غامدیت: غامدی صاحب کے افکار و نظریات کا منصفانہ جائزہ

Published On July 23, 2024
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

مصنف: مفتی محمد وسیم اختر شاذلی (رئیس دارالافتاء فیضانِ شریعت ، کراچی)

تلخیص : زید حسن

زیرِ نظر کتاب دراصل ایک طویل استفتاء کا جواب ہے  جسے بعد ازاں کتابی شکل دے دی گئی ہے ۔ مستفتی کا نام سید عطاء الرحمن بن سید محب شاہ ہے ۔ اس استفتاء میں سائل نے غامدی صاحب کے چند کلامی اور فقہی نظریات کی بابت استفسار کیا ہے  ۔ جن کے عناوین درج ذیل ہیں ۔

کیا قرآن کی صرف ایک ہی قراءت ہے؟

حدیث سے قرآن کی تخصیص اور نسخ کا کیا حکم ہے؟

جانوروں کی حلت و حرمت کا حکم عقلی ہے یا شرعی؟

کیا سنت خبرِ واحد سے ثابت ہوتی ہے ؟

اخبارِ احاد سے کسی عقیدے یا عمل کا اثبات ممکن ہے؟

کسی کو کافر قرار دینا کیا صرف پیغمبر کا وظیفہ ہے ؟

زکوۃ اور اسکے متعلقات کی بابت احکام جاری کرنے یا انہیں تبدیل کرنے کا ریاست کو حق ہے؟

کیا مرتد کے قتل کی سزا زمانہء رسول کے ساتھ خاص ہے ؟

کیا محصن زانی کی سزا بھی کوڑے ہیں ؟

کیا ظہورِ مہدی اور نزولِ مسیح کا عقیدہ محلِ نظر ہے ؟

ڈاڑھی رکھنے کا دین میں کیا حکم ہے؟

ہر عنوان کے تحت سائل نے بحوالہ غامدی صاحب کے فکری نتائج اور تصورات کو بطور ثبوت پیش کیا ہے ۔

مفتی مذکور نے اولا غامدی صاحب کی فکر کو جدیدیت سے منسلک کیا ہے اور اس پر ایک پورا مقدمہ لکھا ہے ۔ بعد ازاں انہوں نے ہر سوال کا جواب دیا ہے ۔

جواب دینے کا انداز روایتی علمیات کے مطابق تحقیقی ہے کہ ہر سوال پر اولا مصنف غامدی صاحب پر نقد کرتے ہیں اور اگرانہیں محسوس ہو کہ غامدی صاحب کے نظریات میں تضاد ہے تو اسے واضح کرتے ہیں ۔ بعد ازاں اسکے مقابل اپنا نظریہ بیان کرتے ہیں اور اسے احادیث سے موکد کرتے ہیں ۔

جہاں جہاں ممکن ہو خصوصا ان کتب سے استفادہ کرتے ہیں جن کی تعریف یا تحسین غامدی صاحب سے منقول ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب پڑھنے کے لئے درج ذیل آنلائن لنک پر کلک کریں

نوٹ

لنک میں موجود سائٹ پر کتاب کے غیر قانونی اپلوڈ ہونے کی صورت میں غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ سائٹ ذمہ دار نہیں ہو گی ۔

https://archive.org/details/Ghamdiyat/page/n7/mode/2up?view=theater

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…