامنے آئی ہیں۔ جیسا کہ میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ برصغیر کی حد تک، ہمارے مذہبی اہل علم دو سوالوں کا جواب دینے میں لگے ہوئے ہیں اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ”مسلمان کون ہے؟“ اس طرح کے سوالات مکمل طور پر لاینحل رہیں گے جب تک دینی علوم سے باہر، نظر و استدلال کے دائرے میں ہم چار سوالوں کا جواب نہیں دے لیتے : (۱) عقل سے کیا مراد ہے؟ (۲) علمیات سے کیا مراد ہے؟ اور (۳) ہرمینیات/علم تعبیر  کسے کہتے ہیں؟ (۴) مابعد الطبیعاتی/عرفانی علوم  کی حیثیت کیا ہے؟ میں ذاتی طور پر مابعدالطبیعاتی علوم میں اشتغال کو مفید نہیں سمجھتا۔ ماضی کی طرح اس وقت بھی ہمیں ارسطوئی عقل سے معاملہ درپیش ہے جس نے ہمارا گھر پورے کا پورا ڈھا دیا ہے۔ ارسطوئی عقل سے بدکا اور بھاگا ہوا آدمی مابعدالطبیعات میں پناہ پکڑنے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے صوفی بچارے بھی بھکت گری کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے حالانکہ اِنھیں محترم غامدی صاحب نے تصوف کو متوازی دین قرار دے کر ان سب کو دین سے نکال باہر کیا۔ اب ان کو خود بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ وہ اندر ہیں کہ باہر۔ گزارش ہے کہ ہر تہذیب یا ہر علمی روایت میں علوم کی تشکیل انھیں تین دائروں میں ہوئی ہے اور ہوتی ہے۔ حدیث شریف تاریخ ہے یا نہیں کا سوال بھی انھیں دائروں سے براہ راست متعلق ہے، اور وہیں حل ہو گا۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ ہمارے علما کو مفکرین اسلام بننے کا بہت شوق ہو گیا ہے۔ ہماری روایت اس پر گواہ ہے کہ عالم دین فتوے میں بولتا ہے، فلسفے یا فکر میں نہیں۔ اعتراض یا اختلاف کی صورت میں ہمارا عالم دین اپنے فتوے کا نظری دفاع کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ اب فتویٰ کیا ہے اور فکر و نظر کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے وہ روز سامنے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…