حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ : قسط دوم

Published On October 27, 2025
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟   قسطِ دوم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسطِ دوم

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صحابہ کرام کا عمل اور رویہ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ گردانا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟   قسطِ دوم

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ قسطِ اول

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ماہنامہ الشریعہ میں مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے کتابچے ’’غامدی صاحب کا تصور حدیث وسنت‘‘ کا اور ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت بنام ’’الشریعہ کا طرز فکر اور پالیسی: اعتراضات واشکالات کا جائزہ‘‘ کا اشتہار دیکھا تو راقم نے نہایت ذوق وشوق کے...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار : قسط اول

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار : قسط اول

ڈاکٹر زاہد مغل تعارف جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب "برہان" میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ  نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے...

جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظر

جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظر

الیاس نعمانی ندوی ماہنامہ اشراق (بابت ماہ اپریل ۲۰۰۸ء) کے شذرات کے کالم میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی گفتگو پر مبنی ایک تحریر نظر نواز ہوئی ہے۔ عنوان ہے: ’’جمعے کی امامت‘‘۔ اسی کی بابت کچھ عرض کرنے کا اس وقت ارادہ ہے۔ غامدی صاحب کا حاصل مدعا خود انہی کے الفاظ میں...

غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر المورد اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے سرپرست ‘ماہنامہ ’اشراق کے مدیر اور’ آج ‘ ٹی وی کے نامور اسکالر جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے دو اہم اصولوں ’سنت ابراہیمی ‘ اور ’نبیوں کے صحائف ‘ کا تنقیدی اورتجزیاتی مطالعہ ماہنامہ ’الشریعہ ‘ کے صفحات میں پیش کیا جا چکا...

غامدی صاحب کا تصور تاریخ: ایک تنقیدی جائزہ

غامدی صاحب کا تصور تاریخ: ایک تنقیدی جائزہ

محمد حسنین اشرف غامدی صاحب کی میٹافزکس میں جہاں بہت سے تصورات تنقیح طلب ہیں ان میں سے ایک تصورِ تاریخ بھی ہے۔ یہ ایسا تصور ہے جو ان کے الہیاتی اور فقہی، دونوں فریم ورکس کا حصہ ہے۔ غامدی صاحب اس پر بہت سی عمارتیں بلند کرتے ہیں لیکن یہ ابھی تک نہایت بنیادی شکل میں موجود...

مولانا مفتی رب نواز

(۲) وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ تُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا. (نساء: ۱۱۵)

ترجمہ: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ ہدایت اس پر واضح ہو چکی ہو اور سب مسلمانوں کے (دینی) راستہ کے خلاف چلے گا، ہم اسے جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتا ہے کرنے دیں گے اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس آیت میں دو چیزوں کا جرم عظیم اور دخولِ جہنم کا سبب بتایا گیا ہے، ایک مخالفتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفتِ رسول کفر ہے اور وہاں عظیم ہے، دوسرا جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اسے چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجماع امت حجت ہے، یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہو جائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت گناہِ عظیم ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: “عبد اللہ على الجماعة من شذ شذ في النار” یعنی جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعتِ مسلمین سے علیحدہ ہوگا وہ علیحدہ کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔

حضرت امام شافعی نے مذکورہ آیت کو علماء کے سامنے بیان کیا تو سب نے اقرار کیا کہ اجماع کی حجیت پر یہ دلیل کافی نہیں۔” [معارف القرآن: ۵۳۲/۲]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا قرآنی آیت کے تحت لکھتے ہیں: معلوم ہوا کہ امت کے متفقہ فیصلے (اجماع) کی مخالفت گناہِ عظیم ہے۔ [نوادر الفقہ: ۷۶]

زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد نے اپنے مضمون “اجماع امت حجت ہے” میں مذکورہ بالا قرآنی آیت ذکر کر کے درج ذیل علمائے امت کے اقوال نقل کیے ہیں:

ا۔ ابو اسحاق ابراہیم بن موسی بن محمد الشاطبی (متوفی ۷۹۰ھ) نے لکھا ہے:

“ثم إن عامة العلماء استدلوا بها على كون الإجماع وأن مخالفه عاصٍ وعلى أن الابتداع في الدين مذموم۔” پھر عام علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اجماع حجت ہے اور اس کا مخالف گناہگار ہے اور یہ استدلال بھی کیا ہے کہ دین میں بدعت مذموم ہے۔

(الموافقات ۳۸/۴، الفصل الرابع في العموم والخصوص: المسألة الثالثة)

محققِ مشهور حسن برہان الدین ابراہیم بن عمر البقاعی (متوفی ۸۸۵ھ) نے اس آیت کی تشریح و تفسیر میں لکھا: “وَہَذِهِ الآيَةُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ الإِجْمَاعَ حُجَّةٌ” اور یہ آیت دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے۔ (نظم الدرر: ۳۱۸/۲)

حنفی فقیہ ابواللیث نصر بن محمد سمرقندی (متوفی ۳۷۵ھ) نے آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں لکھا ہے:

“وَفِي الآيَةِ دَلِيلٌ أَنَّ الإِجْمَاعَ حُجَّةٌ الآنَ مَنْ خَالَفَ الإِجْمَاعَ فَقَدْ خَالَفَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ” اور آیت میں (اس پر) دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے کیونکہ جس نے اجماع کی مخالفت کی تو اس نے سبیلِ المؤمنین کی مخالفت کی۔ (تفسیر سمرقندی، بحرالعلوم: ۳۸۷/۱ – ۳۸۸)

قاضی عبداللہ بن عمر البیضاوی (متوفی ۷۹۱ھ) نے اس آیت کی تشریح میں کہا: “وَالآيَةُ تَدُلُّ عَلَى حُرْمَةِ مُخَالَفَةِ الإِجْتِمَاعِ” — اور آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اجماع کی مخالفت حرام ہے۔ (انوار التنزیل و اسرار التنزیل: ۲۴۳/۱۱) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر ابن کثیر وغیرہ۔ (علمی مقالات: ۷۷/۵)

صلاح الدین یوسف صاحب غیر مقلد مذکورہ آیت “ومن يشاقق الرسول” کے ذیل میں لکھتے ہیں: بعض علماء نے “سبیلِ المؤمنین” سے مراد اجماع امت لیا یعنی اجتماعِ امت سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجتماعِ امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء فقہاء کا اتفاق یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق۔ یہ دونوں صورتیں اجماع امت ہیں اور دونوں کا انکار یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے، تاہم صحابہ کرام کے اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے یعنی اجتماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ صورت تو ملتی ہے لیکن اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے بہت کم مسائل میں کیے گئے ہیں؛ فی الحقیقت ایسے اجماعی مسائل بہت کم ہیں جن میں فی الواقع امت کے تمام علماء فقہاء کا اتفاق ہو۔ تا ہم ایسے اجماعی جو مسائل بھی ہیں ان کا انکار بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجتماع کے انکار کی طرح کفر ہے، اس لیے کہ صحیح حدیث میں ہے: “اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ” اور حدیث صحیح ترندی الالبانی نمبر ۱۷۵۹ کے مطابق۔ (تفسیر حواشی: ۲۵۶)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.