محمد دین جوہر
میں ایک دفعہ برہان احمد فاروقی مرحوم کا مضمون پڑھ رہا تھا جس کا عنوان تھا ”قرآن مجید تاریخ ہے“۔ اب محترم غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ بخاری شریف تاریخ کی کتاب ہے۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو محترم غامدی صاحب قرآن مجید کو بھی تاریخ (سرگزشت انذار) ہی قرار دیتے ہیں۔ ایسی آرا کثرت سے مل جاتی ہیں جن میں قرآن و حدیث کو ڈیفائن کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے۔ اس طرح کی آرا سامنے آنے کی وجہ یہ ہے ہمارے ہاں علوم کی تشکیل اور تعیین کے نظری اصولوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ محترم غامدی صاحب کی یہ رائے میزان میں بیان کردہ ان کے ”اصول و مبادی“ کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ اصول علمیاتی ہیں اور نہ ہرمینیاتی۔ گزشتہ دو سو سال میں سامنے آنے والے ہمارے تکفیری علوم اس طرح کی آرا سے بھرے پڑے ہیں۔
میں نے اوپر جن دو آرا کا ذکر کیا ہے وہ ”اسلام کیا ہے؟“ کا جواب دینے کی کوشش میں سامنے آئی ہیں۔ جیسا کہ میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ برصغیر کی حد تک، ہمارے مذہبی اہل علم دو سوالوں کا جواب دینے میں لگے ہوئے ہیں اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ”مسلمان کون ہے؟“ اس طرح کے سوالات مکمل طور پر لاینحل رہیں گے جب تک دینی علوم سے باہر، نظر و استدلال کے دائرے میں ہم چار سوالوں کا جواب نہیں دے لیتے : (۱) عقل سے کیا مراد ہے؟ (۲) علمیات سے کیا مراد ہے؟ اور (۳) ہرمینیات/علم تعبیر کسے کہتے ہیں؟ (۴) مابعد الطبیعاتی/عرفانی علوم کی حیثیت کیا ہے؟ میں ذاتی طور پر مابعدالطبیعاتی علوم میں اشتغال کو مفید نہیں سمجھتا۔ ماضی کی طرح اس وقت بھی ہمیں ارسطوئی عقل سے معاملہ درپیش ہے جس نے ہمارا گھر پورے کا پورا ڈھا دیا ہے۔ ارسطوئی عقل سے بدکا اور بھاگا ہوا آدمی مابعدالطبیعات میں پناہ پکڑنے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے صوفی بچارے بھی بھکت گری کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے حالانکہ اِنھیں محترم غامدی صاحب نے تصوف کو متوازی دین قرار دے کر ان سب کو دین سے نکال باہر کیا۔ اب ان کو خود بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ وہ اندر ہیں کہ باہر۔ گزارش ہے کہ ہر تہذیب یا ہر علمی روایت میں علوم کی تشکیل انھیں تین دائروں میں ہوئی ہے اور ہوتی ہے۔ حدیث شریف تاریخ ہے یا نہیں کا سوال بھی انھیں دائروں سے براہ راست متعلق ہے، اور وہیں حل ہو گا۔
دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ ہمارے علما کو مفکرین اسلام بننے کا بہت شوق ہو گیا ہے۔ ہماری روایت اس پر گواہ ہے کہ عالم دین فتوے میں بولتا ہے، فلسفے یا فکر میں نہیں۔ اعتراض یا اختلاف کی صورت میں ہمارا عالم دین اپنے فتوے کا نظری دفاع کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ اب فتویٰ کیا ہے اور فکر و نظر کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے وہ روز سامنے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔