سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

Published On October 27, 2025
بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

ڈاکٹر محمد مشتاق ردِّ عمل کی نفسیات نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکوں اورخود کش حملوں کا بھی ایک طویل سلسلہ چل پڑا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات اور دیر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے۔ جنرل مشرف اور حکومت کا ساتھ...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط سوم

ڈاکٹر محمد مشتاق بادشاہ کے بجائے بادشاہ گر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اسلامک فرنٹ کے تجربے کی ناکامی کے بعد بھی غامدی صاحب اور آپ کے ساتھی عملی سیاست سے یکسر الگ تھلگ نہیں ہوئے اور اگلے تجربے کےلیے انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی طرف رخ کیا۔ ڈاکٹر...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق اتمامِ حجت اور تاویل کی غلطی ۔1980ء کی دہائی کے وسط میں جناب غامدی نے ’نبی اور رسول‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو اس وقت میزان حصۂ اول میں شائع کیا گیا۔ یہ مضمون دراصل مولانا اصلاحی کے تصور ’اتمامِ حجت‘ کی توضیح پر مبنی تھا اور اس میں انھوں نے مولانا...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق ۔22 جنوری 2015ء کو روزنامہ جنگ نے’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘ کے عنوان سے جناب غامدی کا ایک کالم شائع کیا۔ اس’جوابی بیانیے‘ کے ذریعے غامدی صاحب نے نہ صرف ’دہشت گردی‘کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑا، بلکہ دہشت گردی پر تنقید میں آگے بڑھ کر اسلامی...

جہانگیر حنیف

تفسیر قرطبی: یہ آیت [سورہ انعام، ١٤٥] دراصل جاہلیت کے ان باطل عقائد کے رد میں نازل ہوئی ہے، جن کے تحت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی جیسے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرا بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط روش کی تردید فرمائی اور اس کے بعد بہت سی چیزیں خود حرام قرار دیں، جیسے پالتو گدھے، خچر کا گوشت، ہر درندہ جو نوکیلے دانت رکھتا ہو، اور ہر وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرتا ہو۔

امام ابو عمر فرماتے ہیں: جو یہ گمان کرے کہ ’’صرف وہی اشیاء حرام ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں‘‘، تو اس کے قول کا لازم نتیجہ یہ ہوگا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام جان بوجھ کر نہ لیا جائے، وہ بھی حرام نہ رہے—حالانکہ یہ شریعت میں ممنوع ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، شراب کو بھی حلال سمجھنا پڑے گا، حالانکہ پوری امت مسلمہ اس کے حرام ہونے پر متفق ہے۔

چنانچہ انگور سے بنی شراب کے حرمت پر اجماعِ امت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی، اُس میں **سورۂ انعام** کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی حرمت نازل کی گئی—جو اس کے بعد قرآن کی دیگر آیات میں بیان ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وأن هذه الآية قصد بها الرد على الجاهلية في تحريم البحيرة والسائبة والوصيلة والحامي ، ثم بعد ذلك حرم أمورا كثيرة كالحمر الإنسية ولحوم البغال وغيرها ، وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . قال أبو عمر : ويلزم على قول من قال : ” لا محرم إلا ما فيها ” ألا يحرم ما لم يذكر اسم الله عليه عمدا، وتستحل الخمر المحرمة عند جماعة المسلمين . وفي إجماع المسلمين على تحريم خمر العنب دليل واضح على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وجد فيما أوحي إليه محرما غير ما في سورة ” الأنعام ” مما قد نزل بعدها من القرآن

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…