سود ، غامدی صاحب اور قرآن

Published On February 10, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حسان بن علی

پہلے یہ جاننا چاہیے کہ قرآن نے اصل موضوع سود لینے والے کو کیوں بنایا. اسے درجہ ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے
١) چونکا سود کے عمل میں بنیادی کردار سود لینے والے کا ہے لہذا قرآن نے اصل موضوع اسے بنایا.
٢) سود لینے والے کے لیے مجبوری کی صورت نہ ہونے کے برابر ہے بخلاف سود دینے والے کے.
٣) جیسے رشوت لینے کے عمل کی مذمت قرآن پاک میں اطلاق کے ساتھ ہے اور اسی لفظ (أكل) کھانے کے ساتھ ہے (أكالون للسحت يا أكلهم السحت) بخلاف رشوت دینے کے عمل کی. اسی طرح سود لینے کے عمل کی مذمت قرآن پاک میں اطلاق کے ساتھ ہے اور اسی لفظ (أكل) کھانے کے ساتھ (ياكلون الربا). لہذا جس طرح رشوت دینا مجبوری کی بنا پر ہو سکتا ہے اسی طرح سود دینا بھی بعض صورتوں میں مجبوری کی بنا پر ہو سکتا ہے بخلاف رشوت لینے اور سود لینے کے. لہذا قرآن نے نہ صرف ان كى مذمت کی ہے بلکہ انہیں اطلاق کے ساتھ بیان کیا ہے.
٤) قرآن میں سود دینے والے کا ذکر بھی موجود ہے اور اس کی مذمت بھى کہ اس کی مذمت کے لیے قرآن کا اصول تعاون على الأثم (گناہ میں تعاون) کافی ہے لیکن مزید یہ کہ سورۃ روم کی آیت ٣٩ میں سود دینے والے کا ذکر جس انداز میں آیا ہے اس میں سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
مكمل آیت کا ترجمہ (ترجمے کے لیے دیکھیے الکشاف اور التحریر والتنویر) کچھ اس طرح ہے “اور جو تم سود دیتے ہو کہ وہ بڑھے لوگوں کے مالوں میں تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم زکوۃ دیتے ہو اس حال میں کہ تم اس پر اللہ کی خوشنودی چاہتے ہو تو وہی لوگ ہیں جو اپنے مالوں کو دو چند کرنے والے ہیں”
(نیز نافع، ابو جعفر اور یعقوب کی قراءات کے لحاظ سے آیت کا مفہوم بھی اسی ترجمہ کے مطابق ہے. “اور جو تم سود دیتے ہو کہ تم بڑھاؤ لوگوں کے مالوں کو تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا”)
أولا: قرآن كا زیر نظر آیت میں سود کے ذریعے اپنے مال میں اضافے کی مذمت کا بیان، سود دینے والے کے عمل سے شروع کرنا، سود دینے والے کو اس معاملے میں شریک عمل ٹھہرانا ہے. چنانچہ اس آیت میں تعاون على الأثم کو جس قدر نمایاں کر کے دکھلایا گیا ہے اس میں صرف دیکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں.
ثانيا: آیت کے پہلے حصے میں دینے کے ايک عمل (اور وہ سود دینے کا عمل ہے) کے برے نتیجے کا بیان ہے کہ یہ لینے والے کے مال میں ناجائز اضافے کا سبب بنتا ہے، تو آیت کے دوسرے حصے میں دینے والے ايک دوسرے عمل (اور وہ زکوۃ دینے کا عمل ہے) کے اچھے ہونے کا بیان ہے کہ یہ لینے والے کی ضرورت پوری کرنے کا باعث بنتا ہے.
ثالثا: في الواقع یہ آیت کمال بلاغت لیے ہوئے ہے کہ آیت کے پہلے حصے میں بھی معاملے کے دو فریق ہیں، اسی طرح آیت کے دوسرے حصے میں بھی معاملے کے دو فریق. مزید یہ کہ آیت کے پہلے حصے میں بھی ایک چیز کا اظہار ہے اور دوسری چیز کا اخفا، اسی طرح آیت کے دوسرے حصے میں بھی ایک چیز کا اظہار ہے اور دوسری چیز کا اخفا.
آیت کے پہلے حصے میں جس چیز كا اظہار ہے وہ یہ کہ سود کی رقم وصول کر کے اپنے مال کو بڑھانا درحقیقت اپنے مال کو بڑھانا نہیں یعنی سود لینے والے کی مذمت كا اظہار ہے اور جس دوسری چیز كا اخفا ہے وه سود دینے والے کی مذمت كا اخفا ہے يعنى سود دینے والے کو ذکر کیا لیکن دینے والے کی مذمت کو اخفا میں رکھا.
بالکل اسى طرح آیت کے دوسرے حصے میں جس چیز كا اظہار ہے وہ یہ کہ جو اپنا مال بطور زکوۃ دیتا ہے تو وہ قابل تعریف ہے اور جس دوسری چیز کا اخفا ہے وہ یہ کہ زکوۃ لینے والے اور اس کے عمل كا اخفا.
اب سود دینے والے کی مذمت اور اسی طرح زکوۃ لینے والے کو اخفا میں رکھا گیا ہے تو اس میں یہ امر پوشیدہ ہے کہ قرض پر سود کی ادائیگی کرنے والا اور اسی طرح زکوۃ کی رقم وصول کرنے والا دونوں اس عمل کے لیے مجبور بھی ہو سکتے ہیں اور اگر وہ مجبور نہیں تو ان کا یہ عمل اس صورت میں قابل مذمت ہے بصورت دیگر نہیں کہ قرض لینے والے نے اپنی ضرورت (نہ کہ حاجت یا تجارتی غرض سے) کے لیے قرض لیا ہو اور بلا سود قرض موجود نہ ہو، اسی طرح زکوۃ لینے والے نے مستحق ہونے کی وجہ سے زکوۃ لی ہو اور اس کا کسب اس کے لیے کافی نہ ہو.
اب کوئى یہ کہے کہ واضح انداز میں قرآن میں سود دینے والے کی مذمت دکھاؤ. تو اس پر عرض ہے کہ جنہوں نے نہیں ماننا انہیں اگر قرآن کو آسمان سے اترتا بھی دکھلایا جائے اور وہ اسے چھو بھی لیں تو انہوں نے اسے نہیں ماننا (سورۃ الانعام ٧)

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…