علم النبی اور قرآن کا تعلق: حسن الیاس صاحب کا مغالطہ

Published On October 27, 2025
انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب وجودی حقائق  پر مزید گفتگو کریں گے تو لطف کی شے ہوگی لیکن سر دست دو چیزوں کو دیکھنا دلچسپ ہے۔ عقل (وہ فرماتے ہیں): "(۔۔۔) ان کو سمجھنے کے لیے جو ملکہ انسان کو عطا ہوا ہے اسے ہم عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔ اس کو جو ذرائع...

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

سائنس میں عقلی امکانات اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف اپنی حالیہ ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے غامدی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے: "حیاتیات میں نظریہ ارتقا کیا ہے؟ یعنی عقلی امکانات میں سے ایک امکان، وہ امکان بہت قوی ہوسکتا ہے اس میں ظن غالب کی حد تک آپ کسی چیز کو درست قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ ہے عقلی امکان ہی...

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

کلامی مواقف کی بے معنی تلفیقات :اصلاحی و ندوی گروپ پر نقد

ڈاکٹر زاہد مغل متاخرین کے ہاں کلامی مواقف کے مابین تلفیق پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کے سب بڑے علما کو اچھی نظر سے دیکھتے اور اپنا مشترکہ ورثہ سمجھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی ہر اختلافی رائے کی ایسی توجیہ کرلیں جس سے سب کی سب آراء کے بارے میں...

ڈاکٹر زاہد مغل

جناب حسن الیاس صاحب فرماتے ہیں کہ جناب غامدی صاحب نے حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے طور پر بٹھا کر منکرین سنت کا ناطقہ بند کردیا ہے اور اب حدیث کا انکار قرآن کے انکار کے بغیر ممکن نہیں رہ گیا اس لئے کہ شرح کا انکار اصل کا انکار ہے۔ تاہم یہ بیان مبالغہ آرائی ہے۔
غامدی صاحب جسے قرآن کی شرح و وضاحت کہتے ہیں، ان کے اس تصور کا اس تصور شرح و وضاحت سے تعلق نہیں جسے احناف و جمہور اصولیین شرح (یعنی بیان بنائی) کہتے ہیں۔ موخر الذکر کے نزدیک سنت علمی اصطلاحات کی رو سے قرآن کا بیان تفسیر، بیان تخصیص و بیان نسخ و بیان قیاس سب معنی میں شرح و وضاحت ہے جبکہ غامدی صاحب حدیث کو قرآن کے صرف بیان قیاس کے مفہوم میں شرح کہتے ہیں (اور جس کے اصطلاحی طور پر بیان ہونے میں ہی اختلاف ہے اس لئے کہ یہ لغوی معاملہ نہیں)۔ ان کے تصور شرح کے مطابق قرآن و اصل دین کی تفہیم حدیث کی تفہیم پر موقوف نہیں۔ ایسے میں اس شرح و وضاحت کے انکار کو اصل کا انکار نہیں کہا جاسکتا (اسلامی تاریخ میں بھی منکرین قیاس کو اصل حکم کا انکار کرنے والا نہیں کہا گیا)۔ حدیث میں مذکور احکام کے انکار سے قرآن کا انکار تب لازم آتا ہے جب یہ مانا جائے کہ قرآن میں مذکور احکام پر عمل احادیث میں مذکور احکام پر موقوف ہے (اسے قرآن کا سنت کی طرف مفتقر الی البیان ہونا کہتے ہیں) اور غامدی صاحب اس کے قائل نہیں بلکہ اسے قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…