قرآن کے متواتر یا قطعی الثبوت ہونے کا مطلب

Published On October 27, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی نے اگے کچھ مباحث بیان کیے ہیں جن کے بارے میں ہم اپنی گذارشات احباب کے سامنے پیش کرچکے ہیں ۔آگے انھوں نے ،، حدیث اور قران ،، کے زیرِ عنوان ان حدیثی مسائل پر لکھا ہے  جن کے متعلق ھہارے عام علماء کرام کا تصور یہ ہے کہ ان سے قران کے نصوص منسوخ...

از روئے قرآن بیان نسخ: احکام زنا کی تدریج کی روشنی میں غامدی صاحب کے تصور بیان کا جائزہ

از روئے قرآن بیان نسخ: احکام زنا کی تدریج کی روشنی میں غامدی صاحب کے تصور بیان کا جائزہ

ڈاکٹر زاہد مغل   مشرف بیگ اشرف جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ہاں "تبیین" کی بحث بہت کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور آپ کی رائے میں بیان وہ امر ہے جو لفظ یا صیغہ نیز سیاق کلام وغیرہ سے سمجھا جا سکتا ہو وگرنہ وہ نسخ یا ترمیم کہلائے گا جو کسی صورت بیان نہیں۔ اس کے لیے آپ کا...

لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

ڈاکٹر زاہد مغل ایک تحریر میں قرآن مجید کے متعدد نظائر سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کے محاورے کی رو سے نسخ، اضافہ، تخصیص و تقیید وغیرہ تبیین کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے لئے ہم نے قرآن مجید میں مذکور احکام سے استشہاد کیا تھا۔ یہاں ہم دو مثالوں سے یہ واضح کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس حوالے سے یہ ہے کہ جناب غامدی نے لکھاہے کہ ،، لہذا یہ بات عام طور پر مانی جاتی ہے کہ ان کی کوئی تعداد متعین نہیں کی جاسکتی  بلکہ ہر وہ قراءتِ قران جس کی سند صحیح ہو ، جومصاحفِ عثمانی سے احتمالا ہی سہی موافقت رکھتی ہو ، اور کسی نہ کسی پہلو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 32)

مولانا واصل واسطی قراءآتِ متواترہ پراعتراضات کے سلسلے کا اخری ٹکڑا یہ ہے جس میں جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، ان کی ابتدا ہوسکتا ہے کہ عرضہِ اخیرہ سے پہلے کی قراءآت پر بعض لوگوں کا اصرار اور ان کے راویوں کے سہو ونسیان سے ہوئی ہو  لیکن بعد میں انہی محرکات کے تحت جووضعِ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 31)

مولانا واصل واسطی تیسری گذارش اس آخری اعتراض کے سلسلے میں یہ ہے کہ ،، لیث بن سعد ،،  کے جس خط کا حوالہ جناب غامدی نے دیا ہے  اس سے پہلے دوفقروں میں اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ،، اس کے ساتھ اگر ان کے وہ خصائص بھی پیشِ نظر رہیں جوامام لیث...

ڈاکٹر زاہد مغل

قرآن و سنت کی بحث میں خلط مبحث پیدا کرنے والے جدید لوگ “قرآن تواتر سے منقول ہوا” پر خوب زور دیتے ہیں، لیکن اس جملے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ قرآن کے الفاظ میں شرعی دلائل ہیں اور ان کے متواتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنے قطعی، ظنی و مجمل دلائل کے ساتھ تواتر سے منقول ہوا ہے اس لئے کہ قرآن میں ہر طرح کے دلائل ہیں۔ قرآن کے سارے الفاظ کے قطعی الثبوت ہونے سے اس میں مذکور دلائل سے ثابت ہونے والے سارے احکام کا قطعی الدلالت ہونا تو کجا اتفاقی ہونے کے اعتبار سے قطعی الثبوت ہونا بھی لازم نہیں آتا، بہتیرے احکام قطعی الثبوت طریقے سے اختلاف کے ساتھ ہی منقول ہوئے ہیں (مثلا قروء کا معنی) — باالفاظ دیگر یہ بات قطعی الثبوت ہے کہ قرآن سے ثابت سب احکام قطعی الثبوت نہیں (یعنی اگر کوئی “اتمام حجت کے خاص قانون” کا اجتہاد کرکے یہ کہے کہ میرے نزدیک یہ حکم قرآن سے ثابت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم قطعی الثبوت بھی ہوگیا)۔ چنانچہ یہ بات قطعی ہے کہ قرآن کے سب احکام قطعی الدلالۃ نہیں، جو قرآن کے ظنی و مجمل امور کو قطعی کہے وہ بدعت کا مرتکب ہے، بدعت کا مطلب ایسا حکم شرعی ثابت کرنا ہے جس کی دلیل موجود نہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…