چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط اول

Published On October 27, 2025
اسلام اور ریاست

اسلام اور ریاست

مفتی تقی عثمانی صاحب   بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الحمد للّٰہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی نبیہ الکریم وعلی آلہٖ وأصحابہٖ أجمعین وعلٰی کل من تبعہم بإحسان إلٰی یوم الدین أمابعد غیر منقسم ہندوستان میں قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کی جو تحریک چلی، اس کی...

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ڈاڑھی : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان ابن فاروق تلخیص : زید حسن ​   غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ وہ منکرِ حدیث نہیں ہیں ۔ ان سے ڈاڑھی کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا: یہ ایک اچھی  چیز ہے اور نبی علیہ السلام نے ڈاڑھی رکھی ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس امر کو نبی ﷺ نے امت میں بحیثیت...

مورگیج پر گھر لینا : غامدی موقف پر نقد

مورگیج پر گھر لینا : غامدی موقف پر نقد

ناقد :شیخ عثمان صفدر تلخیص : زید حسن    مورگیج ایک صورت ہے جس میں  گھر کو خریدا جاتا ہے اور اسکی بابت علماء کا موقف یہی ہے کہ یہ حرام ہے لیکن جاوید غامدی صاحب نے اسکی بابت موقف اختیار کیا ہے کہ  نہ صرف یہ کہ یہ سود نہیں بلکہ یہ احسان ہے ۔ انکا موقف ہے کہ "جب پیسہ...

بہتر حوریں : انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک

بہتر حوریں : انکارِ حدیث سے انکارِ قرآن تک

ناقد :شیخ توصیف الرحمن تلخیص : زید حسن    غامدی صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ جنت میں حوریں ہوں گی ؟ جواب میں فرمایا : کہ یہ دنیا ہی کی عورتیں ہوں گی ۔ سائل نے پوچھا کہ انکی تو آنکھیں بڑی ہوں گی ؟ تو فرمایا اللہ آپکی بیویوں ہی کی آنکھیں بڑی کر دے گا ۔ اصل میں جاوید...

نزولِ مسیح کی بابت غامدی اور قادیانیوں کے نظریات

نزولِ مسیح کی بابت غامدی اور قادیانیوں کے نظریات

ناقد :مفتی عامر سجاد صاحب تلخیص : وقار احمد جاوید احمد غامدی ماڈرن لوگوں کے پسندیدہ اسکالر ہیں اور بہت ساری چیزوں کا انکار کرنے والے ہیں ۔ مثلاً معجزات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، ظہور امام مہدی اور نزول عیسی علیہ السلام ۔ حالانکہ 1400 سال سے امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ...

تہذیب و عمرانیات اور غامدی صاحب کی فکر

تہذیب و عمرانیات اور غامدی صاحب کی فکر

زبیر حفیظ غامدی صاحب کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ہم چودہ سو سال قبل کے حجاز کے ریگستانوں میں رہنے والے مسلمان ہیں، جنہوں نے نہ تو فتحِ ایران دیکھی ہے، نہ اموی دور کے اسلام پر اثرات سے واقف ہیں، نہ تو عباسیوں کا عجمیت زدہ اسلام ہمارے مشاہدے میں آیا ہے،...

مفتی محمد انور اوکاڑوی

قارئین کرام!

اس دور کا سب سے بڑا فتنہ اکابرین سے اعتماد اُٹھا کر دین کی نئی شرح کرنے کا ہے۔ دورِ حاضر میں باقی فتنوں کی طرح ایک جاوید غامدی کا فتنہ ہے۔ اس نے اسلام کی چودہ سو سال سے چلی آنے والی اصطلاحات کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ قرآنِ پاک نے مؤمنین کے راستہ چھوڑنے والے کو جہنمی کہا ہے۔ [النساء]
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ جس طرح بھیڑوں کا دشمن بھیڑیا ہے، اسی طرح انسانوں کا بھیڑیا شیطان ہے۔ جو بکری ریوڑ سے جدا ہوتی ہے اُس پر بھیڑیا حملہ کرتا ہے، جو ریوڑ کے ساتھ رہے وہ بھیڑیے کے حملہ سے بچ جاتی ہے۔ اسی طرح جو جماعت کے ساتھ ملا رہتا ہے، شیطان اس پر حملہ نہیں کرتا، اور جو جماعت سے جدا ہوتا ہے، شیطان اس کو گمراہ کر دیتا ہے۔ [مشکوٰۃ]

اور ایک روایت میں ہے کہ: جو اجماع سے کٹ گیا تو گویا اس نے اسلام کا پٹہ اپنے گلے سے اُتار کر پھینک دیا۔ جاوید احمد غامدی بھی بہت سے اجتماعی مسائل کا انکار کر کے اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو جہنم کا ایندھن بنانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔ اس کے خلاف اجماعی مسائل میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) ایمان بالغیب کی تعریف:

ایمان بالغیب کی تعریف میں غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ:
“وہ حقائق جو آنکھوں سے دیکھے نہیں جا سکتے، انہیں انسان محض منقولی دلائل کی بنا پر مان لے۔” (مقامات: ۱۳۵)

نیز فرماتے ہیں:
“قرآن نے جو حقائق پیش کیے ہیں، ان پر ہمارے ایمان کی بنیاد بھی یہی ہے۔ وہ بیشک حواس سے ماورا ہیں، لیکن عقل سے ماورا نہیں، ہم نے انہیں عقل کی میزان میں تولا ہے اور ان میں رتی بھر کمی نہیں پائی۔ چنانچہ ہم ان پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم انہیں عقل و فطرت کے قطعی دلائل کی بنا پر مانتے ہیں۔” (مقامات: ۱۳۶)

اس سے معلوم ہوا کہ غامدی صاحب کے ہاں ایمان بالغیب کے لیے غائب اشیاء کا بداہتاً عقل میں آنا ضروری ہے، حالانکہ جمہور کے نزدیک غیب وہ چیزیں ہیں جو حواس اور بداہتِ عقل سے خارج ہوں۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:

“لفظِ غیب لغت میں ایسی چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے جو نہ بدیہی طور پر انسان کو معلوم ہوں اور نہ انسان کے حواسِ خمسہ اس کا پتا لگا سکیں۔” (معارف القرآن: ۲۵۲/۱)

نیز فرماتے ہیں:
“قرآن میں لفظِ غیب سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، اور ان کا علم بداہتِ عقل اور حواسِ خمسہ کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔” (معارف القرآن: ۱۵۲/۱)

(۲) جہاد اور جزیہ:

اسی طرح جہاد اور جزیہ کے بارے میں غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ:
“اس (جہاد و قتال) کی دو صورتیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں، ایک کفر کے خلاف جنگ، دوسرے ظلم و عدوان کے خلاف جنگ۔ پہلی صورت کا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمامِ حجت سے ہے، جو اس دنیا میں ہمیشہ اس کے برگزیدہ بندوں کے قلم اور انہی ہستیوں کے ذریعے سے روبہِ عمل ہوتا ہے جنہیں وہ رسالت کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ منصب آخری مرتبہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ اس قانون کے تحت آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کفر کے خلاف جو جنگیں لڑی ہیں، وہ محض جنگیں نہ تھیں بلکہ خدا کا عذاب تھیں، جو سنتِ الٰہی کے عین مطابق اور ایک فیصلۂ خداوندی کی حیثیت سے پہلے عرب کے مشرکین اور یہود و نصاریٰ پر اور اس کے بعد جزیرہ نمائے عرب سے باہر کی بعض قوموں پر نازل ہوا۔ آپ پر نبوت ختم کر دی گئی۔ چنانچہ لوگوں کے خلاف محض ان کے کفر کی وجہ سے جنگ اور اس کے نتیجے میں مفتوحین کو قتل کرنے یا ان پر جزیہ عائد کر کے انہیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق آپ اور آپ کے صحابہ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔” (مقامات: ۱۴۵، ۱۴۶)

حالانکہ امت کا اجماع ہے کہ جہاد اور جزیہ اپنی شرائط کے ساتھ قیامت تک باقی رہیں گے۔
چنانچہ در مختار میں ہے کہ:
“جہاد ابتدا فرضِ کفایہ ہے اگرچہ کفار ہم سے ابتداء نہ کریں۔” (الدر المختار مع الشامیة: ۱۲۲/۴، ۱۳۳)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…