غامدی صاحب کی انتہاپسندی

Published On July 26, 2024
داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

مولانا نیاز محمد مروت صاحب جناب جاوید غامدی صاحب نے مردوں کے داڑھی رکھنے کے معمول چلے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڑھی رکھنے کی عادت کا اعتراف کیا ہے ، جو کہ حق بات ہے، بشرطیکہ طبعی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ معمول کے طور پر داڑھی رکھنا مراد ہو، چنانچہ اس پر...

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب تلخیص : زید حسن اس ویڈیو میں سپیکر حافظ محمد زبیر صاحب نے " بعض افراد" کے اس دعوے کہ آپ کی تفہیمِ غامدی درست نہیں ، کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ لیکن اس پر از راہِ تفنن گفتگو کرنے کے بعد چند اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے اور غامدی منہج پر سوالات...

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

 محمد عبدالاکرم سہیل

محترم جاوید احمد غامدی علم دین کے اعتبار سے دنیا کی ایک قابل قدر شخصیت ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں فرقہ بندی کو مٹانے کیلئے آپ نے جس کار تجدید کا کام انجام دیا ہے اور دین پر بات کرنے کاجو ڈھنگ آپ نے سکھایا ہے وہ نہایت ہی قابل تعریف ہے اور شاید پورے پاک و ہندمیں آپکا کوئی ثانی نہیں لہذا آپ پر تنقید گویا مجھ جیسے طالب علم کو زیب نہیں دیتا لیکن میرے کچھ اشکالات ہیں جو میں نذر قارئین کرتا ہوں۔
ایک طرف توداعش،القاعدہ اور طالبان وغیرہ جیسی تنظیمیں ہیں جو اسلامی حکومت کے نام پر ظلم و فساد کرکے انتہاپسندی پر ہیں تو دوسری طرف غامدی صاحب ہیں جو دین کا مخاطب صرف فرد کو بتلاکر،دین کا مقصد آخرت میں نجات اور اسے موت کا مسئلہ بتاکر انتہاپسندی کے دوسرے سرے کو تھامے ہوئے ہے اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ غامدی صاحب جیسے اہل علم ان تنظیموں کی انتہاپسندی کا سبب اسلامی حکومت اور اقامت دین کے نظریے کو بتاتے ہیں۔ لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اگر کوئی نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے غلط طریقے کو اپناتا ہے تو اس کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ یہی انتہاپسندی کا سبب ہے یہ کہاں کا انصاف ہے اسکی مثال تو بالکل ایسی ہی ہے جیسے اگر کوئی شخص چوری کرکے صدقہ وخیرات کرتا ہے تو اسے دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ خیرات و صدقات کے نظریہ نے ہی چوری کو جنم دیا ہے تو یہ بالکل غیر مناسب بات ہوگی۔
اب جہاں تک دین کا مخاطب فرد کی بات ہے ،تو دین کے احکامات خود اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ فرد سے بڑھ کر اجتماع سے متعلق بھی ہوں۔حرمت سود، چور کا ہاتھ کاٹنے، زانی کو کوڑے مارنے اور قاتل سے قصاص لینے کے احکام خود یہ بتا رہے ہیں کہ دین صرف افراد سے نہیں، بلکہ ان کی اجتماعیت سے بھی متعلق ہوتا ہے۔ پھر دین کے بارے میں یہ تصور کہ وہ صرف جہنم کی آگ سے بچاتا ہے بالکل ایک ادھورا تصور ہے اور انسان کی یہ بہت بڑی غلطی ہوگی اگروہ دین کو صرف آخرت کی زندگی میں کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہو کیونکہ انسان روح اور جسم دونوں کا مجموعہ ہے اور اس کی زندگی دنیا و آخرت دونوں میں پھیلی ہوئی ہے لہذا اگر اسے کوئی ایسا مذہب دیا جاتا جو اسکی روح اور آخرت کی زندگی کے لئے تو کامیابی کا باعث بنتا مگر اس کے جسم اور اسکی دنیاوی زندگی کو کوئی فائدہ نہ پہنچاتا تو وہ دین اس کے لئے ایک نامکمل چیز رہ جاتی اور بقول مولانا مودودی یہ سینٹ پال کے ‘دین بلا شریعت’ والے نظریہ کی بات ہوجاتی۔
جب غامدی صاحب سے دین کے سیاسی اقتدار کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہے کہ ہم لوگ معاشرے سے زیادہ ریاست کو دین دار بنانا چاہتے ہیںپھر وہ بتلاتے ہیں کہ معاشرہ میں جتنا دین ہوگا تو اسکا ظہور آپ سے آپ ریاست میں بھی ہوجائے گا اسکے لئے کوئی ہدف بناکر کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات تو صد فیصد درست ہے کہ معاشرہ جتنا اسلامی ہوگا اتنے ہی معاشی اور سیاسی اقتدار کی جڑیں مضبوط رہیں گی لیکن یہ کہنا کہ اقتدار میں آپ سے آپ اسلام کا ظہور ہوگا یہ بات تو بالکل ہی ناممکن ہے ۔اسلئے کہ اقتدار ایک طاقت کا نام ہے اور طاقت آپ سے آپ حاصل نہیں ہوتی بلکہ اسے جدوجہد اور ہدف بناکر حاصل کرناپڑتا ہے اگر وہ آپ سے آپ حاصل ہوجائے پھر تو وہ اپنے معنی میں کوئی طاقت ہی نہیں رہی اور جہاں تک دین کے احکامات کا تعلق ہے تو وہ بغیر سیاسی اقتدار حاصل کئے ممکن ہی نہیں اور دین میں احکامات کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی ایمان و عقیدہ کی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید نے جہاں ایمان و عقیدہ کی خرابی کو جہنم کا راستہ بتلایا ہے تو وہیں احکامات و قوانین کو توڑنے پر دنیا و آخرت کی تباہی کی وعیدیں سنائی ہے ۔ قرآن مجید کی اس آیت نے پرغور کرنے کی ضرورت ہے، ” پس اے محمدؐ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق اِن لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اْس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے”سورہ المائدہ (5:50 )

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…