چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

Published On October 27, 2025
غامدی فکر : ایک اصولی اور منہجی تنقید

غامدی فکر : ایک اصولی اور منہجی تنقید

سید اسد مشہدی ہمارا تحقیقی مقالہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کے مصادر فکر کے تجزیے پر مبنی ہے۔ جب ہم نے اسی تناظر میں ایک علمی گفتگو ریکارڈ کروائی تو مختلف حلقوں سے ردعمل موصول ہوئے۔ ان میں ایک ردعمل جناب حسن الیاس صاحب کا تھا، جنہوں نے ہماری گفتگو کو اس کے اصل...

احناف اور جاوید غامدی کے تصور سنت میں کیا فرق ہے؟

احناف اور جاوید غامدی کے تصور سنت میں کیا فرق ہے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   احناف کے نزدیک سنت اور حدیث کا تعلق شمس الائمہ ابو بکر محمد بن ابی سہل سرخسی (م: ۵۴۸۳ / ۱۰۹۰ء) اپنی کتاب تمهيد الفصول في الاصول میں وہ فصل کرتے ہیں کہ ”عبادات میں مشروعات کیا ہیں اور ان کے احکام کیا ہیں۔" اس کے تحت وہ پہلے ان مشروعات کی...

ایک بیانیہ کئی چہرے : مغرب، منکرینِ حدیث ، قادیانیت اور غامدی فکر ؟

ایک بیانیہ کئی چہرے : مغرب، منکرینِ حدیث ، قادیانیت اور غامدی فکر ؟

مدثر فاروقی   کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ غامدی فکر میں وہ سب نظریات کیوں جمع ہیں جو پہلے سے مختلف فتنوں کے اندر بکھرے ہوئے تھے ؟ ہم نے برسوں سے سنا تھا کہ منکرینِ حدیث کہتے ہیں : حدیث تاریخی ہے ، وحی نہیں اب یہاں بھی یہی بات سننے کو ملی ، فرق صرف اندازِ بیان کا...

غامدی صاحب کے تصورِ زکوٰۃ کے اندرونی تضادات

غامدی صاحب کے تصورِ زکوٰۃ کے اندرونی تضادات

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بعض دوستوں نے زکوٰۃ کے متعلق جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی آرا کے بارے میں کچھ سوالات کیے ہیں، جن پر وقتاً فوقتاً گفتگو ہوتی رہے گی۔ سرِ دست دو سوالات کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ کیا زکوٰۃ ٹیکس ہے؟ اپنی کتاب "میزان" کے 2001ء کے ایڈیشن میں "قانونِ...

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب "شرک" کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک مسلمان صرف دین "اسلام" کےلیے مان سکتا ہے۔ تو کیا آپ کے نزدیک دینِ اسلام واحد حق نہیں ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ دوسرے بھی تو اپنے لیے یہی سمجھتے ہیں، محض بے عقلی ہے۔...

۔”فقہ القرآن” ، “فقہ السنۃ” یا “فقہ القرآن و السنۃ”؟

۔”فقہ القرآن” ، “فقہ السنۃ” یا “فقہ القرآن و السنۃ”؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کیا قرآن کے کسی بھی حکم کو سنت سے الگ کرکے سمجھا جاسکتا ہے ؟ کیا جن آیات کو "آیات الاحکام" کہا جاتا ہے ان سے "احادیث الاحکام" کے بغیر شرعی احکام کا صحیح استنباط کیا جاسکتا ہے ؟ ایک reverse engineering کی کوشش جناب عمر احمد عثمانی نے کی تھی "فقہ...

مفتی محمد انور اوکاڑوی

(۳) معروف و منکر کا مصداق:۔

معروف و منکر کا ذکر قرآنِ پاک میں متعدد جگہ ہے۔ قرآنِ پاک نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک جماعت تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ غامدی صاحب نے اجماعِ امت کے خلاف اس کی تشریح کی ہے، چنانچہ منکر کے بارے میں لکھا ہے:

“اس سے مراد وہ برائیاں نہیں ہیں جو خالص مذہبی احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں، بلکہ وہ برائیاں ہیں جنہیں پوری انسانیت بلا امتیازِ مذہب و ملت برائی سمجھتی ہے۔ چوری، جھوٹ، بددیانتی، خیانت، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ، حق تلفی، فواحش، جان، مال اور آبرو کے خلاف زیادتی اور اس نوعیت کی دوسری برائیوں کو عربی زبان میں لفظِ منکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد (من رأى منكم منكراً…) انہی برائیوں سے متعلق ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جو حکم قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ اسی کی فرع ہے۔” (مقامات: ۱۵۰)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ “وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ اِلَى الْخَيْرِ…” کے تحت فرماتے ہیں:
“دوسرے بھائیوں کو احکامِ قرآن و سنت کے مطابق اچھے کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کو ہر شخص اپنا فریضہ سمجھے۔” (معارف القرآن: ۱۳۶/۲)

نیز حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“معروف میں وہ تمام نیکیاں اور بھلائیاں داخل ہیں جن کا اسلام نے حکم دیا ہے، اور ہر نبی نے ہر زمانے میں اس کی ترویج کی کوشش کی۔ چونکہ یہ امورِ خیر جانے پہچانے ہوئے ہیں، اس لیے معروف کہلاتے ہیں۔ اسی طرح منکر میں تمام وہ برائیاں اور مفاسد داخل ہیں جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ناجائز قرار دینا معلوم و معروف ہے۔” (معارف القرآن: ۱۳۷/۲)

(۴) داڑھی:

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ مُٹھی سے کم داڑھی نہ کٹائی جائے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:
“مٹھی سے کم داڑھی کا کٹانا، جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں، اس کو کسی نے مباح قرار نہیں دیا۔” (بحوالہ حاشیہ بنایہ: ۳۲۴/۴)

لیکن جاوید غامدی صاحب لکھتے ہیں:
“یہ (داڑھی رکھنا) دین کا کوئی حکم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اگر داڑھی نہیں رکھتا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی فرض و واجب کا تارک ہے یا اس نے کسی حرام یا منکر فعل کا ارتکاب کیا ہے۔” (مقامات: ۱۵۳)

اسی طرح اسبال کا معنی ہے: کپڑے کو ٹخنے سے نیچے لٹکانا، خواہ ازار ہو یا شلوار۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں:
“یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مشابہت (متکبرین کے ساتھ) نہ بند ہی میں ہوتی ہے۔ ہماری شلوار یا پتلون سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۶)

(۵) مقدارِ وصیت:

حدیثِ پاک میں ہے کہ: “حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو ثلث مال کی وصیت کی اجازت دی اور فرمایا کہ ثلث مال بھی کثیر ہے۔”
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر وارث ہوں تو ثلث سے زائد کی وصیت وارثوں کی رضا کے بغیر جائز نہیں۔ چنانچہ ابن رشد فرماتے ہیں:
“تمام لوگ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ جس شخص کا کوئی وارث ہو، اس کے لیے ثلث سے زائد وصیت جائز نہیں۔” (بدایۃ المجتہد: ۲۵۱/۲)

مگر غامدی صاحب لکھتے ہیں:
“ایک (سوال) یہ کہ وصیت کے لیے کوئی حد مقرر کی گئی ہے یا آدمی جس کے لیے جتنی چاہے وصیت کر سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں کسی تحدید کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۷)

اور حدیثِ سعد کے بارے میں جمہور کے خلاف لکھتے ہیں:
“یہ خاص صورتِ حال میں ایک خاص شخص کے فیصلے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تجربہ ہے۔ اس کا کسی قانونی تحدید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۷)

(۶) وارث کے لیے وصیت:

سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۰ میں والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا ذکر ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ یہ حکم “لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ” (یعنی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں) والی حدیث سے منسوخ ہو چکا ہے۔
چنانچہ معارف القرآن میں ہے کہ:
“حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرما دیے ہیں، اس لیے انہیں وصیت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وارث کے حق میں وصیت کرنے کی اجازت بھی نہیں۔ ہاں! اگر دوسرے ورثاء اس وصیت کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔” (معارف القرآن: ۴۴۰/۱)

پھر قرطبی سے یہ نقل فرمایا کہ:
“اگرچہ یہ حدیث ہم تک خبرِ واحد کے طریق پر پہنچی ہو، مگر اس کے ساتھ حجۃ الوداع کے سب سے بڑے اجتماع میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے سامنے اس کا اعلان فرمایا گیا اور اس پر اجماعِ صحابہ اور اجماعِ امت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قطعی الثبوت ہے، ورنہ شک و شبہ کی گنجائش نہ ہوتے ہوئے اس کی وجہ سے آیتِ قرآن کے حکم کو چھوڑ کر اس پر اجماع نہ کرتے۔” (معارف القرآن: ۴۴۰/۱)

مگر غامدی صاحب اس آیت کو منسوخ نہیں سمجھتے اور فرماتے ہیں کہ:
“وارثوں کے حق میں خود اللہ تعالیٰ نے وصیت کر دی ہے۔ اللہ کی وصیت کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔” (مقامات: ۱۵۸)

مگر اللہ تعالیٰ کی وصیت کا حکم مطلق تھا۔ غامدی صاحب اس کو ضرورت کے ساتھ مقید کرتے ہیں کہ: اگر ایک وارث خدمت گزار یا برسرِ روزگار نہ ہو یا اس کا پرسانِ حال نہ ہو تو اس کے لیے وصیت کر دے۔ معلوم ہوا کہ اجماعِ امت کو بھی چھوڑا اور قرآن کا حکم بھی پورا نہ مانا۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

بہرحال غامدی صاحب نے پورے دین کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور مسلمانوں کو اس جدت کے زہر سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…