ڈاکٹر زاہد مغل
غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع مانتے ہیں کہ اپنے مملکت کے تمام باشندوں کو مجبور کرسکتی ہے کہ وہ سب ایک ہی قسم کا بارہ سالہ تعلیمی نظام اختیار کریں اور اس ایک علاوہ جتنے تعلیمی نظام ہیں ریاست کو حق ہے کہ انہیں بذریعہ جبر و قانون ختم کردے۔ ہے نا مزے کا تضاد، یعنی جہاں ”مذہب کی بنیاد” پر جبر کرنے کی بات ہو وہاں ازروۓ قرآن ریاست کو اسکا حق حاصل نہیں (یعنی اس معاملے میں غامدی صاحب انارکسٹ مفکر بن جاتے ہیں جو ریاست سے فرد کی زندگی میں مداخلت کا ہر قسم کا حق چھین لینا چاہتے ہیں) مگر جونہی حاضر و موجود (سرمایہ دارانہ) نظام کی اطاعت کی بات آتی ہے غامدی صاحب کمیونیٹیرین مفکرین کی طرح ریاست کے اس حق کو فرد کی زندگی کے ہر شعبے پر پھیلا دینے کی شدید خواھش رکھتے ہیں۔
آخر اس دلچسپ تضاد کا راز کیا ہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب حاضر و موجود ادارتی صف بندی کو غیر اقداری (نیوٹرل) سمجھے بیٹھے ہیں، انکے نزدیک تنویری فکر انسانی عقل کے فطری ارتقاء کا اعلی اور غیر اقداری اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مجوزہ بارہ سالہ تعلیمی نظام (جو درحقیقت تنویری علوم کا مجموعہ ہے) کے جبر کو تو فطری اور جائز سمجھتے ہیں البتہ مذہبی نظام تعلیم کے جبر کو غیر فطری۔ اسی لئے وہ مذہب کی بنیاد پر جبر کو ریاست کا جانبدارانہ رویہ قرار دیکر غلط سمجھتے ہیں مگر حاضر و موجود علمیت کی بنیاد پر کئے جانے والے جبر کو غیرجانبدارانہ (گویا یہ فرد کی فطری صلاحیتوں کو اسکی حالت اصلی پر نمو دینے کا طریقہ ہے)۔ یہ اسی فکری خلجان کا نتیجہ پے کہ غامدی صاحب کے یہاں (قدیم معتزلہ کی طرح) مسلم اور کافر کے درمیان ایک عجیب وغریب کیٹیگری پائی جاتی ہے جو انکے نزدیک مسلم بھی نہیں ہوتی اور اسے کافر کہنا بھی جائز نہیں (گویا یہ کسی غیرجانبدار پوزیشن پر برجمان انفرادیت ہے)۔
غامدی صاحب (اور انکے فکری ہمنوا وحید الدین خان صاحب) کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ حضرات تنویری مفکرین کے اس پروپیگنڈے سے سخت متاثر و خائف ہیں کہ مذھبی ریاست چونکہ خیر کے معاملے میں جانبدار ہوتی ہے لہذا یہ دیگر تصورات خیر کی بیخ کنی کرتی ہے جبکہ سیکولر ریاست غیر جانبدار، لہذا ریاست کو سیکولر ہونا چاہئے۔ یہ حضرات سیکولر لوگوں کے اس جھوٹے پراپیگنڈے کا شکار ہوکر مذہبی ریاست کو بھی سیکولر ریاست کی طرح خیر کے معاملے میں غیرجانبدار ثابت کرنے کے جوش میں ریاست سے مذہب کی بنیاد پر جبر کرنے کا حق چھین لینا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ سادہ لوح لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس کا نتیجہ ریاست کو غیر جانبدار بنانا نہیں بلکہ تنویری ڈسکورس کا پابند بنانا ہوتا ہے جو بذات خود جاہلیت کی طرف ایک جدید جانبدارانہ رویہ ہے۔ حضرت عمر (رض) کا آبِ زر سے لکھا جانے لائق قول ہے: ”جوشخص جاھلیت سے واقف نہیں وہ اسلام کی کڑیاں بکھیر کر رکھ دے گا”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔