حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ

Published On October 27, 2025
علامہ غامدی اور امت کے اجماعی مسائل

علامہ غامدی اور امت کے اجماعی مسائل

 ناقد : مولانا الیاس گھمن تلخیص : زید حسن   غامدی صاحب نے دین کو بگاڑ کر پیش کیا ہے ۔ اور وہ بدعت کا نہیں الحاد کا فتنہ ہیں  کیونکہ شریعت کے ثابت شدہ مسئلے کا انکار الحاد ہے ۔ غامدی صاحب نے بھی بہت سے مسلم مسائل کا انکار کیا ہے ۔ انکے نظریات کی مثالیں   انکی اپنی...

غامدی صاحب کی انتہاپسندی

غامدی صاحب کی انتہاپسندی

 محمد عبدالاکرم سہیل محترم جاوید احمد غامدی علم دین کے اعتبار سے دنیا کی ایک قابل قدر شخصیت ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں فرقہ بندی کو مٹانے کیلئے آپ نے جس کار تجدید کا کام انجام دیا ہے اور دین پر بات کرنے کاجو ڈھنگ آپ نے سکھایا ہے وہ نہایت ہی قابل تعریف ہے اور شاید...

غلبہء دین اور جاوید احمد غامدی

غلبہء دین اور جاوید احمد غامدی

شبیع الزمان  مسلمانوں کے اجتمائی ظہور کی جتنی کچھ عملی شکلیں ممکن ہو سکتی تھیں،نظم جماعت،قوم یا ریاست ان تمام سے متعلق غامدی صاحب کو جمہور علماء کے تصور سے اختلاف ہے۔نہ ہی وہ اجتماعت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی قومیت کی بناء اسلام تسلیم کرتے ہیں۔اپنی کتاب ’مقامات‘ میں...

قائلینِ جوازِ موسیقی  کے استدلالات کا جواب

قائلینِ جوازِ موسیقی کے استدلالات کا جواب

ناقد : مفتی یاسر ندیم تلخیص : زید حسن ایک  میوزیک کمپوزر  ( جو موسیقی کے جواز و عدمِ جواز کی بابت جاننے کے متمنی تھے)کے سوال کے جواب میں سپیکر نے  غامدی صاحب کے موسیقی کی بابت جواز کے تصور پر نقد کیا ہے ۔ سپیکر نے اشراق میں غامدی صاحب کے مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے...

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط دوم)

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم جاوید احمد غامدی کی کتاب میزان کے باب مبادی تدبر قرآن کا دوسرا اور تیسرا اصول "زبان کی ابانت " اور "اسلوب کی ندرت "زیر بحث لائیں گے۔زبان کی ابانت:غامدی صاحب اس بارے لکھتے ہیں کہ "قرآن عربی میں نازل ہوا ہے...

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن اس کتاب میں ایک مقدمہ اور چودہ ابواب ہیں ۔ بابِ اول میں مصنف نے سنت کیا ہے اور کیا نہیں ؟ پر بحث کی ہے اور غامدی صاحب کے تصورِ سنت اور اس اصطلاح کے مخصوص معنی پر غامدی صاحب کے لغوی استدلالات پر بحث کی ہے ۔ دوسرے باب میں ایک اہم...

مولانا مفتی رب نواز

لغت میں “اجماع” متفق ہونے کو کہتے ہیں، لغوی معنی کے اعتبار سے اتفاق اور اجتماع ایک ہی چیز ہے مگر اصطلاحِ شریعت میں ایک خاص قسم کے اتفاق کو “اجماع” کہا جاتا ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ: نبی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانے کے تمام فقہاء مجتہدین کا کسی حکم شرعی پر متفق ہو جانا “اجماع” ہے۔ (الأحکام فی أصول الأحكام للأمدى: اراهاط : مصر)

یہ اجماع فقہ کا تیسرا ماخذ اور احکامِ شرعیہ کے چار دلائل میں سے ایک ہے۔ (نوادر الفقہ (۷۳)

قرآن سے حجیتِ اجماع کا ثبوت:

اجماع کا حجت ہونا جن دلائل سے ثابت ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) و كذلك جعلتكم أمة وسط لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهیدا. [بقرہ: ۲۴۳]

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تم کو ایسی امت بنایا ہے جو نہایت اعتدال پر ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت اجماع امت کے حجت ہونے پر ایک دلیل ہے کیونکہ جب امت کو اللہ تعالی نے شہداء قرار دے کر دوسری امتوں کے بالمقابل ان کی بات کو حجت بنا دیا تو ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے اور عمل اس پر واجب ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس امت کے جو افعال و اعمال متفق علیہ ہیں وہ سب محمود و مقبول ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی خطا پر تسلیم کیا جائے تو پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت وسط اور عدل ہے۔

اور امام بصاص نے فرمایا کہ: اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا اجماع معتبر ہے۔ اجماع کا حجت ہونا صرف قرنِ اوّل یا کسی خاص زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ آیت میں پوری امت کو خطاب ہے اور امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف دو نہیں تھیں جو اس زمانے میں تھے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں جو مسلمان ہیں وہ سب آپ کی امت ہیں تو ہر زمانے کے مسلمان شہداء اللہ ہو گئے جن کا قول حجت ہے وہ سب کسی خطا اور غلطی پر متفق نہیں ہو سکتے۔” [معارف: ۳۷۲/۱]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھتے ہیں:

معلوم ہوا کہ اس امت کے جو اقوال و اعمال متفقہ طور پر ہوں وہ سب اللہ تعالی کے نزدیک درست اور حق ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی غلط بات پر تسلیم کیا جائے تو اس ارشاد کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت نہایت اعتدال پر ہے نیز اس آیت میں اللہ تعالی نے اس امت کو گواہ قرار دے کر دوسرے لوگوں پر اس کی بات کو حجت قرار دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ (لوامع الفقہ (۷۲)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…