چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

مولانا واصل واسطی دوسرا نکتہ جناب غامدی نے ان کے اپنے الفاظ میں یہ بیان کیاہے کہ ،، ثانیا آپ کو بتایا ہے کہ یہ دوسری قراءت قران کو جمع کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کردینے کے بعد کی جائے گی ، اور اس کے ساتھ ہی آپ اس بات کے پابند ہوجائیں گے کہ آئندہ اسی قراءت کی پیروی...

جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

عمران شاہد بھنڈر چند ہفتے قبل جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ ایک بار پھر قرآن کے تصورِ تخلیق کو بروئے کار لاتے ہوئے’’ وجود‘‘ کے مسئلے کی وضاحت کررہے تھے ۔ غامدی صاحب اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ ’’قرآن سے پہلے سقراط و...

کیا علامہ طبری نے آیت “لتبین للناس” سے وہ مراد لی جو غامدی صاحب فرماتے ہیں؟

کیا علامہ طبری نے آیت “لتبین للناس” سے وہ مراد لی جو غامدی صاحب فرماتے ہیں؟

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب نے دو ویڈیوز میں سورۃ نحل کی آیت 43 (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ) میں لفظ تبیین پر اپنے موقف پر دلائل دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ لغوی طور پر اس لفظ کے دو معانی ہیں: (الف) از خود کسی بات کو...

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل علامہ جار اللہ زمحشری (م 538 ھ) کی جس عبارت کو محترم غامدی صاحب نے مسئلہ تبیین پر اپنے مدعا کا بیان قرار دیا، اس عبارت سے کیا جانے والا استدلال بھی مخدوش بے۔ علامہ زمحشری لکھتے ہیں: ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ يعنى ما نزل الله إليهم في الذكر مما أمروا به...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب کے تصور تبیین کی قرآن کے محاورے میں غلطی واضح کرنے کے لئے دی گئیں چھ میں سے دوسری مثال پر غامدی صاحب نے تبصرہ فرمایا ہے۔ اس مثال میں ہم نے واضح کیا تھا کہ سورۃ نور کی آیت 58 میں پردے کے احکام میں جو تبدیلی کی گئی، قرآن نے اسے تبیین...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان تین نکات کو ترتیب وار لکھتے ہیں جو جناب غامدی نے سورت القیامہ اور سورت الاعلی سے سمجھے ہیں مگر اتنی سی بات پہلے جان لیں کہ جناب غامدی نے ان دو آیات کے ترجمہ میں چند الفاظ داخل کیے ہیں  کہ وہ پھر اپنے مدعی کو ثابت کرنے میں ان کو کام آجائیں  (...

مفتی محمد انور اوکاڑوی

(۳) معروف و منکر کا مصداق:۔

معروف و منکر کا ذکر قرآنِ پاک میں متعدد جگہ ہے۔ قرآنِ پاک نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک جماعت تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ غامدی صاحب نے اجماعِ امت کے خلاف اس کی تشریح کی ہے، چنانچہ منکر کے بارے میں لکھا ہے:

“اس سے مراد وہ برائیاں نہیں ہیں جو خالص مذہبی احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں، بلکہ وہ برائیاں ہیں جنہیں پوری انسانیت بلا امتیازِ مذہب و ملت برائی سمجھتی ہے۔ چوری، جھوٹ، بددیانتی، خیانت، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ، حق تلفی، فواحش، جان، مال اور آبرو کے خلاف زیادتی اور اس نوعیت کی دوسری برائیوں کو عربی زبان میں لفظِ منکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد (من رأى منكم منكراً…) انہی برائیوں سے متعلق ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جو حکم قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ اسی کی فرع ہے۔” (مقامات: ۱۵۰)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ “وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ اِلَى الْخَيْرِ…” کے تحت فرماتے ہیں:
“دوسرے بھائیوں کو احکامِ قرآن و سنت کے مطابق اچھے کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کو ہر شخص اپنا فریضہ سمجھے۔” (معارف القرآن: ۱۳۶/۲)

نیز حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“معروف میں وہ تمام نیکیاں اور بھلائیاں داخل ہیں جن کا اسلام نے حکم دیا ہے، اور ہر نبی نے ہر زمانے میں اس کی ترویج کی کوشش کی۔ چونکہ یہ امورِ خیر جانے پہچانے ہوئے ہیں، اس لیے معروف کہلاتے ہیں۔ اسی طرح منکر میں تمام وہ برائیاں اور مفاسد داخل ہیں جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ناجائز قرار دینا معلوم و معروف ہے۔” (معارف القرآن: ۱۳۷/۲)

(۴) داڑھی:

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ مُٹھی سے کم داڑھی نہ کٹائی جائے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں:
“مٹھی سے کم داڑھی کا کٹانا، جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں، اس کو کسی نے مباح قرار نہیں دیا۔” (بحوالہ حاشیہ بنایہ: ۳۲۴/۴)

لیکن جاوید غامدی صاحب لکھتے ہیں:
“یہ (داڑھی رکھنا) دین کا کوئی حکم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اگر داڑھی نہیں رکھتا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی فرض و واجب کا تارک ہے یا اس نے کسی حرام یا منکر فعل کا ارتکاب کیا ہے۔” (مقامات: ۱۵۳)

اسی طرح اسبال کا معنی ہے: کپڑے کو ٹخنے سے نیچے لٹکانا، خواہ ازار ہو یا شلوار۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں:
“یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مشابہت (متکبرین کے ساتھ) نہ بند ہی میں ہوتی ہے۔ ہماری شلوار یا پتلون سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۶)

(۵) مقدارِ وصیت:

حدیثِ پاک میں ہے کہ: “حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو ثلث مال کی وصیت کی اجازت دی اور فرمایا کہ ثلث مال بھی کثیر ہے۔”
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر وارث ہوں تو ثلث سے زائد کی وصیت وارثوں کی رضا کے بغیر جائز نہیں۔ چنانچہ ابن رشد فرماتے ہیں:
“تمام لوگ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ جس شخص کا کوئی وارث ہو، اس کے لیے ثلث سے زائد وصیت جائز نہیں۔” (بدایۃ المجتہد: ۲۵۱/۲)

مگر غامدی صاحب لکھتے ہیں:
“ایک (سوال) یہ کہ وصیت کے لیے کوئی حد مقرر کی گئی ہے یا آدمی جس کے لیے جتنی چاہے وصیت کر سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں کسی تحدید کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۷)

اور حدیثِ سعد کے بارے میں جمہور کے خلاف لکھتے ہیں:
“یہ خاص صورتِ حال میں ایک خاص شخص کے فیصلے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تجربہ ہے۔ اس کا کسی قانونی تحدید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔” (مقامات: ۱۵۷)

(۶) وارث کے لیے وصیت:

سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۰ میں والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا ذکر ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ یہ حکم “لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ” (یعنی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں) والی حدیث سے منسوخ ہو چکا ہے۔
چنانچہ معارف القرآن میں ہے کہ:
“حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرما دیے ہیں، اس لیے انہیں وصیت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وارث کے حق میں وصیت کرنے کی اجازت بھی نہیں۔ ہاں! اگر دوسرے ورثاء اس وصیت کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔” (معارف القرآن: ۴۴۰/۱)

پھر قرطبی سے یہ نقل فرمایا کہ:
“اگرچہ یہ حدیث ہم تک خبرِ واحد کے طریق پر پہنچی ہو، مگر اس کے ساتھ حجۃ الوداع کے سب سے بڑے اجتماع میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے سامنے اس کا اعلان فرمایا گیا اور اس پر اجماعِ صحابہ اور اجماعِ امت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قطعی الثبوت ہے، ورنہ شک و شبہ کی گنجائش نہ ہوتے ہوئے اس کی وجہ سے آیتِ قرآن کے حکم کو چھوڑ کر اس پر اجماع نہ کرتے۔” (معارف القرآن: ۴۴۰/۱)

مگر غامدی صاحب اس آیت کو منسوخ نہیں سمجھتے اور فرماتے ہیں کہ:
“وارثوں کے حق میں خود اللہ تعالیٰ نے وصیت کر دی ہے۔ اللہ کی وصیت کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔” (مقامات: ۱۵۸)

مگر اللہ تعالیٰ کی وصیت کا حکم مطلق تھا۔ غامدی صاحب اس کو ضرورت کے ساتھ مقید کرتے ہیں کہ: اگر ایک وارث خدمت گزار یا برسرِ روزگار نہ ہو یا اس کا پرسانِ حال نہ ہو تو اس کے لیے وصیت کر دے۔ معلوم ہوا کہ اجماعِ امت کو بھی چھوڑا اور قرآن کا حکم بھی پورا نہ مانا۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

بہرحال غامدی صاحب نے پورے دین کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور مسلمانوں کو اس جدت کے زہر سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…