حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ

Published On October 27, 2025
غامدی مذہب کیا ہے ؟

غامدی مذہب کیا ہے ؟

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن یہ کتاب ایک مقدمہ ، پانچ ابواب اور ایک ضمیمہ پر مشتمل ہے ۔ مقدمہ میں مصنف نے غامدی صاحب کے افکار کو دینِ اسلام کے متوازی ایک نیا دین قرار دیا ہے ۔ جسکی دلیل کے طور پر مصنف نے روایتی علمیات کے اعتقادی نتائج اور ان سے غامدی صاحب...

فتنہء غامدیت کا علمی محاسبہ

فتنہء غامدیت کا علمی محاسبہ

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن  یہ کتاب ایک مقدمہ اور دس ابواب پر مشتمل ہے ۔  مقدمہ میں مصنف نے فکرِ غامدی کو تجدد پسندی کی نمائدہ قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ زمانہ قدیم کی وہ تمام تحریکیں جو اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کرتی رہی ہیں ، غامدی صاحب اپنی فکر...

غامدیت: غامدی صاحب کے افکار و نظریات کا منصفانہ جائزہ

غامدیت: غامدی صاحب کے افکار و نظریات کا منصفانہ جائزہ

مصنف: مفتی محمد وسیم اختر شاذلی (رئیس دارالافتاء فیضانِ شریعت ، کراچی) تلخیص : زید حسن زیرِ نظر کتاب دراصل ایک طویل استفتاء کا جواب ہے  جسے بعد ازاں کتابی شکل دے دی گئی ہے ۔ مستفتی کا نام سید عطاء الرحمن بن سید محب شاہ ہے ۔ اس استفتاء میں سائل نے غامدی صاحب کے چند...

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط اول)

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط اول)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس سیریز میں ہمارا اصل فوکس غامدی صاحب کی کتاب میزان ہے یہ کتاب ان کے ربع صدی کے مطالعہ کا نتیجہ ہے اور نظر آتا ہے کہ اس کو لکھنے میں انہوں نے جان ماری ہے۔میزان کے باب "مبادی تدبر قرآن" میں انہوں نے قرآن فہمی کے دس اصول بیان...

وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی : نظریات و افکار اور حکم

وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی : نظریات و افکار اور حکم

سوال مولانا وحید الدین خان اورمحترم غامدی صاحب کے عقائد کے حوالے سے بتائیں اور ان  کی کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں؟ جواب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر  کسی شخصیت کے حوالے سے عموماً  تبصرہ  نہیں کیا جاتا، کسی کے عقائد و نظریات کے حوالے سے سوال کرنا ہو...

آمدِ امام مہدی

آمدِ امام مہدی

سوال قبل قیامت حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد سے متعلق ٹیلی ویژن پر ایک سوال کے جواب میں علامہ غامدی نے کہا: کسی امر کے عقیدہٴ اسلامی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر واضح طور پر ہو۔ جہاں تک امام مہدی کے عقیدہ کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔...

مولانا مفتی رب نواز

لغت میں “اجماع” متفق ہونے کو کہتے ہیں، لغوی معنی کے اعتبار سے اتفاق اور اجتماع ایک ہی چیز ہے مگر اصطلاحِ شریعت میں ایک خاص قسم کے اتفاق کو “اجماع” کہا جاتا ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ: نبی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانے کے تمام فقہاء مجتہدین کا کسی حکم شرعی پر متفق ہو جانا “اجماع” ہے۔ (الأحکام فی أصول الأحكام للأمدى: اراهاط : مصر)

یہ اجماع فقہ کا تیسرا ماخذ اور احکامِ شرعیہ کے چار دلائل میں سے ایک ہے۔ (نوادر الفقہ (۷۳)

قرآن سے حجیتِ اجماع کا ثبوت:

اجماع کا حجت ہونا جن دلائل سے ثابت ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) و كذلك جعلتكم أمة وسط لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهیدا. [بقرہ: ۲۴۳]

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تم کو ایسی امت بنایا ہے جو نہایت اعتدال پر ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت اجماع امت کے حجت ہونے پر ایک دلیل ہے کیونکہ جب امت کو اللہ تعالی نے شہداء قرار دے کر دوسری امتوں کے بالمقابل ان کی بات کو حجت بنا دیا تو ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے اور عمل اس پر واجب ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس امت کے جو افعال و اعمال متفق علیہ ہیں وہ سب محمود و مقبول ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی خطا پر تسلیم کیا جائے تو پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت وسط اور عدل ہے۔

اور امام بصاص نے فرمایا کہ: اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا اجماع معتبر ہے۔ اجماع کا حجت ہونا صرف قرنِ اوّل یا کسی خاص زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ آیت میں پوری امت کو خطاب ہے اور امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف دو نہیں تھیں جو اس زمانے میں تھے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں جو مسلمان ہیں وہ سب آپ کی امت ہیں تو ہر زمانے کے مسلمان شہداء اللہ ہو گئے جن کا قول حجت ہے وہ سب کسی خطا اور غلطی پر متفق نہیں ہو سکتے۔” [معارف: ۳۷۲/۱]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھتے ہیں:

معلوم ہوا کہ اس امت کے جو اقوال و اعمال متفقہ طور پر ہوں وہ سب اللہ تعالی کے نزدیک درست اور حق ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی غلط بات پر تسلیم کیا جائے تو اس ارشاد کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت نہایت اعتدال پر ہے نیز اس آیت میں اللہ تعالی نے اس امت کو گواہ قرار دے کر دوسرے لوگوں پر اس کی بات کو حجت قرار دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ (لوامع الفقہ (۷۲)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…