غامدی صاحب کا اپنے ہی اصولوں کو پامال کرنا | محرماتِ طعام سنت ہیں

Published On October 27, 2025
سود اور غامدی صاحب

سود اور غامدی صاحب

حسان بن علی غامدی صاحب کے ہاں سود دینا (سود ادا کرنا) حرام نہیں ہے (جس کی کچھ تفصیل ان کی کتاب مقامات میں بھى موجود ہے) اور جس حدیث میں سود دینے والے کی مذمت وارد ہوئی ہے، غامدی صاحب نے اس میں سود دینے والے سے مراد وہ شخص لیا ہے جو کہ سود لینے والے کے لیے گاہک تلاش...

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

علم کلام پر جناب غامدی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں محترم غامدی صاحب علم کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک حرف غلط قرار دے کر غیر مفید و لایعنی علم کہتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفے کی دنیا میں افکار کے تین ادوار گزرے ہیں:۔ - پہلا دور وہ تھا جب وجود کو بنیادی حیثیت دی گئی...

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

ڈاکٹر زاہد مغل ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین...

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

قرآن کا میزان و فرقان ہونا اور منشائے متکلم کا مبحث

جہانگیر حنیف کلام کے درست فہم کا فارمولہ متکلم + کلام ہے۔ قاری محض کلام تک محدود رہے، یہ غلط ہے اور اس سے ہمیں اختلاف ہے۔ کلام کو خود مکتفی قرار دینے والے حضرات کلام کو کلام سے کلام میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اولا کسی بھی تاریخی اور مذہبی متن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اور...

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

خلافتِ علی رضی اللہ عنہ، ان کی بیعت اور جناب غامدی صاحب کے تسامحات

سید متین احمد شاہ غامدی صاحب کی ایک تازہ ویڈیو کے حوالے سے برادرِ محترم علی شاہ کاظمی صاحب نے ایک پوسٹ لکھی اور عمدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ صحابہ کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے غامدی صاحب کی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ جس طرح انھوں نے بہت سے فقہی اور فکری معاملات میں...

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور غامدی نظریہ : قسط دوم

مولانا محبوب احمد سرگودھا غامدی صاحب کے تیسرے اعتراض کی بنیاد سورہ مائدہ کی آیت ہے 117 میں موجود عیسی علیہ السلام کا روز قیامت باری تعالٰی سے ہونے والا مکالمہ ہے۔ آیت یہ ہے: فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم، وانت على كل شيء شهید (قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عیسی...

جہانگیر حنیف

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے لیے یہ تضاد کیسے ممکن ہوا۔ اُنھوں نے اصول و مبادی کے آغاز میں محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا دعویٰ فرمایا اور خور و نوش کے باب میں اِنھی محرمات کو قرآن مجید سے ماخوذ احکامات کے طور پر پیش کیا۔ یہ اُن کے فکر و عمل میں ایک ایسا تضاد تھا، جسے بظاہر نبھانا مشکل ہے۔ لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب نے اِسے کیسے ممکن بنایا اور اِس کی کیا توجیہ ہے۔ ہماری نظر میں اِس کا صاف اور سادہ جواب لفظِ شریعت میں پوشیدہ ہے۔ غامدی صاحب جب سنن کی فہرست مرتب کرنے بیٹھے، تو اُنھوں نے محرماتِ طعام کے لیے سنت کی اصطلاح استعمال کی اور جس وقت وہ خور و نوش کے باب میں پہنچے، اُنھیں سنت کے لفظ کو استعمال کرنے میں دقت محسوس ہوئی، چناچہ اُنھوں نے سنت کے لفظ کو یکسر نظر انداز فرمایا اور اُس کے جگہ لفظِ شریعت کو اختیار کر لیا۔ ظاہر ہے کہ سنت کے لیے شریعت کا لفظ موزوں ہے اور اِس لفظ کے اختیار کرنے میں کوئی ضرر نہیں۔

چناچہ غامدی صاحب نے اصول و مبادی اور خور و نوش کے ابواب میں بظاہر ایک تطبیق اور ربط پیدا کیا۔ یہ ربط حقیقی ہے اور نہ لائق تصدیق۔ ہماری دعویٰ یہ ہے اور ہم اپنے دعویٰ کے حق میں دلائل پیش کریں گے کہ غامدی صاحب اِس تطبیق کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اُنھوں نے فہمِ دین کے معروف اصولوں کی خلاف ورزی تو کی ہی ہے، اِس سے بڑھ کر اُنھوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کو پامال بلکہ روند ڈالا ہے۔ اِن اصولوں کو ایسے کُچلا مَسلا گیا ہے کہ ایک طرف ان اصولوں کے بودے پن کا پول کھل گیا ہے اور دوسری طرف غامدی صاحب کے تعیینِ سنت کی مہم جوئی (enterprise) کی قلعی کھل گئی ہے۔

آئیں، پہلے ہم غامدی صاحب کی خور و نوش کے باب میں رقم تصریحات کو دیکھتے ہیں اور پھر اُن کے تجزیہ و تحلیل کے طرف بڑھتے ہیں:

”الف۔ اِن طیبات وخبائث کی کوئی جامع ومانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہیں کی گئی۔

ب۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اِس معاملے میں انسان کو اصلاً اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے ۔

ج۔ چنانچہ شریعت نے اِس طرح کی کسی چیز کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔

د۔ اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔

ذ۔ اِس معاملے میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے اِسی بنا پر بعض جگہ ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔

ر۔ یہ سب چیزیں، جس طرح کہ قرآن کی اِن آیات سے واضح ہے، صرف خورونوش کے لیے حرام ہیں۔“

یہ تمام تصریحات میزان کے باب خور و نوش سے منقول ہیں۔ جن محرمات کے بارے میں غامدی صاحب اصول و مبادی میں دعویٰ فرماتے ہیں کہ وہ سنت ہیں، اُن کے بارے میں یہاں ایک جگہ بھی لفظِ سنت استعمال نہیں کرتے۔ خور و نوش کا پورا باب سنت کے لفظ سے خالی ہے، ماسوائے تذکیہ کے بیان کے، جہاں انبیاء کی سنت کا ذکر ہے۔ وہاں بھی سنتِ رسول ﷺ کا ذکر نہیں۔ اِن تمام بیانات میں لفظِ شریعت دکھائی دیتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کا لفظ قرآن مجید سے ماخوذ احکامات پر وارد کیا جاتا ہے اور سنت کے احکامات پر بھی۔ لہذا شریعت کا لفظ عام ہے، اِس سے کہ کوئی حکم قرآن مجید میں نازل ہوا ہو یا سنت سے منتقل ہوا ہو۔

چناچہ شریعت کے لفظ میں ایک معنوی احتمال پایا جاتا ہے۔ اسی احتمال نے غامدی صاحب کے تضاد کو ممکن بنایا ہے۔ اصول و مبادی کے دعویٰ سنت کو اگر بعینہ یہاں منتقل کیا جائے اور اِن تصریحات میں داخل کیا جائے، تو غامدی صاحب کے دعویٰ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ شریعت کے لفظ کو سنت کے لفظ سے بدل دیں:

”اس باب میں سنت [شریعت] کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں.“

یہ جملہ اس اندراج کو قبول کرنے سے ابا کرتا یے، کیونکہ سنت میں اِن محرمات کو موضوع ہی نہیں بنایا گیا۔ پھر اِس جملہ میں بھی دیکھیں:

”اِس معاملے میں سنت [شریعت] کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے اِسی بنا پر بعض جگہ ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔“

پہلے یہ کہنا کہ ’اس معاملے میں سنت کا موضوع اصلاً یہ چار چیزیں ہی ہیں‘ اور پھر کہنا کہ ’قرآن نے اسی بنا پر‘، یہ جملہ چیخ چیخ کر بولتا ہے کہ میرے ساتھ یہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ، یہ چار چیزیں اصلاً قرآنِ مجید کا موضوع ہیں؛ سنت کا موضوع ہیں ہی نہیں۔ دوسری وجہ، ’اسی بنا پر قرآن‘ کے الفاظ تقاضا کرتے ہیں کہ پیچھے قرآن مجید کی بات ہو، نہ کہ سنت کی۔

آخری بیان (محولہ بالا شق ر) میں خود غامدی صاحب نے صراحت فرما دی ہے کہ ان چیزوں کی حرمت قرآن مجید کی آیات سے قائم ہوئی ہے۔ لہذا یہ بات بہت یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ خور و نوش میں قرآن مجید کے احکامات زیرِ بحث ہیں اور یہ کہ غامدی صاحب کی یہ تمام تصریحات اِنھی احکامات سے متعلق ہیں۔

یہ تضاد محض شریعت کے لفظ کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتا۔ شریعت کا اطلاق کُل پر بھی ہوتا ہے اور اجزاء پر بھی۔ لیکن اجزاء پر اطلاق کا مطلب یہ نہیں کہ اجزائے کُل اپنی انفرادیت کو ختم کردیں۔ غامدی صاحب اسی مغالطہ میں مبتلا ہیں اور وہ قاری کو بھی وہ اسی مغالطہ میں مبتلا کرتے ہیں۔

غامدی صاحب اصول و مبادی میں بیان کرتے ہیں کہ دین قرآن مجید اور سنت کی صورت میں دیا گیا ہے اور یہ کہ قرآن مجید جس طرح امت کے اجماع، اور قولی اور تحریری تواتر سے ملا ہے، ویسے ہی سنت امت کے اجماع و عملی تواتر سے ملی ہے۔ اِن دونوں باتوں کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ غامدی صاحب خور و نوش کے باب میں سنت کے اجماع و تواتر سے دلیل لاتے۔ یہاں دلیل تو دور کی بات یے، اس دعویٰ کا ذکر بھی نہیں ملتا کہ محرماتِ طعام سنت ہیں۔ یعنی خور و نوش کے پورے باب میں یہ دعویٰ ہی مفقود ہے کہ محرماتِ طعام سنت ہیں۔ غامدی صاحب کا سارا زور دو مقدمات پر ہے۔ ایک یہ کہ خور و نوش کی حلت و حرمت کو اصلاً فطرتِ انسانی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ قرآن مجید نے محض چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ پہلے مقدمہ کے حق میں انھوں نے ’اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘ سے استدلال کیا ہے اور دوسرے مقدمہ کو انھوں نے ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور ’اِنَّمَا‘ سے موکد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خور و نوش کے پورے باب میں غامدی صاحب نے چار محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ اس کے حق میں کوئی دلیل دی یے۔ لہذا اصول و مبادی میں سنت کا دعویٰ اور خور و نوش کا باب آپس میں کسی تطبیق کے حامل نہیں۔ اگر دقت نظر سے اِس باب کا مطالعہ کیا جائے اور میزان کے گذشتہ ایڈیشن کو دیکھا جائے، تو معلوم ہوگا کہ خور و نوش کا باب بہت پہلے لکھا گیا تھا، جب غامدی صاحب کو ان محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا خیال نہیں سوجھا تھا۔ چونکہ وہ اِس بحث کو رقم کرچکے تھے اور اِن محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا خیال اّنھیں بعد میں سوجھا، لہذا تطبیق پیدا ہونا مشکل کام تھا۔ سنت پہلے ہو اور اس کا بیان بعد میں ہو، تو مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ لیکن اگر حکم کا بیان پہلے ہو اور سنت ہونے کا تصور بعد میں سوجھے، تو ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…