غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

Published On October 19, 2024
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

غامدی صاحب لکھتے ہیں “مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک کی حقیقت تو بے شک اس پر واضح کی جائے گی… لیکن اس کی تکفیر کے لئے چونکہ اتمام حجت ضروری ہے، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے۔
 (اسلام اور انتہا پسندی، ص:۲۱)
سوال یہ ہے کہ کفر و شرک کے مرتکب کو کافر و مشرک کہنا کیونکر ممنوع ہے؟ کیا خلفاء کے دور میں مرتدین اور خوارج کے خلاف جو جنگیں کی گئی  ان میں صحابہ غلطی پر تھے ؟  شاید غامدی صاحب  کے خیال میں کسی کو از خود کافر بنانے کو تکفیر کہتے ہیں حالانکہ علماء کافر بناتے نہیں بتاتے ہیں،  صرف  کافرانہ اور مشرکانہ عقائد کی نشاندہی  کرتے ہیں۔ كیا غٖامدی صاحب  قرآن و سنت کی کوئی دلیل پیش فرماسكتے ہیں جس میں واضح طور پر فرمادیا گیا ہو کہ اسلام سے پھر کر مرتد ہونے اور کفر و شرک اختیار کرنے والے کو کافر نہ کہا جائے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ موصوف کفر و اسلام کی سرحدوں کو مٹانے اور مسلم و کافر کے فرق کو مٹانے کی ناپاک تحریک کے علم بردار ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ جناب غامدی صاحب قادیانیوں جیسے منکرین ختم نبوت ،سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے گستاخوں اور ملعونوں کو مسلمان باور کرانااور دکھانا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے  علماء  کے مطالبے پر  قادیانیوں کو جو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے، یہ فیصلہ دینا پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا تھا اس لیے یہ نہ  کافر ہیں اور  نہ اس فیصلہ کی کوئی شرعی یا قانونی حیثیت ہے۔ ۔!! ایک جگہ خود ایک فیصلہ سناتے ہیں  ” تصوف ایک متوازی دین ہے”۔(برہان صفحہ 188) مطلب  تمام صوفیاء اور انکے پیروکار اسلام کے بجائے کسی اور دین کی پیروی کررہے ہیں اس لیے وہ  سب کافر  ہیں ! جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

بشکریہ ویب سائٹ

بنیاد پرست

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…