دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

Published On May 23, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک مسلمان صرف دین “اسلام” کےلیے مان سکتا ہے۔ تو کیا آپ کے نزدیک دینِ اسلام واحد حق نہیں ہے؟
اس کے جواب میں یہ کہنا کہ دوسرے بھی تو اپنے لیے یہی سمجھتے ہیں، محض بے عقلی ہے۔ بھئی، کہتے رہیں دوسرے؛ سوال یہ تو نہیں کہ دوسرے اپنے مذہب کو واحد حق سمجھتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اسلام واحد حق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو بحث ہی ختم ہوگئی؛ اور اگر ہے، تو اس کے بعد یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ اگر ہم اپنے نظام میں یہ کچھ مانتے ہیں، تو دوسرے بھی تو پھر اپنے نظام میں وہ کچھ مانتے ہوں گے۔ بے شک وہ مانتے رہیں اور ہم یہی کہیں گے کہ ہمارے ہاں یہ حق ہے اور ان کے ہاں یہ غلط ہے۔
پیمانہ ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام ہی واحد حق ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اس پیمانے پر شرک باطل ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی۔
اس کے بعد اس سوال کا جواب کتنا آسان ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے ہاں غیر مسلموں کے ساتھ کو کیا قانونی پوزیشن دیتے ہیں؟ وہی جو دینِ حق کی رو سے انھیں دیا جاسکتا ہے۔
پھر یہ سوال کہ وہاں مسلمانوں اپنے لیے کیا قانونی پوزیشن لیں گے؟ یہ وہاں کے معروضی حالات میں وہاں کے مسلمانوں کو فیصلہ کرنے دیں اور اس کےلیے دینِ حق نے کئی بنیادی اصول دیے ہوئے ہیں جن سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کہاں تک گنجائش ہے اور کہاں گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔
ویسے کیا آپ نے یہاں اور وہاں کے متعلق لیاقت نہرو معاہدہ پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا کی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
غامدی صاحب کے دامادِ عزیز کو کہیے کہ جیسے آپ نے بقیہ الفاظ کےلیے ہندی متبادل ڈھونڈنے کا کشٹ اٹھایا ہے، تھوڑی مزید محنت کرکے “ہرگاہ” کا ہندی متبادل بھی دیکھ لیجیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…