حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ

Published On October 27, 2025
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

مولانا مفتی رب نواز

لغت میں “اجماع” متفق ہونے کو کہتے ہیں، لغوی معنی کے اعتبار سے اتفاق اور اجتماع ایک ہی چیز ہے مگر اصطلاحِ شریعت میں ایک خاص قسم کے اتفاق کو “اجماع” کہا جاتا ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ: نبی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانے کے تمام فقہاء مجتہدین کا کسی حکم شرعی پر متفق ہو جانا “اجماع” ہے۔ (الأحکام فی أصول الأحكام للأمدى: اراهاط : مصر)

یہ اجماع فقہ کا تیسرا ماخذ اور احکامِ شرعیہ کے چار دلائل میں سے ایک ہے۔ (نوادر الفقہ (۷۳)

قرآن سے حجیتِ اجماع کا ثبوت:

اجماع کا حجت ہونا جن دلائل سے ثابت ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) و كذلك جعلتكم أمة وسط لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهیدا. [بقرہ: ۲۴۳]

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تم کو ایسی امت بنایا ہے جو نہایت اعتدال پر ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت اجماع امت کے حجت ہونے پر ایک دلیل ہے کیونکہ جب امت کو اللہ تعالی نے شہداء قرار دے کر دوسری امتوں کے بالمقابل ان کی بات کو حجت بنا دیا تو ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے اور عمل اس پر واجب ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس امت کے جو افعال و اعمال متفق علیہ ہیں وہ سب محمود و مقبول ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی خطا پر تسلیم کیا جائے تو پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت وسط اور عدل ہے۔

اور امام بصاص نے فرمایا کہ: اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا اجماع معتبر ہے۔ اجماع کا حجت ہونا صرف قرنِ اوّل یا کسی خاص زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ آیت میں پوری امت کو خطاب ہے اور امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف دو نہیں تھیں جو اس زمانے میں تھے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں جو مسلمان ہیں وہ سب آپ کی امت ہیں تو ہر زمانے کے مسلمان شہداء اللہ ہو گئے جن کا قول حجت ہے وہ سب کسی خطا اور غلطی پر متفق نہیں ہو سکتے۔” [معارف: ۳۷۲/۱]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھتے ہیں:

معلوم ہوا کہ اس امت کے جو اقوال و اعمال متفقہ طور پر ہوں وہ سب اللہ تعالی کے نزدیک درست اور حق ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی غلط بات پر تسلیم کیا جائے تو اس ارشاد کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت نہایت اعتدال پر ہے نیز اس آیت میں اللہ تعالی نے اس امت کو گواہ قرار دے کر دوسرے لوگوں پر اس کی بات کو حجت قرار دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ (لوامع الفقہ (۷۲)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

چند اجماعی مسائل اور جاوید احمد غامدی : قسط دوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE