غامدی صاحب کا اپنے ہی اصولوں کو پامال کرنا | محرماتِ طعام سنت ہیں

Published On October 27, 2025
اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

اسرائیلی خونریزی اور جاوید احمد غامدی

تنویر قیصر شاہد اسرائیل کی وحشت اور دہشت کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی ملک، عالمی ادارے یا قانون کو ماننے پر تیار نہیں۔ فلسطین کی ایک چھوٹی سی پٹّی ، غزہ، میں محصور فلسطینیوں کے خلاف صیہونی اسرائیلی افواج کو بروئے کار آئے ہُوئے آج ایک مہینہ اور تین دن ہو چکے ہیں۔ اِس...

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی تلخیص : زید حسن غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ " حقوق العباد" معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔" ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا " میں عموم ہے ۔ البتہ" ان اللہ لا یغفر  ان یشرک...

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

موسیقی کی بابت غامدی صاحب کی رائے پر رد

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے موسیقی، میوزک ، انٹرٹینمنٹ  کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ جائز ہے یا ناجائز ؟ ارشاد فرمایا :  یہ سب حلال ہیں ۔ اور اپنے بیانیے کا مقدمہ اس طرح باندھا کہ "مختلف چیزوں کو حرام کہنا اور اسکے ذریعے سے استبداد پادریوں...

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

جمعہ کی نماز اور غامدی صاحب

ناقد : شیخ عبد الجبار بلال تلخیص : زید حسن ایک سوال کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے لئے جمعہ کا کیا حکم ہے ؟ غامدی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا اس پر ہمارے کچھ ملاحظات ہیں ۔ غامدی صاحب نے تین باتیں کیں جو درج ذیل ہیں ۔ اول ۔ " جمعہ ریاست پر فرض ہے "۔ اگر اس سے انکی...

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

جہانگیر حنیف

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے لیے یہ تضاد کیسے ممکن ہوا۔ اُنھوں نے اصول و مبادی کے آغاز میں محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا دعویٰ فرمایا اور خور و نوش کے باب میں اِنھی محرمات کو قرآن مجید سے ماخوذ احکامات کے طور پر پیش کیا۔ یہ اُن کے فکر و عمل میں ایک ایسا تضاد تھا، جسے بظاہر نبھانا مشکل ہے۔ لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب نے اِسے کیسے ممکن بنایا اور اِس کی کیا توجیہ ہے۔ ہماری نظر میں اِس کا صاف اور سادہ جواب لفظِ شریعت میں پوشیدہ ہے۔ غامدی صاحب جب سنن کی فہرست مرتب کرنے بیٹھے، تو اُنھوں نے محرماتِ طعام کے لیے سنت کی اصطلاح استعمال کی اور جس وقت وہ خور و نوش کے باب میں پہنچے، اُنھیں سنت کے لفظ کو استعمال کرنے میں دقت محسوس ہوئی، چناچہ اُنھوں نے سنت کے لفظ کو یکسر نظر انداز فرمایا اور اُس کے جگہ لفظِ شریعت کو اختیار کر لیا۔ ظاہر ہے کہ سنت کے لیے شریعت کا لفظ موزوں ہے اور اِس لفظ کے اختیار کرنے میں کوئی ضرر نہیں۔

چناچہ غامدی صاحب نے اصول و مبادی اور خور و نوش کے ابواب میں بظاہر ایک تطبیق اور ربط پیدا کیا۔ یہ ربط حقیقی ہے اور نہ لائق تصدیق۔ ہماری دعویٰ یہ ہے اور ہم اپنے دعویٰ کے حق میں دلائل پیش کریں گے کہ غامدی صاحب اِس تطبیق کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اُنھوں نے فہمِ دین کے معروف اصولوں کی خلاف ورزی تو کی ہی ہے، اِس سے بڑھ کر اُنھوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کو پامال بلکہ روند ڈالا ہے۔ اِن اصولوں کو ایسے کُچلا مَسلا گیا ہے کہ ایک طرف ان اصولوں کے بودے پن کا پول کھل گیا ہے اور دوسری طرف غامدی صاحب کے تعیینِ سنت کی مہم جوئی (enterprise) کی قلعی کھل گئی ہے۔

آئیں، پہلے ہم غامدی صاحب کی خور و نوش کے باب میں رقم تصریحات کو دیکھتے ہیں اور پھر اُن کے تجزیہ و تحلیل کے طرف بڑھتے ہیں:

”الف۔ اِن طیبات وخبائث کی کوئی جامع ومانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہیں کی گئی۔

ب۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اِس معاملے میں انسان کو اصلاً اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے ۔

ج۔ چنانچہ شریعت نے اِس طرح کی کسی چیز کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔

د۔ اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔

ذ۔ اِس معاملے میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے اِسی بنا پر بعض جگہ ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔

ر۔ یہ سب چیزیں، جس طرح کہ قرآن کی اِن آیات سے واضح ہے، صرف خورونوش کے لیے حرام ہیں۔“

یہ تمام تصریحات میزان کے باب خور و نوش سے منقول ہیں۔ جن محرمات کے بارے میں غامدی صاحب اصول و مبادی میں دعویٰ فرماتے ہیں کہ وہ سنت ہیں، اُن کے بارے میں یہاں ایک جگہ بھی لفظِ سنت استعمال نہیں کرتے۔ خور و نوش کا پورا باب سنت کے لفظ سے خالی ہے، ماسوائے تذکیہ کے بیان کے، جہاں انبیاء کی سنت کا ذکر ہے۔ وہاں بھی سنتِ رسول ﷺ کا ذکر نہیں۔ اِن تمام بیانات میں لفظِ شریعت دکھائی دیتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کا لفظ قرآن مجید سے ماخوذ احکامات پر وارد کیا جاتا ہے اور سنت کے احکامات پر بھی۔ لہذا شریعت کا لفظ عام ہے، اِس سے کہ کوئی حکم قرآن مجید میں نازل ہوا ہو یا سنت سے منتقل ہوا ہو۔

چناچہ شریعت کے لفظ میں ایک معنوی احتمال پایا جاتا ہے۔ اسی احتمال نے غامدی صاحب کے تضاد کو ممکن بنایا ہے۔ اصول و مبادی کے دعویٰ سنت کو اگر بعینہ یہاں منتقل کیا جائے اور اِن تصریحات میں داخل کیا جائے، تو غامدی صاحب کے دعویٰ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ شریعت کے لفظ کو سنت کے لفظ سے بدل دیں:

”اس باب میں سنت [شریعت] کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں.“

یہ جملہ اس اندراج کو قبول کرنے سے ابا کرتا یے، کیونکہ سنت میں اِن محرمات کو موضوع ہی نہیں بنایا گیا۔ پھر اِس جملہ میں بھی دیکھیں:

”اِس معاملے میں سنت [شریعت] کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے اِسی بنا پر بعض جگہ ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔“

پہلے یہ کہنا کہ ’اس معاملے میں سنت کا موضوع اصلاً یہ چار چیزیں ہی ہیں‘ اور پھر کہنا کہ ’قرآن نے اسی بنا پر‘، یہ جملہ چیخ چیخ کر بولتا ہے کہ میرے ساتھ یہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ، یہ چار چیزیں اصلاً قرآنِ مجید کا موضوع ہیں؛ سنت کا موضوع ہیں ہی نہیں۔ دوسری وجہ، ’اسی بنا پر قرآن‘ کے الفاظ تقاضا کرتے ہیں کہ پیچھے قرآن مجید کی بات ہو، نہ کہ سنت کی۔

آخری بیان (محولہ بالا شق ر) میں خود غامدی صاحب نے صراحت فرما دی ہے کہ ان چیزوں کی حرمت قرآن مجید کی آیات سے قائم ہوئی ہے۔ لہذا یہ بات بہت یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ خور و نوش میں قرآن مجید کے احکامات زیرِ بحث ہیں اور یہ کہ غامدی صاحب کی یہ تمام تصریحات اِنھی احکامات سے متعلق ہیں۔

یہ تضاد محض شریعت کے لفظ کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتا۔ شریعت کا اطلاق کُل پر بھی ہوتا ہے اور اجزاء پر بھی۔ لیکن اجزاء پر اطلاق کا مطلب یہ نہیں کہ اجزائے کُل اپنی انفرادیت کو ختم کردیں۔ غامدی صاحب اسی مغالطہ میں مبتلا ہیں اور وہ قاری کو بھی وہ اسی مغالطہ میں مبتلا کرتے ہیں۔

غامدی صاحب اصول و مبادی میں بیان کرتے ہیں کہ دین قرآن مجید اور سنت کی صورت میں دیا گیا ہے اور یہ کہ قرآن مجید جس طرح امت کے اجماع، اور قولی اور تحریری تواتر سے ملا ہے، ویسے ہی سنت امت کے اجماع و عملی تواتر سے ملی ہے۔ اِن دونوں باتوں کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ غامدی صاحب خور و نوش کے باب میں سنت کے اجماع و تواتر سے دلیل لاتے۔ یہاں دلیل تو دور کی بات یے، اس دعویٰ کا ذکر بھی نہیں ملتا کہ محرماتِ طعام سنت ہیں۔ یعنی خور و نوش کے پورے باب میں یہ دعویٰ ہی مفقود ہے کہ محرماتِ طعام سنت ہیں۔ غامدی صاحب کا سارا زور دو مقدمات پر ہے۔ ایک یہ کہ خور و نوش کی حلت و حرمت کو اصلاً فطرتِ انسانی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ قرآن مجید نے محض چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ پہلے مقدمہ کے حق میں انھوں نے ’اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘ سے استدلال کیا ہے اور دوسرے مقدمہ کو انھوں نے ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ اور ’اِنَّمَا‘ سے موکد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خور و نوش کے پورے باب میں غامدی صاحب نے چار محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ اس کے حق میں کوئی دلیل دی یے۔ لہذا اصول و مبادی میں سنت کا دعویٰ اور خور و نوش کا باب آپس میں کسی تطبیق کے حامل نہیں۔ اگر دقت نظر سے اِس باب کا مطالعہ کیا جائے اور میزان کے گذشتہ ایڈیشن کو دیکھا جائے، تو معلوم ہوگا کہ خور و نوش کا باب بہت پہلے لکھا گیا تھا، جب غامدی صاحب کو ان محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا خیال نہیں سوجھا تھا۔ چونکہ وہ اِس بحث کو رقم کرچکے تھے اور اِن محرماتِ طعام کے سنت ہونے کا خیال اّنھیں بعد میں سوجھا، لہذا تطبیق پیدا ہونا مشکل کام تھا۔ سنت پہلے ہو اور اس کا بیان بعد میں ہو، تو مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ لیکن اگر حکم کا بیان پہلے ہو اور سنت ہونے کا تصور بعد میں سوجھے، تو ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…