حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط سوم

Published On October 27, 2025
حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

مولانا مجیب الرحمن تیسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ۔ يكون في هذه الأمة بعث إلى السند والهند، فإن أنا أدركته، فاستشهدت فذلك وإن أنا رجعت وأنا أبو هريرة المحرر قد...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

مولانا مجیب الرحمن دوسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ :۔ اس بارے میں دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند اور  راویوں پر غور فرمائیں ، امام نسائی فرماتے ہیں: أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ر كريا بن عدى، قال: حدثنا عبد الله من عمر...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

مولانا مجیب الرحمن غامدی صاحب کی ویب سائٹ پر موجود ایک کتاب کا مضمون بعنوان : غزوہ ہند کی کمزور اور غلط روایات کا جائزہ ایک ساتھی کے ذریعہ موصول ہوا ۔ بعد از مطالعہ یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اس مضمون کو سامنے رکھ کر حدیث غزوہ ہند پر اپنے مطالعہ کی حد تک قارئین کے سامنے...

سرگذشت انذار کا مسئلہ

سرگذشت انذار کا مسئلہ

محمد حسنین اشرف فراہی مکتبہ فکر اگر کچھ چیزوں کو قبول کرلے تو شاید جس چیز کو ہم مسئلہ کہہ رہے ہیں وہ مسئلہ نہیں ہوگا لیکن چونکہ کچھ چیزوں پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے اس لیے اسے "مسئلہ" کہنا موزوں ہوگا۔ بہرکیف، پہلا مسئلہ جو اس باب میں پیش آتا ہے وہ قاری کی ریڈنگ کا...

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

مولانا مفتی رب نواز

اعتراض: اجماع امت کو حجت نہ ماننے والوں میں سے ایک نمایاں نام جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا ہے۔ غامدی صاحب مذکورہ آیت و “ومن يشاقق الرسول” سے حجیتِ اجماع پر استدلال کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ اہلِ ایمان کی تعبیرات، آراء اور اجتہادات سے اختلاف نہیں ہو سکتا، یا وہ بالا جماع کوئی نقطۂ نظر اختیار کر لیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر تنقید کی جائے تو آدمی جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت میں یہ مسئلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں ہے۔ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص خدا کے بھیجے ہوئے ہادی کی مخالفت اور اس کے مقابلے میں اپنی الگ پارٹی کھڑی کرنے کی جسارت کرتا ہے تو یہ سراسر کفر ہے، جس کے ساتھ ایمان کے کوئی معنی نہیں ہیں۔” [اشراق اکتوبر ۲۰۱۱، ص: ۴۰]

جواب: (1) غامدی صاحب کو اعتراف ہے کہ فقہاء کرام نے اس آیت سے حجیتِ اجماع پر استدلال کیا ہے؛ چنانچہ وہ مذکورہ زیرِ بحث آیت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

“فقہاء کے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ ایمان والوں کا راستہ چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا جائے تو آیت میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔” [اشراق، اکتوبر ۲۰۱، ص: ۳]

ہم کہتے ہیں کہ فقہاء سے غامدی صاحب نے اختلاف کیا ہے؛ فقہاء کرام کے نزدیک زیرِ بحث آیت سے حجیتِ اجماع ثابت ہے اور غامدی صاحب کے بقول اس سے اجماع کا حجت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ صاف ظاہر ہے کہ ترجیح تو فقہاء کرام کی بات کو ہے، اس لیے کہ وہ غامدی صاحب کی بہ نسبت قرآن کو بہت زیادہ جانتے ہیں۔

(۲) غامدی صاحب لکھتے ہیں:

“قرآن کے طالبِ علموں کو بھی چاہیے کہ وہ قرآن کو سمجھتے سمجھاتے اور اس کی کسی آیت کے بارے میں کوئی رائے قائم کرتے وقت کم سے کم تفسیر کی امہاتِ کتب پر ایک نظر ضرور ڈال لیں۔” [میزان: ۵۷] ہم نے الحمد للہ اجماع کی حجیت پر تفسیرِ کی امہاتِ الکتب کے حوالے پچھلے صفحات میں نقل کر دیے ہیں کہ زیرِ بحث آیت سے اجماع کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے۔ غامدی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ دوسروں کو جو نصیحت کر رہے ہیں خود بھی اس پر عمل پیرا ہو جاتے اور تفسیرِ کی امہاتِ الکتب کا حوالہ پیش کرتے کہ اس آیت سے اجماع کی حجیت ثابت نہیں ہوتی۔ رسالہ اشراق میں اجماع کی عدمِ حجیت والے غامدی صاحب کے مضمون کو ہم نے اول سے آخر تک پڑھا ہے، پورے مضمون میں کہیں بھی کسی ایک کتابِ معتبر کا حوالہ اپنی تائید میں وہ نقل نہیں کر سکے۔

اعتراض ۲: غامدی صاحب اس آیت سے جمہور کے استدلال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ اہلِ ایمان کی تعبیرات، آراء اور اجتہادات سے اختلاف نہیں ہو سکتا یا وہ بالا جماع کوئی نقطۂ نظر اختیار کر لیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر تنقید کی جائے تو آدمی جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت میں یہ مسئلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں ہے۔ اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص خدا کے بھیجے ہوئے ہادی کی مخالفت اور اس کے مقابلے میں اپنی ایک الگ پارٹی کھڑی کرنے کی جسارت کرتا ہے تو یہ سراسر کفر ہے جس کے ساتھ ایمان کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ (اشراق: اکتوبر ۲۰۱، ص: ۴)

غامدی صاحب کی ساری عبارت کا حاصل یہ ہے کہ مذکورہ آیت کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی علیحدہ جماعت بنا چکے تھے۔

جواب: ہم یہاں بھی کہتے ہیں کہ غامدی صاحب کو اعتراف ہے کہ آیت کی تفسیر وہی لینی چاہیے جو تفسیرِ کی امہاتِ کتب میں ہو؛ لہٰذا انہیں تفسیرِ کی امہاتِ کتب کا حوالہ دینا چاہیے تھا کہ چونکہ یہ آیت کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہے، لہٰذا اجماع کی حجیت کا اس سے استدلال درست نہیں۔

مفسرین کا مسلمہ اصول ہے کہ آیات کا شانِ نزول اگرچہ کوئی خاص واقعہ یا خاص افراد و قوم کا معاملہ ہوتا ہے، مگر اعتبارِ عمومِ لفظ کا ہوتا ہے۔ (کتاب الام: ۲۳۱٫۵ – اتقان: ۷۴۱ – نیل الاوطار: ۲/۱۲۹ – دلیل الطالب: ۴۱۳ – بدور الاحلہ: ۲۰۹ بحوالہ احسن الکلام: ۱۷۲/۱)

لہٰذا آیت اپنے عموم کے لحاظ سے ان تمام افراد کو شامل ہے جو بھی ساری امت کے اتفاقی مسئلے سے اعراض کرے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پابند ہو۔

حدیث سے اجماع کی حجیت:

علمائے امت نے اجماع کی حجیت کا استدلال جن احادیث مبارکہ سے کیا ہے ان میں سے دو حدیثیں یہاں درج کرتے ہیں:

ا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: “لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي تُقَاتِلُ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.” – صحیج مسلم: ۱۳۳/۲۔ میری امت کا ایک گروہ (قریب) قیامت تک حق کے لیے سر بلندی کے ساتھ قائم کرتا رہے گا۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری: ۱۰۸۷/۲]

اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ قیامت تک ہر زمانے میں ایک جماعت حق پر قائم رہے گی۔ اب اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی ایسے نظریے کو غلط کہتا ہے جس پر اب تک کی ساری امت متفق چلی آئی ہے تو در حقیقت وہ یہ کہتا ہے کہ اب تک کی ساری امت میں کوئی بھی اس بارے میں حق پر قائم نہیں رہ سکا، اور یوں وہ قیامت تک ایک جماعت کے حق پر قائم رہنے کی نبوی پیش گوئی کا انکار کرتا ہے۔ اور اس پیشین گوئی سے ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی ساری امت کسی بات پر متفق ہوگی تو وہ بات حق ہی ہو گی؛ اگر وہ بات حق نہ ہوتی تو حق پر قائم رہنے والی یہ جماعت حقہ باقی امت کے ساتھ اتفاق نہ کرتی، اس جماعتِ حقہ کا باقی امت کے ساتھ مل کر اتفاق کرنا دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے۔

حضرت مولانا مفتی حمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اجماع کی حجیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس کی مزید تفصیل اس حدیث سے معلوم ہو جاتی ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت حق پر قائم رہے گی اور انجام کا روہی غالب رہے گی، اس سے بھی واضح ہو گیا کہ پوری امت کبھی گمراہی اور غلطی پر جمع نہ ہوگی۔ (معارف القرآن: ۱۸۵/۱)

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس حدیث میں صراحت ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہر زمانے میں حق پر قائم رہے گی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس امت کا مجموعہ کبھی کسی گمراہی یا غلط کاری پر متفق نہیں ہو سکتا۔ (نوادر الفقہ: ۸۴/۱) زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد نے بھی مذکورہ حدیث کو اجماع کی حجیت کے دلائل میں ذکر کیا ہے۔ (علمی مقالات: ۸۷/۵)

شارحِ مسلم امام نووی رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:

“فِيهِ دَلِيلٌ لِكَوْنِ الإِجْمَاعِ حُجَّةً، وَهُوَ أَصَحُّ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ مِنَ الحَدِيثِ.” (شرح مسلم: ۱۳۳/۲) اس میں اجماع کے حجت ہونے کی دلیل ہے اور حجیتِ اجماع پر جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ان میں سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لَا يَجْمَعُ اللَّهُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا” — اللہ میری امت کو کبھی بھی کسی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (مستدرك حاکم: ۱۱۶/۱)

علمائے امت نے اس حدیث کے پیش نظر کہا ہے کہ چونکہ ساری امت کسی گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی اس لیے امت کا اتفاقی مسئلہ حجت ہوگا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…