سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

Published On October 27, 2025
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

جہانگیر حنیف

تفسیر قرطبی: یہ آیت [سورہ انعام، ١٤٥] دراصل جاہلیت کے ان باطل عقائد کے رد میں نازل ہوئی ہے، جن کے تحت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی جیسے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرا بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط روش کی تردید فرمائی اور اس کے بعد بہت سی چیزیں خود حرام قرار دیں، جیسے پالتو گدھے، خچر کا گوشت، ہر درندہ جو نوکیلے دانت رکھتا ہو، اور ہر وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرتا ہو۔

امام ابو عمر فرماتے ہیں: جو یہ گمان کرے کہ ’’صرف وہی اشیاء حرام ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں‘‘، تو اس کے قول کا لازم نتیجہ یہ ہوگا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام جان بوجھ کر نہ لیا جائے، وہ بھی حرام نہ رہے—حالانکہ یہ شریعت میں ممنوع ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، شراب کو بھی حلال سمجھنا پڑے گا، حالانکہ پوری امت مسلمہ اس کے حرام ہونے پر متفق ہے۔

چنانچہ انگور سے بنی شراب کے حرمت پر اجماعِ امت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی، اُس میں **سورۂ انعام** کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی حرمت نازل کی گئی—جو اس کے بعد قرآن کی دیگر آیات میں بیان ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وأن هذه الآية قصد بها الرد على الجاهلية في تحريم البحيرة والسائبة والوصيلة والحامي ، ثم بعد ذلك حرم أمورا كثيرة كالحمر الإنسية ولحوم البغال وغيرها ، وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . قال أبو عمر : ويلزم على قول من قال : ” لا محرم إلا ما فيها ” ألا يحرم ما لم يذكر اسم الله عليه عمدا، وتستحل الخمر المحرمة عند جماعة المسلمين . وفي إجماع المسلمين على تحريم خمر العنب دليل واضح على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وجد فيما أوحي إليه محرما غير ما في سورة ” الأنعام ” مما قد نزل بعدها من القرآن

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…