غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

Published On November 26, 2023
سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو “منکر حدیث” کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی “انکار حدیث” سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ حدیث کے معاملے میں “پرویزی” نہیں ہیں۔

اور اگر آپ کی انکار حدیث سے مراد یہ ہے کہ غامدی صاحب حدیث کو وہ مقام نہیں دیتے جو کہ خود قرآن مجید نے دیا ہے یا جس پر امت نے اتفاق کیا ہے تو یہ بات ایسے ہی ہے۔ عام طور لوگ کہتے ہیں کہ دیکھیں پرویز صاحب تو نماز روزے کے بھی قائل نہیں تھے لیکن غامدی صاحب تو ہیں۔ تو یہ بات درست ہیں کہ غامدی صاحب ارکان اسلام وغیرہ کے قائل ہیں لیکن وہ اسے حدیث سے نہیں، سنت سے مانتے ہیں۔ لہذا یہ ماننے کے باوجود یہ سوال پھر باقی رہ جاتا ہے کہ ان کے ہاں حدیث کا مقام کیا ہے؟

آسان الفاظ میں سوال  یہ   پیدا ہوا کہ کیا “حدیث” دین اسلام کا کوئی بنیادی ماخذ ہے؟

مسلمانوں کا اس پر اتفاق رہا ہے کہ قرآن مجید کے علاوہ حدیث بھی بنیادی ترین مآخذ میں شامل ہے اور بنیادی ترین مآخذ دو ہیں یعنی قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حدیث میں ہے۔ جبکہ غامدی صاحب کا کہنا یہ ہے کہ حدیث، دین اسلام کا بنیادی ترین ماخذ نہیں ہے۔ اور بنیادی ترین مآخذ ان کے نزدیک بھی دو ہی ہیں لیکن وہ قرآن مجید اور سنت ابراہیمی ہیں۔

اس کو ایک اور طرح سے سمجھ لیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حدیث دین اسلام کا مستقل مآخذ ہے یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دین اسلام میں کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے سکیں؟ تو مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریع  کا یہ حق اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے جبکہ غامدی صاحب اس کے قائل نہیں ہیں۔

غامدی صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید میں موجود احکامات کی محض شرح اور تفسیر کر سکتے ہیں، ان میں اضافہ یا ان کے نسخ یا ان کی ایسی تشریح نہیں کر سکتے کہ جس سے وہ قرآنی حکم محدود ہو جائے۔ ان کے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے یہ حق نہیں دیا گیا ہے۔ شارع  صرف اللہ کی ذات ہے اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تبعا بھی شریک نہیں ہیں۔

پس وہ حدیث کی حیثیت کو مانتے ہیں لیکن صرف اتنی کہ وہ قرآن مجید کی تفسیر یا شرح بن سکے۔ جہاں جہاں حدیث قرآن مجید کے کسی حکم پر اضافہ، یا نسخ یا اس کی تحدید کا باعث بنے گی، تو وہ اسے بیان شریعت ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ پس ان کے نزدیک حدیث کی حیثیت ایک تاریخی ریکارڈ اور تفسیر کی سی ہے نہ کہ دین اسلام کے کسی بنیادی مصدر  کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دینی علوم کے معروف اسکالر ہیں اور رفاہ یونیورسٹی لاہور میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…