فکرغامدی پر تنقید کا معیار

Published On August 11, 2025
کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

سید اسد مشہدی

جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی دینی فکر پر تنقید کا عمل اب محض جذباتی یا سطحی نوعیت کی رائے زنی نہیں رہا بلکہ یہ آہستہ آہستہ ایک علمی و تحقیقی رجحان میں ڈھل کر اپنے معیاری عہد میں داخل ہو چکا ہے۔ اس سے قبل تقریباً گزشتہ بیس سال سے اگرچہ غامدی صاحب پر تنقید ہوتی رہی ہے، لیکن وہ تنقید اکثر سطحی، غیر منظم اور شخصی و الزامی قسم کی ہوا کرتی تھی جس کا فائدہ عملاً غامدی فکر ہی کو پہنچتا رہا۔ اب جبکہ یہ تنقید زیادہ علمی، اصولی اور تحقیقی خطوط پر جاری ہو گئی ہے، تو ایک نیا سوال سنجیدگی سے ابھر کر سامنے آیا ہے کہ غامدی فکر پر تنقید کے جواز اور عدمِ جواز کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

غامدی صاحب کے حلقے کی طرف سے عمومی رویہ یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ وئی بھی نقد و انتقاد اس وقت معیاری قرار پائے گا جب وہ اس فکر کے “اصولی نظام” کو توڑے گا ۔ اصول و مبادی کو متاثر کئے بغیر جزئیات کی تردید غیر علمی و غیر منہجی رویہ کہلائے گی ، گویا ایک نئی تنقیدی اخلاقیات مرتب کی گئی ہے، جس کے مطابق تنقید تبھی قابلِ قبول ہے جب وہ “اصولوں پر ہو، فروع پر نہ ہو”، یا “علمی اخلاق” کے خاص معیارات پر پوری اترتی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ معیارات کہاں سے اخذ کیے گئے ہیں؟

اسلامی علمی روایت میں دو دائروں “اصول اور اطلاق” میں ضرور فرق کیا گیا ہے مگر اس کا یہ مطلب کبھی نہیں رہا کہ اطلاقی نوعیت کے کسی انحراف پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ درحقیقت، اگر کوئی اطلاق کسی مخصوص اصولی فریم ورک کا براہ راست مظہر ہو، یا دینی مزاج سے متصادم ہو، تو روایت میں ایسی اطلاقی تنقید بھی اصولی دائرے میں سمجھی جاتی ہے۔

غامدی فکر کے کئی نمایاں مظاہر — جیسے نزولِ مسیحؑ، ظہورِ مہدی، یا رجم کی شرعی حیثیت کا انکار — صرف فروعی اجتہادات نہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک مکمل اصولی ڈھانچہ کارفرما ہے۔ یہ وہی فریم ورک ہے جو وحی، سنت اور حدیث کے مابین درجہ بندی اور تفریق کی ایک منفرد اسکیم پر مبنی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی انکار رجم کو غلط کہے تو وہ محض ایک فقہی رائے پر اعتراض نہیں کر رہا، بلکہ اس اصولی ڈھانچے پر سوال اٹھا رہا ہے جس نے یہ رائے پیدا کی ہے۔ اس لیے ایسی تنقید کو صرف “فروعات” کی حد میں محدود کر دینا، نہ صرف ایک علمی مغالطہ ہے بلکہ روایت کے تنقیدی مزاج کے بھی منافی ہے۔

یہاں ہمیں رک کر ایک بنیادی سوال کا سامنا ہے:۔
کیا ہم تنقید کے لیے روایت سے جڑے معیارات کو اختیار کریں گے یا ایک نئی “اخلاقی” زبان گھڑیں گے، جو صرف مخصوص فکر کو تحفظ دے سکے؟

غامدی فکر جس طرح روایت سے ایک خاص نوع کا فکری گریز اختیار کرتی ہے، اسی طرح اس پر ہونے والی تنقید کو روکنے کے لیے جو اخلاقی و علمی معیارات مرتب کیے جاتے ہیں، وہ بھی کم و بیش اسی انقطاعی مزاج کے آئینہ دار ہیں۔ اگر ہم اس فکر کو روایت سے جدا ایک “نیا اجتہاد” سمجھتے ہیں تو اس پر تنقید کا حق بھی ہمیں روایت کی روح سے اخذ کرنے دینا چاہیے — نہ کہ ایسی اخلاقی شرائط عائد کریں جن کی نظیر ہمیں ماضی کی فقہی و کلامی روایت میں نہیں ملتی۔

لہٰذا، ایک طرف غامدی فکر کو روایت سے الگ راستے پر کھڑا کرنا اور دوسری طرف اس پر ہونے والی تنقید کو غیر روایتی، غیر اخلاقی، یا غیر علمی کہہ کر رد کر دینا، خود ایک فکری تضاد ہے۔ اگر غامدی فکر کو ایک نئے اجتہادی منہج کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے تو اسی فکر پر اصولی سطح کی تنقید بھی اتنی ہی جائز اور علمی ہونی چاہیے۔ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ تنقید کا حق صرف مطابقتِ مزاج سے نہیں، بلکہ مطابقتِ استدلال سے طے ہوتا ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…