ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
غامدی صاحب کے داماد فرماتے ہیں:۔
خود کو احمدی کہلوانے والوں کے ماوراے عدالت قتل کا سبب 1984ء کا امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس ہے؛ جس کا سبب 1974ء کی آئینی ترمیم ہے جس نے خود کو احمدی کہلوانے والوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا؛ جس سبب قراردادِ مقاصد ہے جس نے ملک کو “کلمہ” پڑھوایا؛ جس کا سبب وہ مذہبی فکر ہے جس نے کفر و ارتداد پر سزا کا اختیار انسانوں کو دے دیا۔
ان سے پوچھیں کہ یہاں رک کیوں گئے؟ آگے بڑھیے اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے کہ:۔
اس مذہبی فکر کا سبب یہ عقیدہ ہے کہ حق صرف اسلام ہے؛
اور اس عقیدے کا سبب یہ ماننا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں جن کے بعد تاقیامت کسی اور رسول نے نہیں آنا اور اب قیامت تک انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ وہی دین ہے جو حضرت محمد ﷺ نے دیا؛
اور یہ ماننے والے یہ اس لیے مانتے ہیں کہ اس سے قبل وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں بھیجا ہے تو کسی خاص مقصد سے بھیجا ہے اور اس مقصد تک رہنمائی کےلیے اس نے وحی و رسالت کا بندوبست بھی کیا ہوا ہے؛
اور جو یہ بھی مانتے ہیں وہ اس سے قبل یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے خیر و شر سے لاتعلق نہیں ہے؛
اور جو یہ بھی مانتے ہیں وہ اس سے قبل یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات ہیں جنھیں ان سب سے پہلے ماننا لازم ہے؛
اور جو اللہ تعالیٰ کی یہ صفات مانتے ہیں وہ اس سے قبل اللہ تعالیٰ کے وجود کو بھی مانتے ہیں؛
پس اگر اللہ کے وجود، اس کی صفات، اس کے انسانوں سے تعلق، اس کی جانب سے رسول بھیجے جانے، اس کے رسولوں کے سلسلے کے خاتمے اور پھر مرنے کے بعد روزِ قیامت اللہ کے سامنے جوابدہی کی باتیں نہ مانی جاتیں، یا ان میں سے کوئی ایک بات بھی نہ مانی جاتی، تو بات قراردادِ مقاصد، آئینی ترمیم اور امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس تک نہ پہنچتی۔
تو آپ رک کیوں گئے؟ بات کو خدا کے وجود تک پہنچانے میں کیا رکاوٹ حائل ہے؟
پھر اگر آپ تاویل گھڑتے ہیں کہ خدا کو ماننے، اس کی صفات کو ماننے، اسلام کو تنہا اور مکمل حق ماننے، اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی و رسول ماننے کے باوجود کسی نہ ماننے والے کا ماوراے عدالت لازم یا جائز نہیں بنتا،
تو
بعینہ وہی تاویل ریاست کو قراردادِ مقاصد کے ذریعے کلمہ پڑھوانے، دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے خود کو احمد کہلوانے والوں کو غیر مسلم قرار دینے اور امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کے ذریعے انھیں بعض افعال سے روکنے کے باوجود ان کے ماوراے عدالت قتل کو لازم یا جائز ماننے سے روکنے کےلیے کیوں استعمال نہیں کی جاسکتی؟
نہیں، صاحب۔ ماوراے عدالت قتل کےلیے سبب قراردادِ مقاصد، دوسری آئینی ترمیم یا امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس نہیں، بلکہ کچھ اور ہے۔
اس “کچھ اور” کی طرف جاتے ہوئے آپ کے پر کیوں جلنے لگتے ہیں؟