قرآن کے متواتر یا قطعی الثبوت ہونے کا مطلب

Published On October 27, 2025
داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

مولانا نیاز محمد مروت صاحب جناب جاوید غامدی صاحب نے مردوں کے داڑھی رکھنے کے معمول چلے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڑھی رکھنے کی عادت کا اعتراف کیا ہے ، جو کہ حق بات ہے، بشرطیکہ طبعی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ معمول کے طور پر داڑھی رکھنا مراد ہو، چنانچہ اس پر...

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب تلخیص : زید حسن اس ویڈیو میں سپیکر حافظ محمد زبیر صاحب نے " بعض افراد" کے اس دعوے کہ آپ کی تفہیمِ غامدی درست نہیں ، کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ لیکن اس پر از راہِ تفنن گفتگو کرنے کے بعد چند اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے اور غامدی منہج پر سوالات...

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

قرآن و سنت کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرنے والے جدید لوگ “قرآن تواتر سے منقول ہوا” پر خوب زور دیتے ہیں، لیکن اس جملے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ قرآن کے الفاظ میں شرعی دلائل ہیں اور ان کے متواتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنے قطعی، ظنی و مجمل دلائل کے ساتھ تواتر سے منقول ہوا ہے اس لئے کہ قرآن میں ہر طرح کے دلائل ہیں۔ قرآن کے سارے الفاظ کے قطعی الثبوت ہونے سے اس میں مذکور دلائل سے ثابت ہونے والے سارے احکام کا قطعی الدلالت ہونا تو کجا اتفاقی ہونے کے اعتبار سے قطعی الثبوت ہونا بھی لازم نہیں آتا، بہتیرے احکام قطعی الثبوت طریقے سے اختلاف کے ساتھ ہی منقول ہوئے ہیں (مثلا قروء کا معنی) — باالفاظ دیگر یہ بات قطعی الثبوت ہے کہ قرآن سے ثابت سب احکام قطعی الثبوت نہیں (یعنی اگر کوئی “اتمام حجت کے خاص قانون” کا اجتہاد کرکے یہ کہے کہ میرے نزدیک یہ حکم قرآن سے ثابت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم قطعی الثبوت بھی ہوگیا)۔ چنانچہ یہ بات قطعی ہے کہ قرآن کے سب احکام قطعی الدلالۃ نہیں، جو قرآن کے ظنی و مجمل امور کو قطعی کہے وہ بدعت کا مرتکب ہے، بدعت کا مطلب ایسا حکم شرعی ثابت کرنا ہے جس کی دلیل موجود نہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…