حصریہ اسلوب

Published On September 27, 2025
(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(2) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ  ذیل میں غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور ان کے متند رات کا تفصیلی علمی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کی راے کے مندرجہ بالا بیان میں ایک بنیادی مقدمہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں ان کے موقف...

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی...

غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

غامدی نظریات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

مصنف : ڈاکٹر محمد قاسم مرکزی موضوع: جاوید احمد غامدی کے دین، حدیث، فقہ، اور جدید مسائل کے بارے میں نظریات کا تجزیہ کرنا.۔مصنف کا انداز: ڈاکٹر محمد قاسم فکتو نے غامدی کے نظریات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، ان کے دلائل کا جواب دیا ہے، اور ان پر ہونے والے اعتراضات کو علمی...

جہانگیر حنیف

حصر کا مطلب حصار قائم کرنا ہے۔ جس جملے کے بارے میں حصریہ ہونے کا دعوی کیا جائے، وہ اپنے موضوع کے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچتا ہے کہ کوئی ایک بھی چیز اس دائرے سے باہر جا سکتی ہے اور نہ پائی جا سکتی ہے۔ حصر اور حصار کے یہی معنی ہے۔ اگر آپ ان معانی کا انکار کرتے ہیں، تو آپ جس حصر کی بات کر رہے ہیں، اس سے فی الوقت ہمیں کوئی تعرض نہیں۔ یہ پہلی چیز ہے، جو ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے۔ دوسری یہ کہ جس جملہ کے بارے میں آپ حصر کے دعویدار ہیں، اس جملے کے بارے میں تسلی کرلیں کہ وہ جملہ حصر کے علاوہ کسی دوسری تاویل کا محتمل ہے یا نہیں۔ اگر وہ جملہ کسی دوسری تاویل کا محتمل ہے، تو حصر کا دعوی کمزور پڑ جاتا ہے۔ حصر سے جو قطعیت حاصل ہوتی ہے، وہ قطعیت تاویلِ ثانی کے احتمال سے مجروح رہتی ہے۔ تاویلِ ثانی کا احتمال کلام کی دلالت کو ظنی بناتا ہے۔ دلالت ظنی ہو اور مطلوب قطعیت ہو، تو ایسے تناقص کو رفع کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اس تمھید کو جاننے کے بعد قرآن مجید کی سورہ انعام کی آیت نمبر ١٤٥ کو دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیہ مبارکہ ان دونوں شرائط کی رو سے غیر حصریہ اسلوب ہے۔ اس کی پہلی وجہ ہے کہ آیہ مبارکہ میں محض چار چیزوں کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان چار چیزوں میں پہلی تین چیزیں، مردار، بہایا ہوا خون اور خنزیر کا گوشت ہے، جسے قرآن مجید نے رجس قرار دیا ہے۔ سورہ مائدہ میں قرآن مجید نے خمر کو رجس قرار دیا ہے اور اس سے اجتناب کا حکم صادر کیا ہے۔ لہذا پہلی شرط کہ حصر کے قائم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس دائرے سے باہر اس حصر کا موضوع نہ پایا جائے، پوری نہیں ہوتی۔ خمر کو آپ حلال قرار ریں، یہ قرآن کی رو سے ممکن نہیں۔ خمر اِن چار محرمات میں شامل نہیں۔ لہذا یہ حصر، حصر نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے خمر کی عین وہ علت بیان کی ہے، جو علت مردار، سؤر اور خون کی حرمت کی بیان کی ہے۔
دوسری چیز یہ کہ قرآن مجید کے اپنے مخاطبین کے لحاظ اور ان کے اوہام کے تدارک کے لیے بھی احکامات صادر کرتا ہے۔ مشرکین نے حام، سائبہ اور وصیلہ کی حرمت کو خود سے قائم کر رکھا تھا۔ اس کا کوئی تعلق اللہ تعالیٰ کی وحی سے نہیں تھا۔ جن محرمات کو مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے، ان میں سے محض چار محرمات اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین کردہ تھے۔ اس آیت میں صنعتِ تضاد کو بروئے کار لاتے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی بدعات کا تدارک کیا ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ محض چار چیزیں کھانے کے لیے حرام ہیں۔ بلکہ اس آیہ مبارکہ کا مقصود مناقضہ ہے، تاکہ مخاطبین کے اوہام کو پاش پاش کیا جائے۔ لہذا آیت کا یہ اسلوب ایجابی نہیں۔ بلکہ سلبی ہے۔ طاعم کے نکرہ استعمال ہونے سے ہمارے مقدمہ پر اثر نہیں پڑتا۔ طاعم اُس سیاق میں نکرہ ہے، جس سیاق میں آیہ مبارکہ کا نزول ہوا ہے۔
تیسری چیز جو اس آیت کے حصریہ اسلوب کی حقیقت کھولتی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے طیبات کو حلال قرار دیا ہے۔ خبائث کی حرمت ان کے خُبث سے جڑی ہے۔ جس کا مطلب ہر حال میں یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو خبائث کی قبیل میں سے ہوگی، اس کی حرمت آپ سے آپ قائم ہوگی۔ سورہ انعام کی آیت مبارکہ کو اس کے ظاہری مدلول یعنی حصر کے اسلوب میں قبول کرنے سے لازم آتا ہے کہ ان چار چیزوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں حلال ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں۔ لہذا یہ حصر کچھ مستثنیات کو شامل ہے اور ان کو اپنے نزول کے وقت سے شامل ہے۔ اب آپ بتائیں کہ ایک حصر کچھ مستثنیات کو اپنے میں سموئے ہوئے ہو، اور آپ خواہ مخواہ اس کے حصر کو موکد کرنے میں قلم توڑے جا رہے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

غامدی صاحب کے ہاں مجمل کی چند مثالیں

غامدی صاحب کے ہاں مجمل کی چند مثالیں

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

مجمل مفتقر الی البیان کا معنی

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE