تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال
(11) غامدی نظریہ حدیث : سورہ نحل آیت 44 اور ابن عاشور
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد
ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...
(10) غامدی صاحب کا نظریہ حدیث : قرآن کا تصورِ بیان
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ
ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...
جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا مضحکہ اڑا رہے تھے۔ تکفیر اور تقلید کے مخالفین کا یہ انتہاپسندانہ اور جامد مذہب میری سمجھ میں نہیں آسکا۔
دوسری بات جو میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی کو اس بنا پر کافر نہیں کہہ سکتے کہ دل کا حال تو خدا ہی جانتا ہے، تو پھر ہم کسی کو مسلمان کیسے مان سکتے ہیں جبکہ اس کے دل کا حال بھی خدا ہی جانتا ہے؟
یہیں سے اصل بات نکھر کر سامنے آجاتی ہے جو غامدی صاحب کے حلقے کے مؤقف کی بنیاد ہے۔ وہ اصل بات یہ ہے کہ کسی کا مسلمان ہونا یا نہ ہونا ایک ”پرائیویٹ“ معاملہ سمجھا جائے۔ کسی کو اس میں عمل دخل کی ضرورت نہ ہو۔ جو خود کو مسلمان کہتا ہے، وہ مسلمان ہے، اور جو خود کو مسلمان نہیں کہتا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو خود کو کافر کہے، اسے کیا کہیں گے؟ کیا پتہ وہ بھی اوپری دل سے، صرف زبان سے، یا محض ردِ عمل میں، بغیر سمجھے، یا بغیر غور کیے، یا ”بغیر اتمام حجت“ کے، ہی کہہ رہا ہو اور دل میں کافر نہ ہو؟ تو اس ”چکر“ میں پڑنا ہی نہیں چاہیے۔
یہاں سے ہم چوتھے سوال کی طرف جاتے ہیں۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کا مسلمان ہونا، یا نہ ہونا، صرف اس شخص کا اور اس کے خدا کا معاملہ ہے یا اس کے کچھ اثرات دوسرے انسانوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں؟ غامدی صاحب کا حلقہ یہاں بالعموم دو باتیں کرتا ہے:
ایک یہ کہ کسی کو کافر کہہ کر آپ اسے دراصل جہنم کا پروانہ دے رہے ہیں اور یوں خدا کی پوزیشن پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں کوئی ان سے کہے کہ جہنم میں یا جنت میں جانے کی بات تو آخرت میں ہوگی، ہمیں اصل فکر اس کے دنیوی نتائج کی ہے۔ مثلاً یہ کہ کیا اس کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ کیا وہ مسلمان کا وارث، یا مسلمان اس کا وارث، ہوسکتا ہے؟ کیا وہ مسلمان کا ولی ہوسکتا ہے؟ وغیرہ۔ اس زاویے سے دیکھیں تو ہی سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں غامدی صاحب نے نکاح اور میراث میں بھی ”اتمامِ حجت کا قانون“ گھسیڑ کر بہت سارے احکام، جیسے نکاح کی ممانعت یا میراث سے محرومی، کو رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین تک ہی محدود کردیا ہے۔ بہرحال اس وقت جو بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ کہ تکفیر کے قائلین، یعنی آپ کے سوا باقی پوری امت مسلمہ، دراصل دنیوی نتائج پر فوکس کررہی ہے لیکن آپ اپنے حلقے کے جذباتی نوجوانوں کے سامنے پلیئینگ گاڈ کی بات رکھ کر اور جنت اور جہنم کا پروانہ دینے کا اختیار بتاکر خلط مبحث کر رہے ہیں۔
دوسری بات جو غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب اس موقع پر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ کسی کو آپ محض غیر مسلم نہیں کافر قرار دیتے ہیں تو گویا اسے واجب القتل قرار دیتے ہیں! کوئی پوچھے کہ یہ نتائج کی طرف چھلانگ لگانا آپ کب چھوڑیں گے؟ کیا کسی نے یہ کہا ہے کہ جو بھی کافر ہیں سارے واجب القتل ہیں؟ کافر ہونے اور واجب القتل ہونے میں تلازم کا دعوی کس نے کیا ہے؟ یہ صحافیانہ انداز صحافی کوچہ گردوں کے ساتھ تو عجیب نہیں لگتا لیکن جب علم اور حلم کے مدعیان اور داعیان بھی اس طرح کی مبالغہ آمیزیاں اور مغالطہ انگیزیاں کریں تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
پانچویں اور آخری بات اور قابلِ غور امر یہ ہے کہ امتِ مسلمہ ہر دور میں تکفیر کی قائل رہی ہے۔ کسی مخصوص شخص یا گروہ کی تکفیر پر اختلاف الگ بات ہے، تکفیر میں احتیاط کی بات بھی اپنی جگہ لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ تکفیر سرے سے کی نہیں جاسکتی۔ پہلی دفعہ یہ ڈسکوری المورد میں ہوئی ہے۔ تو صاف الفاظ میں اسے دریافت ہی کہیں۔ اسے آپ ڈسکوری کہتے ہیں تو یہ تلبیس ہے کیونکہ اس طرح آپ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پہلے بھی یہی مؤقف تھا لیکن لوگوں سے گم ہوگیا تھا تو اب ہم نے ڈسکور کرلیا ہے۔
اتنا کچھ لکھ لینے کے بعد اب مجھ پر لازم ہوگیا ہے کہ میں اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں دے دوں۔ یا اللہ! انتہا پسندی کے مخالف اس انتہاپسند گروہ کی انتہاپسندی کے شر سے مجھے بچائیو!
بشکریہ دلیل
Appeal
All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!
Do Your Part!
We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!
You May Also Like…
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد
ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک...
(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت
محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن...
(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت
محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات...

