ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
اپنی ملامت کا رخ مسلسل مسلمانوں کی طرف کرنے پر جب غامدی صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ظالموں کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے، تو فرماتے ہیں کہ میری مذمت سے کیا ہوتا ہے؟ اور پھر اپنے اس یک رخے پن کےلیے جواز تراشتے ہوئے انبیاے بنی اسرائیل کی مثال دیتے ہیں کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے زوال کے وقت میں ان کے شرک اور برے اعمال پر تنقید کی لیکن حملہ آوروں کے خلاف کچھ نہیں کہا۔
بائبل سے اس کے برعکس معلوم یہ ہوتا ہے کہ انبیاے بنی اسرائیل نے بنی اسرائیل کو ان کے عقیدے اور عمل کی اصلاح کی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ ظالموں کے ظلم پر کڑی تنقید بھی کی، خواہ وہ ظالم بنی اسرائیل پر حملہ آور غیر مسلم قوموں کی صورت میں ہوں یا خود بنی اسرائیل کے ظالم حکمرانوں کی شکل میں ہوں۔
مثال کے طور پر یرمیاہ نبی، جو عین بنی اسرائیل پر بخت نصر کے حملے کے وقت نبوت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے، خصوصاً بابل اور شاہِ بابل بخت نصر کے ظلم پر اس کی تباہی و بربادی اور اس پر اللہ کے عذاب کی خبر دیتے ہیں اور لوگوں کو بابل سے نکلنے اور شاہِ بابل کی صفوں میں شامل نہ ہونے کا کہتے ہیں (صحیفۂ یرمیاہ، ابواب 50 و 51)۔ کیا غامدی صاحب خود کو اور دوسروں کو یرمیاہ نبی کی طرح ظالم اسرائیل اور اس کے اولین حامی امریکا سے نکلنے کا کہیں گے؟ کیا وہ یرمیاہ نبی کی طرح آج ناتن یاہو اور ٹرمپ پر تنقید کریں گے؟
حبقوق نبی کا صحیفہ بھی اس پر شاہد ہے۔ خصوصاً اس کا بابِ اول دیکھ لیجیے جس میں ظالم قوم کے ظلم کے متعلق حبقوق نبی پر نازل ہونے والی وحی مذکور ہے۔ اسی طرح حزقیال نبی کے صحیفے کے ابواب 26 تا 28 میں صور کے ظالموں اور ابواب 29 تا 32 میں مصر کے ظالموں کی شدید مذمت ہے۔ یسعیاہ نبی کے صحیفے کے باب 10 میں صور اور باب 23 میں اشور کے ظلم پر شدید وعید ہے۔
پتہ نہیں پھر اتنے بے بنیاد دعوے اس دھڑلے کے ساتھ کیسے کیے جاتے ہیں؟