جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

Published On February 13, 2024
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

عمران شاہد بھنڈر

چند ہفتے قبل جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ ایک بار پھر قرآن کے تصورِ تخلیق کو بروئے کار لاتے ہوئے’’ وجود‘‘ کے مسئلے کی وضاحت کررہے تھے ۔ غامدی صاحب اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ ’’قرآن سے پہلے سقراط و افلاطون کی جو تاریخ شروع ہوئی وہ ایک ہی چیز پر ارتکازِ توجہ کیے ہوئے تھی اور وہ وجود کا مسئلہ تھا ۔ ‘‘ یہ سُن کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ غامدی صاحب فلسفے کی تاریخ سے نابلد ہیں ۔ یونانی فلسفے میں ’’وجود‘‘ کے مسئلے کا باقاعدہ آغاز تو سقراط اور افلاطون سے قبل پارمیناءڈز سے شروع ہوتا ہے ۔ پارمیناءڈز ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے اپنی نظم’’ فطرت‘‘ میں وجود کے مسئلے کو منطقی شکل میں پیش کیا، اور اسی وجہ سے پارمیناءڈز کو ’منطق‘ کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پارمیناءڈز سے قبل تقریباََ سارا ہی یونانی فلسفہ کائنات کی ماہیت دریافت کرنے پر لگا ہوا تھا، اور سقراط وہ پہلا فلسفی ہے جس نے کائنات یا وجود کی بجائے ’’انسان‘‘ اور اس سے منسلک اخلاقیات کو موضوع بنایا ۔ انہی معنوں میں سقراط کو فلسفے کا بانی خیال کیا جاتا ہے ۔ ارسطو نے اپنی کتاب بعنوان’’ مابعد الطبیعات‘‘ میں فلسفے کی تاریخ کا تفصیلی احاطہ کیا ہے ۔ سقراط کے بارے میں عظیم فلسفی ارسطو کے یہ الفاظ سقراط کی فکری ترجیحات کا بخوبی تعین کرتے ہیں :

’’سقراط اخلاقی معاملات میں مصروف تھا ، اس لیے اس نے کائنات کو نظر انداز کر دیا ۔ (مابعد الطبیعات، ص،16 ) ۔

افلاطون چونکہ سقراط کا شاگرد تھا، اس لیے اس کی توجہ کا مرکز بھی انسان سے جڑے ہوئے معاملات ہی رہے ۔ لہذا یہ دعویٰ قطعی طور پر باطل ہے کہ’’ سقراط و افلاطون سے جو تاریخ شروع ہوئی وہ ایک ہی چیز پر توجہ کیے ہوئے تھی اور وہ وجود کا مسئلہ تھا ۔ ‘‘مجھے فلسفے کے طالب علموں کو اس سنگین تاریخی غلطی سے بچانے کے لیے غامدی صاحب کے اٹھائے گئے اس باطل نکتے کی تصحیح کرنی پڑی ۔

غامدی صاحب ایک غلطی کرنے کے بعد ایک اور بڑی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سقراط و افلاطون سے جو تاریخ شروع ہوتی ہے جس سے ان کے بقول ’’وجود‘‘ کی بحث شروع ہوتی ہے اس کے لیے، بقول غامدی ’’یہ عالم اور اس عالم سے ماورا اگر کوئی قوت کارفرما ہے تو اس کو ایک حقیقت مان کر اس کی توجیح کرنا، یہ سب سے بڑا مسئلہ تھا ۔ ‘‘ یہاں وہ جس نکتے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اس کا تعلق ’’ایک حقیقت‘‘ سے ہے یعنی وجود اور ماورائے وجود کو ’’ایک حقیقت‘‘ ماننا ۔ مجھے افسوس ہے کہ غامدی صاحب نے یونانی فلسفے کی ابتدائی نوعیت کی کتابیں بھی نہیں پڑھیں ، ورنہ وہ کم ازکم یہ غلطی نہ کرتے کہ سقراط اور افلاطون سے شروع ہونے والا یونانی فلسفہ کائنات اور ماورائے کائنات کو ’’ایک حقیقت‘‘ سمجھتا ہے ۔ فلسفے کے طالبِ علم اس فلسفیانہ قضیے سے اچھی طرح سے آگاہ ہوں گے کہ افلاطون کے فلسفے میں حقیقت کے ایک ہونے کے تصور کی نفی ہوتی ہے اور ’’دوئی‘‘ کا فلسفہ اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔ اور یہی دوئی کا تصور تھا جسے ارسطو نے افلاطون کے فلسفے کا تنقیدی محاکمہ کرنے کی جانب راغب کیا ۔ ارسطو نے افلاطون کے برعکس یہ دعویٰ کیا کہ پارٹیکولر کے بغیر یونیورسل کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، جبکہ افلاطون یونیورسل کو پارٹیکولر سے الگ یعنی یونیورسل کو اس کی خود مختار حیثیت سے تسلیم کرتا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران شاہد بھنڈر صاحب یو ۔ کے میں مقیم فلسفے کے استاد اور کئی گرانقدر کتب کے مصنف ہیں ۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…