چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

Published On October 27, 2025
ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط اول )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط اول )

سید خالد جامعی غامدی صاحب اس امت کے پہلے محقق مجتہد اور مفکر ہیں جو ایمان بالغیب کی ایک ایسی توجیہہ پیش کرتے ہیں جو اس امت کی تاریخ تہذیب قرآن و سنت اور اسلامی علمیت کے لیے بالکل اجنبی غلط اور ناقابل قبول ہے غیب پر اور تقدیر پر ایمان کے بغیر کسی مسلمان کا ایمان مکمل...

اشراق کا استشراق

اشراق کا استشراق

حافظ محمد ریحان جاید احمد غامدی اور ان کے مکتبہء فکر سے تقریباً ہر پڑھا لکھااور میڈیا سے آگاہی رکھنے والا شخص واقف ہے۔ اسلام کو جدید دور سے ”ہم آہنگ “ کرنے اور ایک ” جدّتِ تازہ “ بخشنے کے حوالے سے اس مکتبہء فکر کی کوششیں اور اس سلسلے میں ایسے حلقوں کی جانب سے ان کی...

کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند

کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند

حامد کمال الدین دار الکفر میں "تشبُّہ بالکفار" کے احکام کسی قدر موقوف ٹھہرا دینے کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی ایک تقریر پر پچھلے دنوں کئی ایک سوالات موصول ہوئے۔ بلا شبہہ، شیخ الاسلام کا یہ کلام آپؒ کی تصنیف ’’اقتضاء الصراط المستقیم مخالفۃ أصحاب الجحیم‘‘ میں وارد...

مذہبی ریاست، سنتِ یورپ سے انحراف

مذہبی ریاست، سنتِ یورپ سے انحراف

ذیشان وڑائچ سیکولرزم کے داعی طبقے کی طرف یہ سوالات مختلف انداز میں اٹھائے جاتے ہیں کہ مذہبی طبقہ واضح کرے کہ آیا پاکستان ایک قومی ریاست ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ کیا اسلام کی رو سے قومی ریاست جائز ہے یا نہیں ؟ آیا قومی ریاست کا کوئی مذہب ہوتا ہے یا نہیں؟ دلیل ڈاٹ پی کے...

غامدى اور عصر حاضر ميں قتال

غامدى اور عصر حاضر ميں قتال

ایک بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو دیکھ لوں۔ ویسے غامدی کی ویڈیوں دیکھنا میرے لئے انتہائی مشکل ہے لیکن ان بھائی کے اصرار پر میں نے بادل ناخواستہ دیکھ ہی لیا۔ ان کی ویڈیو دیکھنے کے بعد میرا اس بارے میں...

واقعہ معراج، خواب یا حقیقت؟

واقعہ معراج، خواب یا حقیقت؟

یاسر پیرزادہ کسی نے ایک مرتبہ مجھ سے سوال پوچھا کہ کیا آپ واقعہ معراج پر یقین رکھتے ہیں، میں نے جواب دیا الحمدللہ بالکل کرتا ہوں، اگلا سوا ل یہ تھا کہ آپ تو عقل اور منطق کی باتیں کرتے ہیں پھر یہ کیسے مان سکتے ہیں کہ ایک رات میں کوئی شخص آسمانوں کی سیر کر آئے۔ میرا...

مفتی محمد انور اوکاڑوی

(۳) معروف و منکر کا مصداق:۔

معروف و منکر کا ذکر قرآنِ پاک میں متعدد جگہ ہے۔ قرآنِ پاک نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک جماعت تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ غامدی صاحب نے اجماعِ امت کے خلاف اس کی تشریح کی ہے، چنانچہ منکر کے بارے میں لکھا ہے:

“اس سے مراد وہ برائیاں نہیں ہیں جو خالص مذہبی احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں، بلکہ وہ برائیاں ہیں جنہیں پوری انسانیت بلا امتیازِ مذہب و ملت برائی سمجھتی ہے۔ چوری، جھوٹ، بددیانتی، خیانت، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ، حق تلفی، فواحش، جان، مال اور آبرو کے خلاف زیادتی اور اس نوعیت کی دوسری برائیوں کو عربی زبان میں لفظِ منکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد (من رأى منكم منكراً…) انہی برائیوں سے متعلق ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جو حکم قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ اسی کی فرع ہے۔” (مقامات: ۱۵۰)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ “وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ اِلَى الْخَيْرِ…” کے تحت فرماتے ہیں:
“دوسرے بھائیوں کو احکامِ قرآن و سنت کے مطابق اچھے کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کو ہر شخص اپنا فریضہ سمجھے۔” (معارف القرآن: ۱۳۶/۲)

نیز حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“معروف میں وہ تمام نیکیاں اور بھلائیاں داخل ہیں جن کا اسلام نے حکم دیا ہے، اور ہر نبی نے ہر زمانے میں اس کی ترویج کی کوشش کی۔ چونکہ یہ امورِ خیر جانے پہچانے ہوئے ہیں، اس لیے معروف کہلاتے ہیں۔ اسی طرح منکر میں تمام وہ برائیاں اور مفاسد داخل ہیں جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ناجائز قرار دینا معلوم و معروف ہے۔” (معارف القرآن: ۱۳۷/۲)

(۴) داڑھی:

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ مُٹھی سے کم داڑھی نہ کٹائی جائے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:
“مٹھی سے کم داڑھی کا کٹانا، جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں، اس کو کسی نے مباح قرار نہیں دیا۔” (بحوالہ حاشیہ بنایہ: ۳۲۴/۴)

لیکن جاوید غامدی صاحب لکھتے ہیں:
“یہ (داڑھی رکھنا) دین کا کوئی حکم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اگر داڑھی نہیں رکھتا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی فرض و واجب کا تارک ہے یا اس نے کسی حرام یا منکر فعل کا ارتکاب کیا ہے۔” (مقامات: ۱۵۳)

اسی طرح اسبال کا معنی ہے: کپڑے کو ٹخنے سے نیچے لٹکانا، خواہ ازار ہو یا شلوار۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں:
“یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مشابہت (متکبرین کے ساتھ) نہ بند ہی میں ہوتی ہے۔ ہماری شلوار یا پتلون سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۶)

(۵) مقدارِ وصیت:

حدیثِ پاک میں ہے کہ: “حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو ثلث مال کی وصیت کی اجازت دی اور فرمایا کہ ثلث مال بھی کثیر ہے۔”
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر وارث ہوں تو ثلث سے زائد کی وصیت وارثوں کی رضا کے بغیر جائز نہیں۔ چنانچہ ابن رشد فرماتے ہیں:
“تمام لوگ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ جس شخص کا کوئی وارث ہو، اس کے لیے ثلث سے زائد وصیت جائز نہیں۔” (بدایۃ المجتہد: ۲۵۱/۲)

مگر غامدی صاحب لکھتے ہیں:
“ایک (سوال) یہ کہ وصیت کے لیے کوئی حد مقرر کی گئی ہے یا آدمی جس کے لیے جتنی چاہے وصیت کر سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں کسی تحدید کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۷)

اور حدیثِ سعد کے بارے میں جمہور کے خلاف لکھتے ہیں:
“یہ خاص صورتِ حال میں ایک خاص شخص کے فیصلے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تجربہ ہے۔ اس کا کسی قانونی تحدید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۷)

(۶) وارث کے لیے وصیت:

سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۰ میں والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا ذکر ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ یہ حکم “لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ” (یعنی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں) والی حدیث سے منسوخ ہو چکا ہے۔
چنانچہ معارف القرآن میں ہے کہ:
“حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرما دیے ہیں، اس لیے انہیں وصیت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وارث کے حق میں وصیت کرنے کی اجازت بھی نہیں۔ ہاں! اگر دوسرے ورثاء اس وصیت کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔” (معارف القرآن: ۴۴۰/۱)

پھر قرطبی سے یہ نقل فرمایا کہ:
“اگرچہ یہ حدیث ہم تک خبرِ واحد کے طریق پر پہنچی ہو، مگر اس کے ساتھ حجۃ الوداع کے سب سے بڑے اجتماع میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے سامنے اس کا اعلان فرمایا گیا اور اس پر اجماعِ صحابہ اور اجماعِ امت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قطعی الثبوت ہے، ورنہ شک و شبہ کی گنجائش نہ ہوتے ہوئے اس کی وجہ سے آیتِ قرآن کے حکم کو چھوڑ کر اس پر اجماع نہ کرتے۔” (معارف القرآن: ۴۴۰/۱)

مگر غامدی صاحب اس آیت کو منسوخ نہیں سمجھتے اور فرماتے ہیں کہ:
“وارثوں کے حق میں خود اللہ تعالیٰ نے وصیت کر دی ہے۔ اللہ کی وصیت کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔” (مقامات: ۱۵۸)

مگر اللہ تعالیٰ کی وصیت کا حکم مطلق تھا۔ غامدی صاحب اس کو ضرورت کے ساتھ مقید کرتے ہیں کہ: اگر ایک وارث خدمت گزار یا برسرِ روزگار نہ ہو یا اس کا پرسانِ حال نہ ہو تو اس کے لیے وصیت کر دے۔ معلوم ہوا کہ اجماعِ امت کو بھی چھوڑا اور قرآن کا حکم بھی پورا نہ مانا۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

بہرحال غامدی صاحب نے پورے دین کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور مسلمانوں کو اس جدت کے زہر سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

اسلام اور ریاست

اسلام اور ریاست

مفتی تقی عثمانی صاحب   بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الحمد للّٰہ رب...