دفاعِ غامدی پر مامور ڈاکٹر عرفان شہزاد کو برادرانہ مشورہ

Published On October 27, 2025
اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

اصولیین کا قطعیت کا مفہوم اور نسخ: غامدی صاحب کا خلط مبحث

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی نظریہ حدیث

غامدی نظریہ حدیث

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی نظریہ حدیث کا جائزہ

غامدی نظریہ حدیث کا جائزہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی نظریہ حدیث و بیان کا جائزہ

غامدی نظریہ حدیث و بیان کا جائزہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

بیان و سورۃ نحل آیت : 44 ، ابن عاشور اور غامدی صاحب – قسط سوم

بیان و سورۃ نحل آیت : 44 ، ابن عاشور اور غامدی صاحب – قسط سوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

بیان و سورۃ نحل آیت : 44 ، ابن عاشور اور غامدی صاحب – قسط سوم

بیان و سورۃ نحل آیت : 44 ، ابن عاشور اور غامدی صاحب – قسط دوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

جہانگیر حنیف

ماحول میں خاموشی یے، درپردہ ایک کہرام برپا ہے۔ تبدیلی کے آثار واضح ہیں۔ لیکن نئے ایڈیشن کی صورت ابھی پیدا ہوتی، اِس لیے دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ نئے ایڈیشن میں ترمیم بغیر کسی اقرار کے مطلوب ہوتی ہے۔ تبدیلی آئے گی۔ کیونکہ اگر تبدیلی نہ آئی، تو آفت آئے گی۔ وہ تو خیر پہلے ہی آچکی ہے۔ یہ پہلی دفعہ تھوڑی ہونے جا رہا ہے۔ حدیث کی حجیت اور بطور ماخذ اُس کی حیثیت پر ہونے والے تمام مباحث ترمیم و اضافہ پر منتج ہوئے۔ لیکن ہر تبدیلی اِس پری ٹیکٹ کے تحت تھی کہ بات تو واضح ہے، لیکن سمجھانے کے لیے متن میں ترمیم و اضافہ کیا گیا یے۔

ہمیں وہ دن نہیں بھولتا جب ہم نے جسارت کی اور زکاۃ کے عبادات میں شامل نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ پورے ہال میں سناٹا تھا، محض منطقی ذہن کے الفاظ گونج رہے تھے۔ نطق منطق کو شکست سے ہمکنار کر چکا تھا۔ اب محض منطقی کہنا کسی بھی دوسرے عارضہ سے بڑا روگ تھا۔ ہمارے اساتذہ میں سے ایک استاذ صاحب درس کے بعد ایک گھنٹہ ہمیں سمجھاتے رہے کہ زکاۃ عبادت نہیں ہوسکتی۔ (استغفر اللہ) یہ ٹیکس ہے۔ منطقی کی ایک اور گونج سنائی دی اور گفتگو ہمیشہ کے لیے ختم ہوگی۔ شاید تین ماہ گزرے۔ ایک دن نیا ایڈیشن آیا اور زکاۃ عبادت بن گئی۔ پھر غلغلہ ہوا۔ اب ہر کوئی زکاۃ کے عبادت ہونے پر دلائل دینے لگا۔ یہ دلیل اور وہ دلیل۔ ہر دلیل زکاۃ کے عبادت ہونے پر حتمی حجت تھی۔

خورونوش کے احکامات کے قرآن مجید سے ماخوذ ہونے اور سنت کی طرف منسوب ہونے اور خورونوش کے باب میں چند احکامات کو بیانِ شریعت اور شراب کی حرمت کو بیانِ فطرت اور پھر سنت کی تعیین کے اصولوں کا اس پورے فریم ورک سے اختلاف، اصول و مبادی اور خورونوش کے باب میں بہت سی تبدیلیاں لانے کا باعث ہوگا۔ خاطر جمع رکھیں۔ جو کھلبلی مچی ہے، اس کی ایک ہلکی سی جھلک عرفان شہزاد صاحب کے حالیہ مضمون سے ظاہر ہے، جس کو اُنھوں نے ہماری تنقیدات کے جواب میں رقم کیا ہے۔ امریکہ کی ہواؤں کے شمال سے جنوب کی طرف رخ کرنے اور مشرق میں پڑاؤ کے نتیجہ میں لاہور کے درجہ حرارت میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا، عرفان شہزاد کی تحریر اُس کی عکاسی کرتی ہے۔ بس عکاسی ہی ہے۔ اِس سے زیادہ کچھ کہنا صاحبِ تحریر کے مقام و مرتبہ سے نا انصافی متصور ہوگی۔

عرفان شہزاد کی تحریر کو چوں چوں کا مربہ کہنا درست نہیں ہوگا۔ ایک تو وہ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ لکھاری ہے۔ دوسرا اُن کی قلم پر مہارت سے اُن کا لکھنے کا شوق زیادہ ہے۔ ہم اّن کے قدر دان ہیں، کیونکہ بقول اُن کے ہمارے استاذِ محترم اُن کے قدر دان ہیں۔ اِس بات کا اقرار ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ تکرار کوفت کا باعث نہیں، کیونکہ حظ کی ایک عجب صورت اِس تکرار میں پوشیدہ ہے۔ استاذِ محترم کی شخصیت ہی کچھ ایسی ہے۔

مربہ کے اجزاء اپنی انفرادیت میں اعلی کوالٹی کے ہوتے ہیں۔ لیکن معیار سے گری ہوئی چیزوں کا آمیزہ مربہ کہلوانے کا مستحق نہیں ہوتا۔ یہ عرفان صاحب کا کمال ہے کہ وہ ایک ہی سانس میں دو چیزوں کے متضاد ہونے کی نفی کرتے ہیں اور اگلے ہی لمحہ اُس تضاد کو قبول کر لیتے ہیں۔ اُنھیں میزان کے اصول و مبادی یا خورونوش کے باب سے ہماری معروضات کے خلاف کوئی دلیل نہیں ملی۔ وگرنہ وہ ہمیں بتاتے کہ دیکھیں آپ کے اعتراض کا غامدی صاحب کی کتاب میں یہ اور یہ جواب موجود ہے۔ اب وہ نیا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ بیانیہ خارج از میزان اور داخل فی الذہن الغامدی ہے۔ ہر سائل بساط بھر اس بیانیہ سے مستفید ہو رہا ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب سے اِس استفادہ کا بوجھ سنبھالا نہیں گیا۔ اِس لیے اُنھوں نے فوراً گلے سے اتارنے کی کوشش کی ہے، جو اب خود اُن کے گلے پڑ گئی ہے۔ بہرحال یہ نیا بیانیہ پچھلے بیانیہ کے اندراس کا پتا دیتا ہے۔ جس کی طرف ہم نے شروع میں ہی اشارہ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب مجبوراََ روایت بالمعنی سے کام لے رہے ہیں۔ کیونکہ میزان کے الفاظ اُن کی معاونت پر مائل نہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ متن ایز سچ کے منہدم ہونے کی قوی نشانی ہے۔ یہ ہمارے لیے خوش آئند اور دوسروں کے لیے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔ عرفان صاحب کیسے کمالات کے حامل ہیں، آئیں، دیکھتے ہیں:

”ایسے ہی بیانِ فطرت کے باب میں جو امور قرآن مجید نے بیان کر دیے وہ بھی بیانِ شریعت ہی شمار ہوں گے۔“

”امرِ فطری شمارِ سنت بھی ہو سکتا ہے اور بیانِ فطرت بیانِ شریعت بھی بن جاتا ہے۔“

اب آپ دیکھ لیں کہ کوا کالا بھی ہوتا ہے اور سفید بھی۔ پہلے یہ صرف سرخ تھا۔ غامدی صاحب کے الفاظ ’یہ سب بیانِ فطرت ہے‘ اور یہ کہ شریعت کا موضوع محض چار چیزیں ہیں اور ڈاکٹر صاحب کے مذکورہ الفاظ۔ ہاضمہ خراب ہو، تو ایسی معجون کارگر ہوسکتی ہے۔ لیکن جن کا گٹ صحیح کام کررہا ہو، انھیں اُس کی ضرورت نہیں۔ اِس کا اثر آنکھوں کی بصارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ آپ مسلسل متن میں سے اُن چیزوں کو برآمد کررہے ہیں، جو وہاں لکھی ہی نہیں۔ ڈاکٹر کو داد دینا بنتی ہے۔ وہ متنِ غامدی کو ایسا غسل دے رہے ہیں، کہ تر دامنی مستقل رہے گی اور نچوڑنے کو کچھ نہیں بچے گا۔ بیانِ فطرت بیانِ شریعت ہے، تو بیان شریعت بیان فطرت ہے۔ جھگڑا ختم۔ شاید غامدی صاحب کے قلم کی روشنائی خشک پڑ گئی تھی، جس کی وجہ سے اُنھوں نے شراب کو فطرت تو قرار دے دیا، لیکن شرعی حرمت لکھنے کا وقت نہ مل پایا۔ دوسرا یہ کہ بیانِ فطرت بیان شریعت ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کی حرمت بھی بیان فطرت اور بیان شریعت ہے۔ لہذا آپ کے اس موقف کے تحت خبر واحد سے شریعت منتقل ہوئی ہے۔ لہذا آپ اپنی میزان بند کریں اور گھر لوٹ جائیں۔ کیونکہ اس بات کو تسلیم کرنے کے بعد میزان کا پورا پروجیکٹ ہی ملیامیٹ ہوجاتا ہے۔ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ شریعت اور فطرت میں منافات نہیں۔ جو کچھ شریعت میں بیان ہوا ہے، وہ انسانی فطرت کے ساتھ ملائمت کا حامل ہے۔ دوسرا یہ کہ نصوص میں جو حرمت وارد ہوئی ہے، وہ شرعی حکم ہے۔ اِسے فطرت کہنا، امرِ زائد ہے۔ اس حکم کی اصل حیثیت شرعی ہے، فطری نہیں۔ ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں:

”یہ بتانا ضروری ہے کہ بیانِ فطرت کیا ہے اور ان میں سے کون سا بیان شریعت بھی ہے اور کون سا نہیں۔ چنانچہ حرمتِ خمر بیانِ فطرت ہے، کیونکہ انسانی عقل اس کی برائی باور کر سکتی ہے، لیکن یہ بیانِ شریعت بھی ہے، کیونکہ خدا کی شفقت نے اِس کی حرمت خود بیان کر دی ہے“

یہ کونسی میزان ہے؟ یہ میزان ان تھع میکنگ ہے، یا عرفان صاحب کی اپنی میزان ہے۔ ہمارا ڈاکٹر صاحب کو چیلنج ہے کہ وہ خور و نوش کے باب میں دکھا دیں کہ خمر کی حرمت کو بیانِ شریعت قرار دیا گیا ہو۔ غامدی صاحب کے شاگرد غامدی صاحب کے ساتھ شفقت کا معاملہ فرماتے ہیں۔ ایسی بہت سی چیزیں، جو خود غامدی صاحب کو بھی معلوم نہیں ہوتی، یہ لوگ انھیں تعلیم کردیا کرتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر صاحب غامدی صاحب کو تعلیم کررہے ہیں کہ بیانِ فطرت بیانِ شریعت بھی ہوتا ہے اور یہ کہ شراب کی حرمت جس کو غامدی صاحب نے بیانِ فطرت قرار دیا ہے، وہ بیانِ شریعت بھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے خورونوش کے باب کو دیکھے بغیر ہماری تنقید کا جواب لکھا ہے۔ ہم جیسے لوگ جن کا شمار غامدی صاحب کے ناقدین میں ہوتا ہے، وہ میزان کو غور سے پڑھتے ہیں، اُن کی بات کو ذمہ داری سے بیان کرتے ہیں اور اُس کے محتوی کو کھولتے ہیں اور پھر اُس پر قلم اٹھاتے ہیں۔ جو لوگ اُن کے اردگرد جمع ہیں، اُن سب کی اپنی اپنی میزان ہے۔ اُن کی اِس میزان کا غامدی صاحب کی میزان سے کوئی تعلق نہیں۔ بسا اوقات اُن کی میزان غامدی صاحب کی میزان سے تضاد کا تعلق رکھتی ہے، لیکن وہ اُسی جوش و جذبہ سے اپنی میزان کا دفاع کررے ہوتے ہیں، جیسے وہ غامدی صاحب کا موقف ہو۔ محولہ بالا الفاظ اِس کا عمدہ نمونہ ہیں۔ عرفان صاحب نے غامدی صاحب کو الدین کی ایک نئی اصطلاح بھی تعلیم فرمائی ہے۔ میزان میں الدین کی کوئی اصطلاح موجود ہی نہیں۔ لیکن ان کا اعتماد غامدی صاحب کے اعتماد کو بھی شرمندہ کرتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایک چیز دینِ فطرت ہے اور دوسری الدین ہے۔ دینِ فطرت دین ہے، لیکن وہ الدین نہیں ہے۔ الدین قرآن مجید ہے یا شریعت؟ یہ بھی واضح نہیں ہوتا۔

ان کا یہ رویہ صرف غامدی صاحب تک محدود نہیں۔ معاذاللہ ان کی باتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے پوچھ کر وحی فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

”شریعت اُن امور میں رہنمائی کے لیے آتی ہے، جن کو عقل و فطرت سے طے کر لینا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ شریعت کا اصل وظیفہ یہی ہے۔ تاہم، قرآن مجید میں بیانِ شریعت محض اسی دائرے میں محدود نہیں ہے۔ ارشاد اور انذار کے ضمن میں شفقت خداوندی سے بعض اُن امور کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو عقل عام یا فطری امور سے متعلق ہیں، جیسے ادھار کے معاملات میں کتابت اور رہن کی تلقین، باہمی امور طے کرنے میں مشاورت کی ہدایت وغیرہ۔ تاہم، اُن کی نوعیت سے خود واضح ہو جاتا ہے کہ یہ عقل عام یا فطری امور ہیں۔“

جیسے شریعت اُن سے پوچھ کر آتی ہے کہ اُس نے کس کس چیز کو موضوع بنانا ہے۔ جب ہم اُن سے پوچھتے ہیں کہ اگر شریعت محض اِن امور میں رہنمائی کے لیے آتی یے، جن کو عقل و فطرت سے طے کرلینا ممکن نہیں تھا، تو پھر ماں سے نکاح کی حرمت کو شریعت میں کیوں بتایا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ شفقت خداوندی سے ان امور کو بھی شامل کرلیا گیا ہے، جو عقل عام سے متعلق ہیں یا جو کسی ایک سوال سے متعلق جواب سے جڑے ہیں۔ وہ اپنی غلطی نہیں مانتے کہ اُن کا یہ فارمولا ہی غلط ثابت ہوگیا ہے کہ شریعت محض اُن امور کو موضوع بناتی ہے، جنہیں عقل و فطرت کی روشنی میں طے کرلینا ممکن نہیں تھا۔ لکھتے ہیں:

”رشتوں میں باپ کی منکوحہ اور دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے متعلق اشتباہ کو دور کرنا مقصود تھا تو ماں، بیٹی، بہن، اور خالہ کی ازلی حرمتوں کو بھی شمار کر کے مکمل فہرست بیان کر دی گئی۔“

محرماتِ نکاح کی پوری فہرست میں سے ان کو پتا چل جاتا ہے کہ مسئلہ کن دو محرمات سے متعلق تھا اور باقی محرمات اللہ تعالیٰ نے اپنی شفقت و رحمت سے بیان کردیے ہیں۔ یہ لوگ احادیث مبارکہ کو قرآن مجید کے فہم میں قبول کرنے سے ابا کرتے ہیں اور شان نزول کی روایات کا استخفاف کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے سوالات کو قرآن مجید کے متن میں داخل کرتے ہیں۔ سورہ انعام کی آیت ١٤٥ میں غامدی صاحب عقل و فطرت کی رہنمائی کے ناکام ہونے کا تصور خود سے داخل کرتے ہیں۔ یہاں محرمات نکاح کے بارے میں ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ خدا کے ذہن میں دو محرمات کو بیان کرنا مقصود تھا۔ پھر یکایک تمام تفصیلات فراہم کردی گئی۔ اللہ کے بندے، اگر تمام تفصیلات فراہم کردی گئی تھی، تو خالہ / بھانجی اور پھوپھی / بھتیجی کے جمع کو بھی بیان کردیا جاتا اور رضاعت سے قائم ہونے والی تمام حرمتوں کو بھی ذکر کردیا جاتا۔ کمالِ شفقت کا تقاضا تھا کہ تمام حرمتوں کو بیان کردیا جاتا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ محض دو رشتوں کی حرمت کے بارے میں سوال تھا، باقی فطرت سے واضح تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر تمام حرمتوں کو بیان کردیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر تمام حرمتوں کو بیان کردیا تھا، تو دوسرے کچھ مقتضیات کیوں فراموش کیے گئے۔ انھیں بھی بیان کردیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا اپنا فارمولہ خدا پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ متن کو اور معاذ اللہ خدا کو کنڑول میں لینا چاہتے ہیں۔ آپ وحی سے ہدایت حاصل نہیں کرتے۔ بلکہ وحی کو ویسے دیکھنا چاہتے ہیں، جیسا آپ کا دل کرتا ہے کہ وحی ایسی ہو۔ دین کے لیے قطعی ہونے کی شرط میں بھی آپ کا یہی مسئلہ ہے۔ خبرِ واحد سے دین کے منتقل ہونے میں کونسا استحالہ یے۔ یہ استحالہ آپ کی عقل پر قائم ہے۔ خبرِ واحد یا دین پر قائم نہیں۔

عرفان شہزاد صاحب کو ایک برادرانہ مشورہ یےکہ وہ علمی منافقت کا رستہ کلیتاً ترک کریں اور اپنے احساسات و خیالات جنہیں وہ مقدس ہستیوں پر قربان کر چکے ہیں، اُنھیں واگذار کریں۔ تنقید کی شرط اول قلب و نظر کی آزادی ہے۔ یہ سلب ہو جائے یا قربان کردی جائے، تو جو دکھائی دیتا یے، وہ دھوکہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے راقم پر دلائل کی جو توپیں چالائی ہیں، اُن سے قلعۂ غامدی مسمار ہوا چاہتا ہے۔ یہ وہ پہلی دفعہ نہیں، بہت دفعہ کرچکے ہیں۔ دلالت کا مبحث ہو یا نظمِ قرآن کا مسئلہ۔ لیکن اِس مرتبہ جو اُنھوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں، وہ ناقابل دید ہیں۔ شراب کی حرمت کے سنت شمار نہ ہونے کی دلیل اُنھوں نے ’عدمِ عمل‘ کے سنت نہ ہونے سے دی ہے۔ کہتے ہیں کہ ’سنت وہ کام ہیں، جو کرکے دکھائے جاتے ہیں‘، جب کہ شراب سے اجتناب کا حکم ہے، لہذا یہ عدمِ عمل یے، لہذا سنت نہیں۔ ارے بھائی، غامدی صاحب نے مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور ذبیح لغیر اللہ کی حرمت کو سنت میں شامل کیا ہے، جن سے ’اجتناب‘ کا حکم ہے۔ ہم نے مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور ذبیح لغیر اللہ کی حرمت کو سنت کی فہرست میں دیے جانے سے اختلاف کیا ہے۔ یہاں عرفان صاحب کی توپیں خاموش ہیں۔ عین وہی دلیل ’سنت وہ کام ہیں، جو کرکے دکھائے جاتے ہیں‘ اِن حرمتوں کو سنت قرار دیے جانے پر وارد ہوتی ہے۔ لیکن تقدس کی پٹی آنکھ پر بندھی ہو، تو دکھائی نہیں دیتا۔ تقدس بری چیز نہیں۔ علم کے دائرے میں البتہ بری چیز ہے، جب وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہونے لگے۔

اُنھیں چاہیے تھا کہ وہ ’عدمِ عمل‘ کو دلیل بنا کر غامدی صاحب کے تصورِ سنت یا فہرستِ سنت پر تنقید کرتے۔ غامدی صاحب کو بتاتے کہ اُنھوں نے سنت کا دائرہ ’عملی‘ چیزوں کو قرار دیا اور سنت کی فہرست میں اُن چیزوں کو شامل کرلیا، جن پر عمل کرنے سے روکا گیا تھا۔ وہ غامدی صاحب کو بتاتے کہ آپ کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے اور اُن سے پوچھتے کہ اُنھوں نے اِس تضاد کو کیسے اپنی کتاب میزان میں جگہ دے دی۔ لیکن عرفان صاحب کی سوچ اُس وقت بند ہو جاتی ہے، جب غامدی صاحب کے موقف پر اِس دلیل کے اطلاق کا وقت آتا ہے۔ لکھتے ہیں:

” اِس پر عرض ہے کہ سنت عملی چیزوں کا نام ہے۔ عدمِ عمل کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا، یعنی سنت وہ کام ہیں جو کر کے دکھائے جاتے ہیں، نہ کہ وہ جو نہیں کیے جاتے۔ شراب نہ پینے کو سنت میں شمار کرنا تکنیکی طور پر درست نہیں۔“

’تکنیکی طور پر‘ کے الفاظ الگ سے دادِ سخن کی دہائی دیتے ہیں۔ لیکن فی الحال ہمیں اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ سنت عملی چیزوں کا نام ہے اور اس میں وہ کام شامل نہیں ہے، جو نہیں کیے جاتے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ مردار، خون اور خنزیر کا گوشت اور ذبیح لغیر اللہ بھی سنت نہیں ہو سکتے، کیونکہ عرفان صاحب کے الفاظ میں ’یہ وہ کام ہے، جو نہیں کیے جاتے‘۔ اور اگر یہ امور عرفان صاحب اور غامدی صاحب کے نزدیک سنت ہیں اور سنت میں ’کرنے کی چیزیں‘ شامل ہوتی ہیں، تو شاید یہ بھی اُن کے نزدیک کرنے کے کاموں میں شامل ہو چکی ہو۔ اِن چیزوں کی حرمت ہو سکتا ہے کہ میزان کے نئے ایڈیشن میں حلت میں بدل گئی ہو، جس کا انکشاف عرفان صاحب کو ہوا ہے اور وہ اس انکشاف کا بوجھ اٹھائے، ہم پر تنقید کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کسے کہہ رہے ہیں۔ جو تنقید غامدی موقف پر بنتی ہے، وہ اُسے ہمارے طرف انڈیل رہے ہیں۔ یہ لوگ غامدی صاحب کو ہر تنقید سے ماورا سمجھتے ہیں۔ یہ محض دیکھتے ہیں کہ آج غامدی صاحب نے کیا کہا یے۔ کل جو بھی کہا ہو، وہ کل کی بات ہے۔ آج جو کہا ہے، وہ قطعی، حتمی اور ناقابلِ اختلاف حق ہے۔

یہ لوگ تناقضات میں جینا پسند کرتے ہیں۔ اصول میں کہیں گے کہ سنت رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے متعین ہوتی ہے اور اُس کی قرآن مجید سے ابتداء نہیں ہونی چاہیے۔ جب احکامات کے استنباط کا وقت آئے گا، تو سنت کو قرآن مجید سے مستنبط کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو پس پشت ڈال دیں گے۔ عرفان صاحب ہو یا غامدی صاحب کے دوسرے متبعین کوئی ایک بھی خور و نوش کے باب سے ابھی تک لفظ سنت دکھا نہیں پایا۔ سنت کی تعیین کیسی کی گئی، یہ بتا نہیں پایا۔ سنت کے اصولوں کا خورونوش کے احکامات پر کیسے اطلاق کیا گیا، یہ دکھا نہیں پایا۔ سنت کو قرآن مجید سے کیوں مستنبط کیا گیا ہے، اس کی توجیہ بیان نہیں کر پایا۔ اور عرفان صاحب کا یہ سوال کہ عدمِ عمل کو عملی چیزوں کی فہرست میں کیسے شامل کیا گیا، جب کہ اس کا براہ راست ٹکراؤ تعیین سنت کے اصولوں سے واقع ہوتا ہے۔ اسے موضوع نہیں بنایا گیا۔

یہ لوگ تناقض کو بھی قائم رکھتے ہیں اور اس پر سینہ بھی چوڑا کرکے دکھاتے ہیں۔ عرفان صاحب ہماری غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کا مقصد رکھتے ہیں اور حال یہ ہے کہ جس فکر کے دفاع میں وہ علم و فن کی قربانی بھی دینے کو تیار ہیں، وہ اِس فکر کے بنیادی مقدمات اور دعاوی ہی سے نابلد ہیں۔ انھی یہی نہیں معلوم کہ غامدی صاحب نے خود نہ کرنے کی چیزوں کو سنت کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ وہ میزان پڑھے بغیر سر پر کفن باندھے میدان میں اترے ہیں۔ کیونکہ میزان پڑھنے کے بعد اس کے دفاع کے جذبات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ جو شخص میزان کو غور سے پڑھ لیتا ہے، وہ اس کے بعد توبہ ضرور کرتا ہے۔ راقم چشم دید گواہ ہے۔ جس نے میزان غور سے پڑھی یا پڑھائی، وہ اِس سے رجوع کیے بغیر نہ رہ پایا۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

حجیتِ اجماع  غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ

حجیتِ اجماع غامدی صاحب کے شبہات کا ازالہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

دفاعِ غامدی پر مامور ڈاکٹر عرفان شہزاد کو برادرانہ مشورہ

دفاعِ غامدی پر مامور ڈاکٹر عرفان شہزاد کو برادرانہ مشورہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE