حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ

Published On October 27, 2025
غامدی صاحب کی غلط علمیاتی بنیادیں

غامدی صاحب کی غلط علمیاتی بنیادیں

ناقد :مفتی عبد الواحد قریشی تلخیص : وقار احمد ​ غامدی صاحب کی ضلالت کو پکڑنا مشکل کام ہے اس لیے کہ ان کی باتیں عام عوام کو بالکل سمجھ نہیں آتیںمیں یہاں کچھ مثالیں دیتا ہوںالف ۔ غامدی صاحب اپنی کتاب میزان میں لکھتے ہیں کہ " قرآنِ مجید کی ایک ہی قرآت ہے جو ہمارے مصاحف...

منطقی مغالطے : جاوید احمد غامدی صاحب پر ایک نقد

منطقی مغالطے : جاوید احمد غامدی صاحب پر ایک نقد

عمران شاہد بھنڈر جاوید احمد غامدی اپنی مختصر گفتگو میں بھی منطقی مغالطوں کا انبار لگا دیتے ہیں۔ ان کی ایک گفتگو میں موجود چند مغالطے ملاحظہ ہوں۔ “عقل اور وحی کے بارے میں جب جاوید احمد غامدی صاحب سے سوال کیا گیا، تو بجائے اس کے کہ غامدی صاحب اس کا سیدھا اور دو ٹوک جواب...

حیات و نزولِ عیسی

حیات و نزولِ عیسی

سوال کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین جاوید احمد غامدی کے بارے میں، جس کے درجِ ذیل عقائد وخیالات ہیں اور ان کی دعوت واشاعت میں ہمہ تن مصروف ہے ۔حیات ونزول عیسیٰ کا منکر ہے ،۔ کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔﴿میزان،ص۷۸۱﴾۔ظہور مہدی کا بھی منکر ہے ،...

نظریات جاوید احمد غامدی

نظریات جاوید احمد غامدی

سوال دین اسلام کامل و مکمل دین اور ربانی ضابطۂ حیات ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ بزرگ و برتر نے اپنے ذمہ لی ہے، اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں بہت سے فتنوں نے جنم لیا اور اسلامی عمارت کو ڈھانے کی بھر پور کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے علمائے امت کے ہاتھوں ان...

من سب نبیا فاقتلوہ

من سب نبیا فاقتلوہ

سوال : حدیث "من سب نبیا فاقتلوہ" کی تحقیق مطلوب ہے، آیا یہ حدیث صحیح اور قابل اعتبار ہے یا کہ نہیں؟غامدی چینل والے اس کو ناقابل اعتبار قرار دےرہے ہیں۔اس کا کیا جواب ہے؟ جواب اگرچہ بظاہربعض تجدد پسند لوگ حدیث کی قبولیت کے لیے قرآنی موافقت کو شرط قرار دیتے ہیں اور اسناد...

جاوید احمد غامدی کے نظریات

جاوید احمد غامدی کے نظریات

سوال : جاوید احمد غامدی کے نظریات کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں،  کہاں تک ان کا اعتبار کرنا درست ہے؟ جواب جاوید احمد غامدی کے بہت سے نظریات قرآن و حدیث کے صریح نصوص کے خلاف اور اہلِ سنت و الجماعت کے اجماعی و اتفاقی عقائد سے متصادم ہیں،  جن میں سے چند درج ذیل ہیں الف۔ ...

مولانا مفتی رب نواز

لغت میں “اجماع” متفق ہونے کو کہتے ہیں، لغوی معنی کے اعتبار سے اتفاق اور اجتماع ایک ہی چیز ہے مگر اصطلاحِ شریعت میں ایک خاص قسم کے اتفاق کو “اجماع” کہا جاتا ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ: نبی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانے کے تمام فقہاء مجتہدین کا کسی حکم شرعی پر متفق ہو جانا “اجماع” ہے۔ (الأحکام فی أصول الأحكام للأمدى: اراهاط : مصر)

یہ اجماع فقہ کا تیسرا ماخذ اور احکامِ شرعیہ کے چار دلائل میں سے ایک ہے۔ (نوادر الفقہ (۷۳)

قرآن سے حجیتِ اجماع کا ثبوت:

اجماع کا حجت ہونا جن دلائل سے ثابت ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) و كذلك جعلتكم أمة وسط لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهیدا. [بقرہ: ۲۴۳]

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تم کو ایسی امت بنایا ہے جو نہایت اعتدال پر ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت اجماع امت کے حجت ہونے پر ایک دلیل ہے کیونکہ جب امت کو اللہ تعالی نے شہداء قرار دے کر دوسری امتوں کے بالمقابل ان کی بات کو حجت بنا دیا تو ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے اور عمل اس پر واجب ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس امت کے جو افعال و اعمال متفق علیہ ہیں وہ سب محمود و مقبول ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی خطا پر تسلیم کیا جائے تو پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت وسط اور عدل ہے۔

اور امام بصاص نے فرمایا کہ: اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا اجماع معتبر ہے۔ اجماع کا حجت ہونا صرف قرنِ اوّل یا کسی خاص زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ آیت میں پوری امت کو خطاب ہے اور امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف دو نہیں تھیں جو اس زمانے میں تھے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں جو مسلمان ہیں وہ سب آپ کی امت ہیں تو ہر زمانے کے مسلمان شہداء اللہ ہو گئے جن کا قول حجت ہے وہ سب کسی خطا اور غلطی پر متفق نہیں ہو سکتے۔” [معارف: ۳۷۲/۱]

حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب دام ظلہ مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھتے ہیں:

معلوم ہوا کہ اس امت کے جو اقوال و اعمال متفقہ طور پر ہوں وہ سب اللہ تعالی کے نزدیک درست اور حق ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی غلط بات پر تسلیم کیا جائے تو اس ارشاد کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت نہایت اعتدال پر ہے نیز اس آیت میں اللہ تعالی نے اس امت کو گواہ قرار دے کر دوسرے لوگوں پر اس کی بات کو حجت قرار دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ (لوامع الفقہ (۷۲)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…