سورۃ انعام : آیۃ 145 تفسیرِ قرطبی

Published On October 27, 2025
غامدی ازم میں کیا مسئلہ ہے ؟

غامدی ازم میں کیا مسئلہ ہے ؟

مقرر : مفتی یاسر ندیم الواجدی  تلخیص : زید حسن  غامدی ازم کو ہم الحاد اور لبرل ازم کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جسکی وجہ سے موضوعِ بحث بناتے ہیں ورنہ فرقہ وارانہ مباحث ہمارا موضوع نہیں ہیں ۔ غامدیت بھی اگرچہ ایک فرقہ ہی ہے کیونکہ انکے اصول  بالکل الگ اور مختلف ہیں ۔ اس نشست...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

سید خالد جامعی ایک سائل نے ایک عالم سے پوچھا ’’جو شخص بحالت احرام شکار کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ‘‘ [شرعاً حج ادا کرنے والے شخص کے لیے شکار کھیلنا منع ہے] اس نیک سیرت اور صاحب عمل عالم نے جواب دیا: ’’آپ کا سوال مبہم اور گمراہ کن ہے، آپ کو بالصراحت بتانا...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط پنجم )

سید خالد جامعی عصر حاضر کا مسئلہ یہ ہے کہ فقہا، متکلمین واعظین علماء نے لا ادری کہنا ترک کردیاہے لہٰذا وہ ہر مسئلے کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کی درست رہنمائی سے قاصر رہتے ہیں۔ نائیک صاحب نہایت اخلاص کے ساتھ ادھورے علم کے ذریعے امت کی اصلاح کے لیے نکلے ہیں...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط سوم )

سید خالد جامعی ایک سائل نے ایک عالم سے پوچھا ’’جو شخص بحالت احرام شکار کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ‘‘ [شرعاً حج ادا کرنے والے شخص کے لیے شکار کھیلنا منع ہے] اس نیک سیرت اور صاحب عمل عالم نے جواب دیا: ’’آپ کا سوال مبہم اور گمراہ کن ہے، آپ کو بالصراحت بتانا...

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط چہارم )

ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد (قسط دوم )

سید خالد جامعی جدیدیت پسند مسلم مفکرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عقلی دلائل سے بڑے بڑے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن محدود عقل قدم قدم پر ٹھوکر یں کھاتی ہے۔ عہد حاضر کے جدید ذہن کو، جو علمی موشگافیوں کا ماہر ہے، نت نئے سوالات سوجھتے ہیں یہ سوالات تحصیلِ علم، حصولِ...

غامدی صاحب: تصوف اور غارحرا کی روایات

غامدی صاحب: تصوف اور غارحرا کی روایات

ڈاکٹر خضر یسین کیا غار حرا اور اس سے وابستہ واقعات پر مروی احادیث واقعتا صوفیاء کی وضع کردہ ہیں اور محض افسانہ ہیں جیسا کہ غامدی صاحب کا مؤقف ہے؟کیا واقعی قرآن مجید کی سورہ والنجم کی آیات ان احادیث کی تردید کرتی ہیں جو صحیح بخاری میں “کیف بدء الوحی” کے عنوان کے تحت...

جہانگیر حنیف

تفسیر قرطبی: یہ آیت [سورہ انعام، ١٤٥] دراصل جاہلیت کے ان باطل عقائد کے رد میں نازل ہوئی ہے، جن کے تحت وہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی جیسے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرا بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط روش کی تردید فرمائی اور اس کے بعد بہت سی چیزیں خود حرام قرار دیں، جیسے پالتو گدھے، خچر کا گوشت، ہر درندہ جو نوکیلے دانت رکھتا ہو، اور ہر وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرتا ہو۔

امام ابو عمر فرماتے ہیں: جو یہ گمان کرے کہ ’’صرف وہی اشیاء حرام ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں‘‘، تو اس کے قول کا لازم نتیجہ یہ ہوگا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام جان بوجھ کر نہ لیا جائے، وہ بھی حرام نہ رہے—حالانکہ یہ شریعت میں ممنوع ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، شراب کو بھی حلال سمجھنا پڑے گا، حالانکہ پوری امت مسلمہ اس کے حرام ہونے پر متفق ہے۔

چنانچہ انگور سے بنی شراب کے حرمت پر اجماعِ امت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی، اُس میں **سورۂ انعام** کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی حرمت نازل کی گئی—جو اس کے بعد قرآن کی دیگر آیات میں بیان ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وأن هذه الآية قصد بها الرد على الجاهلية في تحريم البحيرة والسائبة والوصيلة والحامي ، ثم بعد ذلك حرم أمورا كثيرة كالحمر الإنسية ولحوم البغال وغيرها ، وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . قال أبو عمر : ويلزم على قول من قال : ” لا محرم إلا ما فيها ” ألا يحرم ما لم يذكر اسم الله عليه عمدا، وتستحل الخمر المحرمة عند جماعة المسلمين . وفي إجماع المسلمين على تحريم خمر العنب دليل واضح على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وجد فيما أوحي إليه محرما غير ما في سورة ” الأنعام ” مما قد نزل بعدها من القرآن

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…