غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

Published On October 19, 2024
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

اپنی کتاب ‘ میزان ‘ میں لکھتے ہیں کہ ”یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جو قراء تیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں، یا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں، وہ سب اسی فتنۂ عجم کی باقیات ہیں جن کے اثرات سے ہمارے علوم کا کوئی شعبہ، افسوس ہے کہ محفوظ نہ رہ سکا۔ “( میزان:صفحہ 32، طبع دوم، اپریل 2002ء)
حقیقت  میں  قراء اتِ متواترہ کا یہ اختلاف دنیا کی ہر زبان کی طرح تلفظ اور لہجے کا اختلاف ہے۔ ان سے قرآنِ مجید میں کوئی ایسا ردّ و بدل نہیں ہوجاتا جس سے اس کے معنی اور مفہوم تبدیل ہوجائیں یا حلال حرام ہوجائے بلکہ اس کے باوجود بھی قرآن قرآن ہی رہتا ہے اور اس کے نفس مضمون میں کسی قسم کا کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔خود ہماری اُردو زبان میں اس کی مثالیں موجود ہیں: مثلا۔ ” پاکستان کے بارہ میں ” یا ” پاکستان کے بارے میں، ‘ناپ تول” یا ”ماپ تول۔” خسر” یا ”سسر”  اسی طرح انگلش کا لفظ Schedule ہے۔ اس کے دو تلفظ ‘ شیڈول’ اور ‘ سکیجوئل’ ہیں اور دونوں درست ہیں، Cosntitutionکو کانسٹی ٹیوشن او رکانسٹی چوشن بھی پڑھتے ہیں اور یہ بھی محض تلفظ اور لہجے کا فرق ہے، کوئی معنوی فرق نہیں ہے۔ بالکل یہی حال قرآنِ مجید کی مختلف قراء اتِ متواترہ کا ہےجو  صحابہ و تابعین سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ،تمام قدیم و جدید اہم تفاسیر میں ان قراء ات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ عالم اسلام کی تمام بڑی دینی جامعات مثلاجامعہ ازہر اور جامعہ مدینہ منورہ وغیرہ کے نصاب میں یہ قراء ات شامل ہیں۔ عالم اسلام کے درجن بھر ممالک (جن میں مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور موریطانیہ وغیرہ شامل ہیں) میں روایت حفص کی بجائے روایت ورش  رائج ہے اور وہ اسی روایت ورش کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے قرآن سمجھتے ہیں ۔
 دلچسپ بات یہ ہے کہ غامدی صاحب جس واحد ‘ روایت حفص ‘ کو ‘ قراء ت عامہ ‘ کا جعلی نام دے کر صحیح مانتے اور باقیوں کو عجم کا   فتنہ قرار دیتےہیں وہ دراصل امام عاصم بن ابی النجود رحمة اللہ علیہ کی قراء ت ہے جس کو امام ابو حفص نے ان سے روایت کیا ہے اور خود امام عاصم بن ابی النجود  بھی  عجمی تھے۔ حقیقت میں یہ قراتیں عجم کا فتنہ نہیں ہیں غامدی صاحب خود عجم کا فتنہ ہیں۔

بشکریہ ویب سائٹ

بنیاد پرست

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…