قرآن کے متواتر یا قطعی الثبوت ہونے کا مطلب

Published On October 27, 2025
تراویح کوئی نماز نہیں : جاوید غامدی کا انکار

تراویح کوئی نماز نہیں : جاوید غامدی کا انکار

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے یہ بات کی ہے کہ تراویح سرے سے کوئی نماز ہی نہیں ہے ۔ اور اسکی ابتداء حضرت عمر کے دور میں ہوئی ہے۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ آپ نبی ﷺ کے عمل کو دلیل بنا رہے ہیں اگرچہ وہ بھی دلیل نہیں بنتی کیونکہ حضور ﷺ نے تین دن باقاعدہ...

نظم، مراد،متکلم اور متن

نظم، مراد،متکلم اور متن

محمد حسنین اشرف   نظم:۔ پہلے نظم کی نوعیت پر بات کرتے ہیں کہ یہ کس نوعیت کی شے ہے۔ غامدی صاحب، میزان میں، اصلاحی صاحب کی بات کو نقل کرتے ہیں:۔ ۔" جو شخص نظم کی رہنمائی کے بغیر قرآن کو پڑھے گا، وہ زیادہ سے زیادہ جو حاصل کر سکے گا ، وہ کچھ منفرد احکام اور مفرد قسم...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (3)

مولانا مجیب الرحمن تیسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ۔ يكون في هذه الأمة بعث إلى السند والهند، فإن أنا أدركته، فاستشهدت فذلك وإن أنا رجعت وأنا أبو هريرة المحرر قد...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق (2)

مولانا مجیب الرحمن دوسری حدیث ، حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ :۔ اس بارے میں دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند اور  راویوں پر غور فرمائیں ، امام نسائی فرماتے ہیں: أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ر كريا بن عدى، قال: حدثنا عبد الله من عمر...

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

حدیث غزوہ ہند اور غامدی گروپ کی تحقیق

مولانا مجیب الرحمن غامدی صاحب کی ویب سائٹ پر موجود ایک کتاب کا مضمون بعنوان : غزوہ ہند کی کمزور اور غلط روایات کا جائزہ ایک ساتھی کے ذریعہ موصول ہوا ۔ بعد از مطالعہ یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اس مضمون کو سامنے رکھ کر حدیث غزوہ ہند پر اپنے مطالعہ کی حد تک قارئین کے سامنے...

سرگذشت انذار کا مسئلہ

سرگذشت انذار کا مسئلہ

محمد حسنین اشرف فراہی مکتبہ فکر اگر کچھ چیزوں کو قبول کرلے تو شاید جس چیز کو ہم مسئلہ کہہ رہے ہیں وہ مسئلہ نہیں ہوگا لیکن چونکہ کچھ چیزوں پر بارہا اصرار کیا جاتا ہے اس لیے اسے "مسئلہ" کہنا موزوں ہوگا۔ بہرکیف، پہلا مسئلہ جو اس باب میں پیش آتا ہے وہ قاری کی ریڈنگ کا...

ڈاکٹر زاہد مغل

قرآن و سنت کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرنے والے جدید لوگ “قرآن تواتر سے منقول ہوا” پر خوب زور دیتے ہیں، لیکن اس جملے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ قرآن کے الفاظ میں شرعی دلائل ہیں اور ان کے متواتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنے قطعی، ظنی و مجمل دلائل کے ساتھ تواتر سے منقول ہوا ہے اس لئے کہ قرآن میں ہر طرح کے دلائل ہیں۔ قرآن کے سارے الفاظ کے قطعی الثبوت ہونے سے اس میں مذکور دلائل سے ثابت ہونے والے سارے احکام کا قطعی الدلالت ہونا تو کجا اتفاقی ہونے کے اعتبار سے قطعی الثبوت ہونا بھی لازم نہیں آتا، بہتیرے احکام قطعی الثبوت طریقے سے اختلاف کے ساتھ ہی منقول ہوئے ہیں (مثلا قروء کا معنی) — باالفاظ دیگر یہ بات قطعی الثبوت ہے کہ قرآن سے ثابت سب احکام قطعی الثبوت نہیں (یعنی اگر کوئی “اتمام حجت کے خاص قانون” کا اجتہاد کرکے یہ کہے کہ میرے نزدیک یہ حکم قرآن سے ثابت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم قطعی الثبوت بھی ہوگیا)۔ چنانچہ یہ بات قطعی ہے کہ قرآن کے سب احکام قطعی الدلالۃ نہیں، جو قرآن کے ظنی و مجمل امور کو قطعی کہے وہ بدعت کا مرتکب ہے، بدعت کا مطلب ایسا حکم شرعی ثابت کرنا ہے جس کی دلیل موجود نہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…